×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدر مملکت۔ ایل پی جی ایک قومی مسئلہ ہے
Dated: 15-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قریباً35سال پہلے ذوالفقار علی بھٹو شہید نے غریب اور پسے ہوئے طبقے کو ریلیف دینے کے لیے اور ان کے چولہے ٹھنڈے ہونے سے بچانے کے لیے فان گیس کو عام عوام کے لیے متعارف کروایا۔ یہ گیس سوئی گیس کا متبادل تھی ،جس کو مقامی طور پرڈیوس کیا جا سکتا تھا۔ مقصد اس پراجیکٹ کا صرف یہ تھا کہ جہاں جہاں سوئی گیس نہیں پہنچ پاتی وہاں وہاں سلنڈروں کے ذریعے اس سہولت کو پہنچایا جائے۔ پھر آہستہ آہستہ یہ بزنس ایک پوری صنعت کا درجہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گیا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید کے دور کے بعد جنرل ضیاء الحق، محمد خان جونیجو، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، میاں نوازشریف اور پھر جمالی تک تو سبھی وزرائے اعظم نے سیاسی وابستگیوں کی بناء پر اس کے کوٹے جاری کیے اور اپنی اپنی من پسند افراد کو نوازا۔ اس سیاسی نوازے گئے افراد میں اس ملک کے کئی بے داغ چہرے بھی شامل ہیں اور عوام کی نظروں سے ان کا یہ روپ پوشیدہ ہے۔ اس وقت OGDC کے علاوہ پارکوPARCOاور JJVLجامشورہ جوائنٹ ایڈونچر لمیٹڈ کمپنیاں ایل پی جی گیس پر مناپلی کا دعویٰ کرتی ہیں۔ اس وقت وطن عزیز میں ایل پی جی گیس کی روزانہ ڈیمانڈ 1250ٹن ہے جبکہ ہماری سرکاری و غیر سرکاری کمپنیاں 1100 ٹن روزانہ ایل پی جی گیس پیدا کر رہی ہیں، جبکہ 150ٹن ایل پی جی روزانہ درآمد کی جا رہی ہے۔ درآمد کرنے والے ممالک ایران اور عمان ہیں۔یہ سب ایک سسٹم اور تواتر سے چلتا رہا مگر جب شوکت عزیز صاحب نے وزارت عظمیٰ سنبھالی تو موصوف نے ایک حقیقی بیوروکریٹ کی طرح اس چلتے ہوئے سسٹم پر شب خون مارا اور ملائشیا کی ایک کمپنی جو کویت کے اشتراق سے کام کرتی تھی جس کا نام PROاور وہ ایک ملٹی نیشنل کمپنی تھی سے ایل پی جی سے معاہدہ کر لیا اور پھرمشہور زمانہ ’’آرام کو‘‘ اور ’’PRO‘‘ نے ایل پی جی جس کی تب تک مارکیٹ میں قیمت 30روپے کلو تھی کو 70روپے کلو تک پہنچا دیا۔ اس طرح ایل پی جی کو عام عوام کی دسترس سے دور کر دینے کا ہدف غیر ملکی کمپنیوں کو دے دیا گیا پھر انہی شوکت عزیز صاحب اور مشرف کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں بغیر سوچے سمجھے ’’سی این جی‘‘ اسٹیشن کھولنے کا اعلان کر دیا گیا اور اس وقت اس پالیسی کا ہی ثمر ہے کہ آج پنجاب بھر میں 2200سی این جی اسٹیشن قائم ہیں جبکہ انتہائی ترقی یافتہ ممالک میں بھی گیس کو گاڑیوں اور پبلک ٹرانسپورٹ کو دینے کا عمل بہت کم ہے۔ امریکہ، انگلینڈ، یورپ بھر صرف بڑے چند شہروں میں سرکاری بسوں کے لیے گرین گیس کے نام سے اسٹیشن قائم کیے گئے ہیں مگر گیس اور پٹرول کے درمیان کسی بڑے فرق نہ ہونے کی وجہ سے پبلک کا رحجان زیادہ تر پٹرولیم کی طرف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں تمام چھوٹی بڑی گاڑیاں سی این جی پر منتقل ہو چکی ہیں، جس کی وجہ سے گھریلو صارفین کے چولہے اکثر بند رہنا شروع ہو گئے ہیں ۔ اسی پر موقوف نہیں بلکہ ہماری پوری انڈسٹری جو کہ بجلی کی لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں لب جاں تھی کو گیس کی بھی لوڈشیڈنگ کرکے ختم کر دیا گیا ہے۔ لاہور، کراچی، فیصل آباد، گوجرانوالہ،سیالکوٹ اور تمام چھوٹے بڑے شہروں میں اب بجلی کے ساتھ ساتھ گیس بھی تقریباً ہفتہ میں 4روز بند رہتی ہے جس سے پریشان ہو کر ہمارے چھوٹے درمیانے اور بڑے انڈسٹری مالکان نے اپنے کارخانے بند کرکے مزدوروں کو چھٹی کروا دی ہے اور زیادہ تر مالکان بنگلہ دیش، ملایشیا، دوبئی سدھار گئے ہیں جو باقی بچے ہیں وہ جانے کی تیاری میں ہیں۔ اس طرح گیس اور لوڈشیڈنگ کے ہاتھوں ملکی معیشت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔ جبکہ موصوف شوکت عزیز نے جب ایل پی جی مہنگی کی تو جامشورو جوائنٹ ایڈوانچر لمیٹڈ نے جو کہ 200ٹن ایل پی جی روزانہ پیدا کرتی ہے۔ سرکاری ریٹ سے چار ہزار سے چھ ہزار روپے پر ٹن گیس سستی فروخت کرنے کا اعلان کر دیا۔ معاملہ عدالت میں گیا تو عدالت عظمی نے فیصلہ جامشورو جوائنٹ ایڈونچر لمیٹڈ کے حق میں کر دیا کہ عوام کو ریلیف دینا کوئی جرم نہیں۔ اس وقت تقریباً 70مارکیٹنگ کمپنیاں ایل پی جی کو پبلک سیکٹر میں فروخت کر رہی ہیں اور ہزاروں لوگوں کا روزگار اس فیلڈ سے وابستہ ہے۔ مگر بھلا ہو عوامی ووٹوں سے منتخب ہونے والی ہماری موجودہ حکومت کا جس کے وزیر نہ کبھی پیپلزپارٹی سے تعلق رکھتے تھے نہ اب ان کا تعلق پیپلزپارٹی سے ہے، مگر موصوف کو پتہ نہیں کونسی کوالیفکیشن کی بنیاد پر پہلے سینیٹر پھر وزیر پٹرولیم اور قدرتی وسائل بنا کر مسلط کر دیا گیا ہے۔موصوف وزیر نہ پہلے عوامی تھے اس لیے عوامی مسائل کی سوجھ بوجھ سے بے خبر عوام کے پائوں نیچے سے زمین کھسکا رہے ہیں۔ وزیر موصوف نے ایل پی جی کی قیمتوں میں 70روپے تک کا اضافہ کرکے روٹی، کپڑا اور مکان کے نعرے کے پرخچے اڑا دیئے ہیں اور آئندہ الیکشن میں جب پیپلزپارٹی ووٹ مانگنے جائے گی تو عوام کہیں کے جس نے ہمارے چولہے ٹھنڈے کر دیئے ان کے لیے ہمارے دروازے بند ہو چکے۔ یہ معاملہ عدالت میں گیا جہاں پچھلے دنوں عدالت عالیہ نے صارفین کے حق میں فیصلہ دے کر عوام کے جذبات کو مشتعل ہونے سے بچا لیا اور اب ایل پی جی 110روپے کلوفروخت ہو رہی ہے جو پچھلے ماہ 170روپے کلو ہو گئی تھی۔ مجھے عوام اور قارئین نوائے وقت کی ایک بڑی تعداد نے اس موضوع پرلکھنے کو کہا اور اکثر لوگوں نے یہ دہائی دی کہ ایک ڈکٹیٹر کے ساتھ وزیراعظم اگر مہنگائی کا تحفہ عوام کو دیتا ہے تو عوام اسے عذاب الٰہی سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں مگر جب پاکستان پیپلزپارٹی کے صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب جو اپنی شریک حیات شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے خون اور خاندان کی قربانیوں کے ثمر میں صدر بنیں تو عوام جمہوریت کی وارثت سے کچھ اور ہی توقع رکھتے ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو شہید کے داماد اور نواسے اور وارثوں سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ انہیں جینے کا نہ صرف حق دیا جائے بلکہ روٹی، کپڑا ،مکان ،چادر اور چاردیواری کے تحفظ کا وعدہ بھی پورا کیا جائے۔ اس ملک کے بیس کروڑ عوام صدر مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب سے پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ جناب آپ کے یہ وزیر سخت وقت آنے پر اپنے اثاثوں سمیت بیرون ملک بھاگ جائیں گے اور اپنے پیچھے یہ صرف اپنے کیے ہوئے ’’کرتوت‘‘ اور داغ چھوڑ جائیں گے، جن کو دھونے اور مٹانے میں آصف علی زرداری اور میرے جیسے ساتھی رہ جائیں گے، جیلوں میں سڑنے کے لیے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے کے لیے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus