×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
گورنر پنجاب کا اصولی موقف اور سیاسی کھچڑی
Dated: 31-Aug-2008
25اگست کی شام میاں نوازشریف کی جذباتی پریس کانفرنس آن ایئر تھی، وہ یک طرفہ طور پر اتحاد توڑنے کا اعلان کر رہے تھے۔ یہ اتحاد ایک دن میں نہیں بنا تھا۔ اس کی بنیاد نوابزادہ نصراللہ نے اپنی ضعیفی اور بڑھاپے کے دوران اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر رکھی تھی جسے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے اپنے خون سے سینچا تھا۔ میاں نوازشریف پیپلز پارٹی پر الزامات لگائے چلے جا رہے تھے۔ میری طرح ہر محب وطن پاکستانی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے اتحاد کو عین چوراہے میں بے وقعت ہوتا دیکھ کر پریشان تھا میری نظروں میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی معیت میں کیا جانے والا سفر گھوم گیا۔ گاڑی نیویارک سے واشنگٹن کی طرف رواں دواں تھی۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو پاکستان کی سیاست اور رائج آمریت پر بات کر رہی تھیں۔ ان کے موبائل کی بیل ہوئی تو انہوں نے نمبر دیکھ کر کال کاٹ دی وہ بات مکمل کرنا چاہتی تھیں۔ اسی لمحے پھر گھنٹی بج اٹھی تو محترمہ نے what happened to them کہہ کر فون آن کیا۔ ان کے اس فقرے پر ہم ان کی طرف متوجہ ہو گئے۔ انہوں نے فون سنتے ہوئے حیرانگی سے ’’کیا!‘‘ کہا تو ہم چونک گئے۔ میں محترمہ کے ساتھ گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھا تھاجبکہ میرا بھانجا سمیر گاڑی چلا رہا تھا اور پی پی پی یو ایس اے کے رہنما خالد اعوان اگلی سیٹ پربیٹھے تھے۔ فون سنتے سنتے محترمہ کا رنگ سرخ ہو گیا۔ ’’کیا آپ نے نوابزادہ صاحب سے بات کی‘‘ محترمہ کی اس بات کا جواب مختصر تھا جس کے بعد انہوں نے فون بند کر دیا۔ میں نے ہمت کرکے پوچھ لیا ’’بی بی کیا ہوا؟‘‘ ان کا جواب تھا پاکستان سے فون تھا میاں صاحب خاندان سمیت جدہ جانے کے لیے ایئرپورٹ جا رہے ہیں۔ میاں صاحب کی پاکستان میں موجودگی سے ہمیں حوصلہ تھا کہ سیاسی قیادت ملک کے اندر موجود ہے۔ اے آر ڈی کا پلیٹ فارم ان کے پاس موجود تھا ہمیں امید تھی کہ آمریت کے خاتمے میں کم وقت رہ گیا ہے۔ لیکن نوازشریف نے سیاسی جماعتوں کی قیمت پر سودا کر لیا۔ مشرف اے آرڈی کو کمزور کرنا چاہتے تھے نوازشریف کو بیرون ملک بھیج کر انہوں نے یہ مقصد حاصل کر لیا۔ مشرف کی چالاکی اور میاں نوازشریف کے بھولپن سے جمہوریت کی منزل کوسوں دور چلی گئی ہے۔آج جبکہ محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت سے جمہوریت بحال ہوئی اور سیاسی جماعتو ں کی جدوجہد اور سینیٹر آصف علی زرداری صاحب کی بہترین منصوبہ بندی سے آمریت دفن تو ہو گئی مگر میاں نوازشریف نے اتحاد ختم کرکے جمہوریت کو زبردست دھچکا لگا دیا۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو آج ہمارے درمیان ہوتیں تو ان کو کتنا صدمہ ہوتا۔کیا محترمہ کو بہن کہنے والے میاں صاحب کو اس بات کا ادراک ہے ؟ پاکستان کے 16کروڑ عوام ابھی اس بات کو نہیں بھولے کہ میڈیا کے اوپر ہر روز ایک تماشا لگا ہوا تھا۔مشرف کے حواری ہر روز بیان دیتے تھے کہ میاں نوازشریف معاہدہ کرکے ملک سے گئے ہیں جبکہ میاں نوازشریف صاحب کے ساتھی اس بات سے ہمیشہ انکاری رہے کہ نوازشریف صاحب نے کوئی معاہدہ کیا ہے۔ خود شریف برادران بھی میڈیا کے روبرو مسلسل آٹھ سال اس بات سے انکاری رہے۔مگر جب ان کی پاکستان آمد سے کچھ عرصہ پہلے لبنان کے سابق وزیراعظم مرحوم رفیق الحریری کے صاحبزادے نے اس معاہدے کی حقیقت کو تسلیم کیا اور میڈیا میں اس کا بڑا شوروغل ہوا تو شریف برادران نے بھی اپنی آٹھ سالہ بیان بازی سے ہٹ کر سرتسلیم خم کر لیا۔اس طرح آٹھ سال تک عوام کو بے وقوف بنایا گیا۔ پیپلز پارٹی، مسلم لیگ ن اور دیگر اتحادی جماعتوں کے علاوہ اے پی ڈی ایم کا بھی یک نکاتی ایجنڈا ’’گو مشرف گو‘‘ تھا۔ آج پیپلز پارٹی نے اپنے وزن سے زیادہ قیمت ادا کرکے پرویز مشرف کو ماضی کا قصہ بنا دیا ہے تو کوالیشن پارٹنر کا آنکھیں پھیر لینا کس اصول اور ضابطے کے تحت جائز ہے۔ پیپلز پارٹی نے ججوں کی بحالی سے کبھی انکار نہیںکیا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری صاحب نے پھر یقین دہانی کرا دی ہے کہ معزول جج ضرور بحال ہوں گے۔ پیپلز پارٹی نے مسلم لیگ ن سے بحالی کے لیے وقت مانگا تھا مگر وہ موجودہ حالات کی سنگینی کا ادراک نہ کرتے ہوئے نہ صرف اتحاد سے باہر ہو گئے بلکہ انہوں نے عین اس وقت جب پیپلز پارٹی کو جس نے ہر مشکل وقت میں کوالیشن پارٹنر کے کندھے سے کندھا ملا کر ساتھ دیا اس کو تنہا کر دیا گیا۔ میاں نوازشریف نے خود آصف علی زرداری کو صدر بن جانے کی تجویز دی تھی۔ پیپلز پارٹی نے ان کو امیدوار نامزد کیا تو اس پر اعتراض کر دیا گیا اور ان کے مقابلے میں ایک متنازعہ شخصیت کو اپنا امیدوار بنا کر سامنے بھی لے آئے۔ میں ہی نہیں پوری قوم اسے سیاسی بلیک میلنگ قرار دے رہی ہے۔ (جسٹس سعید الزمان صدیقی وہی ہیں جنہوں نے سپریم کورٹ کے اندر متوازی سپریم کورٹ قائم کرکے عدلیہ کے منہ کے اوپر کلنک لگایا تھا)میڈیا گواہ ہے کہ ن لیگ اتحاد کا حصہ ہوتے ہوئے بھی درپردہ ق لیگ کے ساتھ رابطے میں تھی۔ یکطرفہ اتحاد توڑنے کے بعد ن لیگ کے رہنمائوں نے پروپیگنڈہ بھی شروع کر دیااور ن لیگ کی اعلیٰ قیادت نے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا میں آ کر پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف محاذ کھول لیا۔ دوسری طرف سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب نے بڑے پن کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف میاں نوازشریف سے معذرت کی بلکہ پیپلز پارٹی کے کسی بھی پارٹی رہنما نے کسی قسم کا جواب نہیں دیا۔اس لیے کہ ابھی تو ہاتھوں پر مہندی کا رنگ موجود ہے تو ایسی بے وفائی کی باتیں کیوں کر۔شریف برادران کے ساتھی جو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ہیں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر آ کر جس طرح اس اتحاد کی بچی کھچی محبتوں کو پامال کر رہے ہیں اس سے پاکستان سے محبت رکھنے والے اور جمہوریت کے متوالوں کو کوئی اچھا پیغا م نہیں جا رہا۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی ہر معاملے پر نظر ہے وہ جاندیدہ اور اعلیٰ پائے کے منتظم ہیں وہ 88ء سے 99ء تک کی سیاسی غلام گردشوں کے عینی شاہد ہیں ان کی خواہش ہے کہ پنجاب میں سیاسی کلچر تماشا نہ بنے۔ پارلیمنٹ اور پارلمٹیرین کا تقدس اور عزت پامال نہ ہو۔ ایک بار پھر ہارس ٹریڈنگ غلغلہ ہو نہ اراکین کی منڈیاں لگیں جہاں پر بولیاں دے کر حضرتِ انسان کو مصر کے بازارا میں خریدا اور بیچا جاتا ہے۔گورنر پنجاب نے پنجاب کے منتظم اعلیٰ ہونے کی حیثیت سے بالکل اپنی حدود میں رہ کر جب یہ جائزہ لیا ہے تو انہوں نے دیکھا کہ سیاست کو اسٹیبشلمنٹ کی للچائی ہوئی نظروں سے بچانا بہت ضروری ہے۔ یہ اسٹیبلشمنٹ کے ہی گُرگے ہیں جنہوں نے جعلی نوٹیفکیشن تیار کروا کے ٹی وی چینلز پر گورنر کے استعفیٰ کی خبر چلا کر سینیٹر جناب آصف علی زرداری صاحب کی صدارتی مہم کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن جناب مجید نظامی کی اعلیٰ ظرفی اورپروفیشنل نظروں نے اسے فوراً بھانپ لیا اور اس کی انتہائی سختی سے تحقیقات کروانے کا حکم دے دیا۔ سلیمان تاثیر بھی حالات و واقعات سے گھبرانے والے نہیں ہیں ان کی عظمت اور بہادری کا ایک واقعہ میری آنکھوں میں آج بھی وہ منظر گھوم رہا ہے جب 90ء کی دہائی میں سلیمان تاثیر کو گھر سے اٹھا کر تھانے میں بند کر دیا گیا تھا تو ہمیں اپنے پارٹی دوست کی گرفتاری کی خبر ہوئی ہم بھی تھانے جا پہنچے۔ حوالات میں صاف نظر آ رہا تھا کہ ان پر تشدد کیا گیا ہے ان کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور جسم زخموں سے نیلا تھا۔لیکن ان کے چہرے پر پریشانی کے کوئی آثار نہ تھے بلکہ وہ عزم حوصلے اور ہمت کی مجسم تصویر تھے۔ مجھے اپنے سوال پہ ان کا ایک فقرے پر مشتمل خوبصورت جواب آج بھی یاد ہے انہوں نے کہا:’’یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے‘‘میں سمجھتا ہوں گورنر پنجاب آج جس مقام پر کھڑے ہیں انہوں نے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے فلسفے ’’جمہوریت ہی سب سے بہترین انتقام ہے‘‘ کو اپنا شعار بنایا ہے۔وہ لاہور کے رہنے والے اور پنجاب کے مزاج کو سمجھتے ہیں۔اس لیے انہوں نے اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ حواریوں کو وارن کیا ہے کہ یہ کوئی ضلع ناظم کا الیکشن نہیں اور نہ ہی اب کی بار چھانگا مانگا کا جنگل سجے گایہ ا س ملک کے سب سے اہم اور ایگزیکٹو عہدے کا الیکشن ہے جس میں ہر کسی کو جو اہل ہے ووٹ ڈالنے کی اجازت ہے مگر اب کی بار نہ تو بلاکس بنانے کی اجازت ہو گی اور نہ ہی ضمیر کی منڈی بنانے کی۔میں سمجھتا ہوں کہ وزیراعلیٰ اور گورنر یہ دونوں ہی پنجاب کے ایگزیکٹو عہدے ہیں اور اپنی اپنی جگہ ان کی احترام عزت سے انکار ممکن نہیں اس لیے اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے رواداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔میری سوچ کے ساتھ یقینا پنجاب کے دس کروڑ عوام متفق ہوں گے کہ اگر ہمارے کوالیشن پارٹنر اچھے دوست ثابت نہیں ہو سکے تو کم از کم مشرقی روایات اور اقدار کے پیش نظر اچھے سیاسی حریف تو ضرور ثابت ہونے چاہئیں۔بقول شاعر: نہ تم بے وفا ہو نہ ہم بے وفا ہیں مگر کیا کریں اپنی راہیں جدا ہیں
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus