×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہماری ’’گولڈ میڈل یافتہ آئی ایس آئی‘‘
Dated: 18-Oct-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ایک محب وطن پاکستانی کی طرح مجھے بھی شوق ہے کہ میں فخر سے یہ کہہ سکوں کہ ہماری قومی ہاکی ٹیم نے، ہماری کرکٹ ٹیم نے فلاں ٹیم کو ہرا دیا۔ ہم ورلڈ کپ جیت گئے، ہم گولڈ میڈل جیت گئے۔ بچپن میں جب کبھی قومی ہاکی ٹیم میڈل جیتی تو پورے ملک میں ایک جشن کا سا سماں ہوتا، لوگ دیوانہ وار بھنگڑے ڈالتے نہ تھکتے تھے۔ پھر نہ جانے ہمیں کس کی نظر لگ گئی کہ ہم نے جیتنا چھوڑ دیا۔ ہم نے اپنے اسلاف سے روگردانی کی ،جیتنے کے جذبے ہم میں ناپید ہونے لگے۔ پے در پے شکستوں کے بعد قوم کا مورال اس قدر نیچے آیا کہ یہ باتیں ہونے لگی کہ خدانخواستہ ہم ایک قوم ہی نہیں، یہ ایک ہجوم ہے اور ہجوم قوم نہیں ہوتی۔ دراصل اس فلسفہ کو پاکستانی قوم کے ذہنوں میں بٹھانے کے لیے ہمارے مکار دشمن نے اپنے خزانے کے منہ کھول دیئے تھے۔ دراصل یہ جنگ اس دشمن نے دو قومی نظریہ کو غلط ثابت کرنے کے لیے شروع کی تھی۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد دشمن نے کتنے فخر سے کہا تھا کہ ہم نہ کہتے تھے کہ تقسیم ہند ایک غلط قدم تھا اور یہ کہ آج ہم نے دو قومی نظریہ کو بحیربنگال میں غرق کر دیا ہے۔ دراصل سقوط ڈھاکہ کے اثرات آج بھی ہماری ملی سوچ پر ثبت ہیں۔ وہ ایک ایسا سانحہ تھا کہ جس کے اثرات شاید برسوں ایک آسیب کی طرح ہمارا پیچھا نہ چھوڑیں۔ پلٹن گرائونڈ میں مکار دشمن نے جس طرح ہمارے فلسفے، ہمارے فخر ہمارے، یقین کا مذاق اڑایا اس کو بھلا دینا ہماری غیرت کبھی گوارہ نہ کرے گی۔ اتنے سالوں گزر جانے کے بعد کبھی ہم نے سوچا ہے کہ ایسا کیوں ہوا تھا؟ وہ کونسے محرکات ہیں جنہوں نے ہمیں رسوا کیا؟ یقینا71ء کی جنگ کے بعد جب شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایک ٹوٹی پھوٹی اور بکھری قوم کو اکٹھا کیا اور پھر بڑی خوبصورتی اور راز سے نیوکلیئر طاقت بننے کی معصوم خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے گھاس تک کھانے کا عزم دہرایا۔ تو یہ قوم ایک دفعہ پھر متحد ہو گئی نہ صرف خود بلکہ عالم اسلام کو ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کرکے یہودی، صیہونی اور ہندو لابی کو ایک ایسا شاک دیا جس کے اثرات اس وقت یورپین سربراہان کے چہروں سے عیاں تھے۔ یہی وجہ تھی کہ جمی کارٹر نے ،ہنری کسنجر نے ایک ایسا لیڈر چھین لیا جو غریب کے گھر کی چھت ٹپکنے پر آبدیدہ ہو جاتا تھا۔ پھر پچھلے 64سال میں 35سال سے زائد مارشل لائوں نے ہماری اساس کو کھوکھلا کر دیا۔ ہماری اندرونی خلفشار نے ہمارے رہے سہے مورال کو بھی ہم سے چھین لیا۔ مگر پھر جلد ہی قدرت نے ہمیں ایک موقع دیا کہ ہم اپنے دشمنوں سے حساب چکتا کر سکیں۔ تقدیر گھیر کر سویت یونین کو افغانستان میں لے آئی۔ یا یوں کہیے کہ عشروں سے چھڑی سرد جنگ جو امریکہ اور روس کے درمیان تھی وہ سوویت یونین کو مقتل گاہ لے آئی۔ہماری فوج کی انٹیلی جنس ونگ ’’آئی ایس آئی‘‘ نے اس روس کو بھارت کا ساتھ دینے کا مزہ چکھانے کا فیصلہ کر لیا اور دنیا کی اس وقت کی سپرپاور افغانستان میں جنگ ہار کر نہ صرف یہ کہتے ہوئے نکلی ’’کہ بڑے رسوا ہو کر تیرے کوچے سے ہم نکلے‘‘ اور پھر اس طرح نکلے کہ سوویت یونین دو درجن ریاستوں میں بٹ گیا۔ اور ابھی نہ تھمنے والی جنگ جاری ہے اور روس مزید حصے بخرے کا شکار ہوگا۔ یہ تھا وہ انتقام جو آئی ایس آئی نے دنیا کی سپرپاور کو شکست سے دوچار کرکے پورا کیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان کے سابقہ ڈکٹیٹروں نے بھی ملک کے ان اداروں کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے استعمال کیا اور ہر چند سال بعد جمہوریت کو پٹری سے اتارنے میں معاون کا کردار ادا کیا مگر ذرا ایک لمحے کے لیے سوچئے؟ کہ کیا جمہوریت کو ہمیشہ آمروں نے ’’ڈیل ریل‘‘ کیا یا پھر ایسے سیاست دان بھی موجود تھے جنہوں نے اقتدار میں نقب لگا کر آنے کا فن حاصل کر لیا تھا۔ آج تک وطن عزیز میں جتنے بھی مارشل لاء لگے وہ سب سیاست دانوں کی اندرونی خلفشار اور ایک دوسرے کی ٹانگیں کھینچنے کی وجہ سے لگے اور ہمارے پیارے راہنمائوں نے فوج کو ہمیشہ دعوت دی، خطوط لکھے، ملکی سلامتی کے واسطے دے کر اقتدار کے بھوکے پجاریوں نے فوج کے کندھے پربندوق رکھ کر جمہوریت کو فتح کیا۔ کیا عوام کا حافظہ اتنا کمزور ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ جمہوریت کے داعیوں نے آمروں کی آمد پر مٹھائیاں بانٹیں؟ پاکستان کے تقریباً ہر سیاسی خانوادے نے آمریت کے دور میں وزارتیں سفارتیں اور مراعات حاصل کیں۔ یہ ہماری کرتوتوں کا ثمر ہے کہ آج ہم عالمی دنیا میں اپنے وقار کھو چکے ہیں اور موردالزام فوج اور آئی ایس آئی کو ٹھہراتے ہیں جبکہ ہم سیاست دان صرف یہ چاہتے ہیں کہ جب کبھی بھی ہمارے اقتدار کو خطرہ ہو تو یہ پاک فوج اور اس کے انٹیلی جنس ادارے ہماری حفاظت کریں۔ ہم ملک و قوم کو لوٹتے رہیں اور یہ ہمیں مال غنیمت سمیٹ سمیٹ کر دیتے رہیں؟ کیا پاک فوج اور آئی ایس آئی کا یہ کام ہے کہ وطن عزیز میں لوٹ کھسوٹ کا بازار سرگرم ہو۔ ہر طرف بدامنی کی آگ لگی ہو۔ چادر اور چاردیواری کی حرمت کے پرخچے اڑائے جا رہے ہوں۔ وزراء اربوں روپے کے اثاثے بنا کر مال ملک سے باہر بجھوا رہے ہوں۔ ہمارے پارلیمنٹیرین کی ایک بڑی تعداد امریکہ، کینیڈا، ملایشیا، دوبئی، حتیٰ کہ بنگلہ دیش سدھار چکے ہوں یا پھر اس کی تیاری میں ہوں۔ جب وطن عزیز میں گندم ، پانی، بجلی، گیس ، ادویات ، پٹرول ،چینی کا بحران ہو اور وزراء اور حکمران منافع خوروں کی طرح اپنے ہی عوام کوفاقوں پر مجبور کر دیں۔ بھوکے ننگے مفلوک الحال عوام چند لقموں کو ترسیں اور حکمران لندن کے مہنگے علاقوں میں اسّی(80)کروڑ کے اپارٹمنٹ خریدیں؟ ہمارے حکمرانوں کے غیر ملکی اکائونٹ اربوں ڈالر مالیت کے ہو جائیں اور عوام کے پاس مچھر مارنے کی دوا کے پیسے بھی نہ ہو تو پھر بھی ہماری فوج ہماری آئی ایس آئی یہ سب طرفہ تماشا دیکھتی رہے؟کیا ملک کو بچانا پاک فوج کی ذمہ داری نہیں کیا اندرونی اور بیرونی دشمن میں کوئی فرق ہوتا ہے۔ گولی اندر سے چلے یا باہر سے ہر دو صورتوں میں نقصان ملک کے عوام کا ہوتا ہے اور اگر ہمارے محافظ ہماری فوج ،ہماری پولیس ،ہمارے ادارے یہ سب دیکھتے رہیں تو پھر عوام یہ سمجھنے میں حق منجانب ہوں گے کہ ’’چورسپاہی۔بھائی بھائی‘‘والا معاملہ ہو گیا ہے۔ ایک سیاسی کارکن ہونے کے ناطے مجھے یہ کالم یہ تحریر لکھتے ہوئے آج ملال نہیں ہو رہا کیونکہ اگر ملک ہی نہ رہا خدانخواستہ تو پھر ہم سیاست کہاں کریں گے؟ ہم حق حکمرانی کس پر جتائیں گے؟ آج لندن میں اپنے بھائی کے گھر اپنی پیاری بھاوج ’’آمنہ عمر‘‘ کے انتقال پر آیا ہوں جو ہمیں داغ مفارقت دے کر ہم سے روٹھ کر چلی گئی ہے۔ یہاں ڈھیروں پاکستانی دوست احباب آ رہے ہیں یقینا موضوع گفتگو پاکستان کی موجودہ صورت حال ، سیاسی تناظر میں کسی چل رہی ہے سے شروع ہوتی ہے اور پھر نہ تھمنے والی نہ رکنے والی بحث کا آغاز ہو جاتا ہے۔ آج موضوع آئی ایس آئی کا کردار تھا۔ میرا بھائی دوستوں کو بحث میں چھوڑ کر اٹھا ’’لیپ ٹاپ‘‘ اٹھا لایا کچھ صفحات الٹے تو پھر ہمیں دکھانے لگا ایک نئی رپورٹ جو ایک عالمی ادارے نے مرتب کی ہے اور جس کی رپورٹ کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ دنیا کے 10بڑے اور مضبوط و مربوط انٹیلی جنس اداروں کا نہ صرف احوال بیان کیا ہے بلکہ ان کی کارکردگی کی بناء پر رینکنگ لسٹ بھی جاری کی ہے۔ عمر نے پہلا صفحہ کھولا دسویں نمبر پر تھی آسٹریلیا کی ASIS،نمبر9 پر انڈیا کی RAW،نمبر8پر فرانس کی GDSE،نمبر7پر روس کیFSBجو کہ KGBکی رحلت کے بعد معرض وجود میں آئی۔ نمبر6جرمنی کی BND،نمبر5پر چائنا کی MSS،اور نمبر4امریکہ کی CIA،نمبر3پر انگلینڈ کی MI-6، نمبر2پر اسرائیل کی MOSSAD، میرا دل دھک دھک کرنے لگ گیا تھا اب دسواں صفحہ الٹنے والا تھا عمر نے جیسے ہی پیچ اوپن کیا کمرے میں موجود درجن بھر افراد نے سکرین پر سبزہلالی پرچم دیکھا اور نعرہ مستانہ بلند کیا’’ پاکستان زندہ باد‘‘ ہماری آئی ایس آئی ورلڈ رینکنگ پر پہلے نمبر پر تھی۔ 1948ء میں تشکیل پانے والے اس ادارے کی تاریخ کامیابیوں کامرانیوں سے بھری پڑی ہے۔KGBکا بسترا گول کرنے والی اس انٹیلی جنس ادارے میں باقاعدہ 10,000ہزار افراد بھرتی ہیں جو خطے میں بھارت کی شدید خواہش کہ وہ عدم توازن پیدا کر سکے کی مخالف کامیابی سے نبردآزما ہیں اور دنیا مانتی ہے کہ اپنے محدود وسائل کے باوجود آئی ایس آئی عالمی رینکنگ پر گولڈمیڈل پوزیشن پر ہے۔ اور اب سمجھ آتی ہے کہ امریکہ اور یورپین اتحادی آئی ایس آئی سے خوفزدہ کیوں ہیں؟ سانحہ ایبٹ آباد رونما کرکے امریکی پینٹاگون اور سی آئی اے ایک طرح سے آئی ایس آئی کو خوفزدہ کرنا چاہتے تھے مگر وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ نائن الیون کے دن بیک وقت 5طیاروں کا ہائی جیک ہونا امریکی وسائل یافتہ سی آئی کے منہ پر طمانچہ تھا۔ پاکستانی قوم کو فخر ہونا چاہیے کہ وہ ایک مضبوط پاک فوج اور آئی ایس آئی کے ہاتھ میں خود کو کمزور یا تنہا محسوس نہیں کرتے۔ مستقبل اور آج جنگیں اب سرحدوں پر نہیں انٹیلی جنس ادارے لڑیں گے اور ہم دنیا کا گولڈ میڈل یافتہ ادارہ آئی ایس آئی رکھتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus