×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
وطن کو درپیش چیلنجز اور پیپلزپارٹی کا خاموش تماشائی کردار
Dated: 12-Nov-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com طبلِ جنگ بج چکا ہے اور آنے والے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے مختلف سیاسی دھڑے اور پارٹیاں اپنی اپنی صفیں درست کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ رواں ماہ میں ملک کے سیاسی حالات کچھ اس تیزی سے بدلے کہ لگنے لگا جیسے ایڈونچر سے بھرپورکوئی فلم دیکھ رہے ہیں ۔ پہلے پاکستان مسلم لیگ ن کے پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب میاں شہبازشریف نے اپنی طاقت کامظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف نئی تنظیموں کو آزمائش میں ڈالا بلکہ اس ریلی کے اصل دولہا میاں نوازشریف کی غیرملکی یاترا کے دوران اس ریلی کا انعقاد کرکے مختلف سمتوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ اقتدار اور طاقت کا منبع ان کے ہی اطراف گھومتا ہے۔ اندرون لاہور پر یقین رکھنے والے اس خاندان کو سیاست کے خاردار میں قدم رکھتے ہی لاہوریوں کا پیار کچھ اس انداز سے ملا کہ لاہور کو میاں برادران کا لاڑکانہ کہا جانے لگا۔ بھاٹی، لوہاری، لکشمی اور دلی دروازے کے مکین آج بھی میاں نوازشریف اور ان کے خاندان کے ساتھ اپنے تعلق کو مشہور لاہوری زبان میں جہاں ’’جگر‘‘ قرار دیتے ہیں وہیں میاں برادران کے غیر لچک دار رویئے سے چند لوگ خفا بھی ہیں۔ خاص طور پر شتر بے مہار بیوروکریسی جو میاں شہباز شریف کے سخت رویئے سے نالاں ہے کو موقع مل گیا کہ اس ریلی میں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرکے میاں برادران کو یہ پیغام دے سکے کہ سیاست کے میدانوں میں کنگ میکر بھی بیوروکریسی کے کردار کو فراموش نہیں کر سکتے۔ کرپشن کو ایشو بنا کر نکالی جانے والی اس ریلی کی کامیابی یا جزوی کامیابی پر ابھی تبصرے جاری تھے کہ محترم عمران خان نے مینار پاکستان پر جلسہ کا اعلان کرکے سیاسی قوتوں کو خواب غفلت سے جاگنے پر مجبور ضرور کیا کہ وہ سیاسی جماعت جسے قومی جماعت قرار دینا قبل از وقت ہے۔ جس کے ٹکٹ ہولڈروں نے الیکشن 2002ء میں عمران خان کی سیٹ کے علاوہ کہیں بھی دس ہزار کے ہدف کراس نہ کیا۔ جس پارٹی نے اپنی پندرہ سالہ سیاسی زندگی میں ہونے والے تین قومی الیکشنوں میں سے دو کا عین وقت پر بائیکاٹ کر دیا ہو اور پھر بھی لاہوریوں کے جلد نہ جاگنے کا گلہ کریں۔ حالانکہ لاہور کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ لاہوری تو وہ قوم ہیں جو علی الصبح اٹھ کر ’’پھجے اور حنیفے‘‘ کا ناشتا کرنا اپنی زندگی کا جزو سمجھتے ہیں اور اس کے لیے شاید وہ سوتے بھی نہیں کہ ناشتہ کرکے ہی سوئیں گے۔ تحریک انصاف کے کامیاب جلسہ کے بعد چاہے حالات کس نہج پر گئے ہوں گے۔ پنجاب کی حکمران پارٹی مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں ہلچل ضرور مچی۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ترکی کے دورے کے بعد وطن واپسی پر میاں نوازشریف نے پارٹی ورکنگ کونسل کا اجلاس طلب کر لیا۔ نقاد کہتے ہیں کہ تحریک انصاف کے جلسے میں بندے کسی اور پارٹی کے تھے اور جھنڈے کسی اور پارٹی کے تھے(اللہ و علم والغیب) غیب کا علم صرف اللہ رب العزت کی ذات کو ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ یہ بندے غیب سے درآمد ہوئے؟مگر اس تمام بحث سے قطع نظر کے جیت کس کی ہوئی؟ پاکستان پیپلزپارٹی کی’’سیاسی مجرمانہ‘‘خاموشی نے پارٹی کے کارکنان کے منہ پر لگے بند تالے کھول دیئے ہیں۔ کیا پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ میاں برادران کو پنجاب سے آئوٹ کرنے کے لیے اس کی لگامیں عمران خان کے ہاتھ میں دینے کا فیصلہ سچ ہے؟ پیپلزپارٹی ماضی میں پہلے بھی ایسے غیر عوامی فیصلے کر چکی ہے جسے 85ء کے جنرل الیکشن کا بائیکاٹ جس نے آگے چل کر ملکی سیاست کے انداز کو ایسے بدلا کے اس کے بعد ابھی تک اس کے اثرات باقی ہیں۔پھر 1988ء کے اقتدار کے دوران میاں برادران کو قومی ہیرو بنا دینا بھی پیپلزپارٹی کی سیاسی غلطیوں کا تسلسل تھا۔ سیانے کہتے ہیں کہ اپنی ’’پگ‘‘ کسی کے سر پر نہیں رکھتے جبکہ پیپلزپارٹی کم از کم پنجاب کی حد تک غیر عوامی فیصلے کرکے پہلے ہی جیالوں کے عتاب کا شکار ہے۔ گذشتہ روز پیپلزپارٹی نے پنجاب تنظیم کے حصے بخرے کرکے نہ صرف پنجاب کے جیالوں کو ’’جھٹکا‘‘ دیا ہے بلکہ یہ ایسا شاک ہے جس سے پیپلزپارٹی کے کارکنان تاحال حیران ہیں کہ ایسی کونسی مصلحت تھی کہ پیپلزپارٹی کو بھی تقسیم پنجاب کی ذمہ داری سونپی گئی ہے؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ صرف میاں برادران کو پنجاب کی سیاست سے آئوٹ کرنے کے لیے اپنی ہی وکٹیں گرانے کا فیصلہ کیاگیا ہو؟ جبکہ پیپلزپارٹی کی موجودہ حادثاتی قیادت شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی وفاق کی علامت کے فلسفے کو جنوبی پنجاب کے صحرائوں میں گم کرنا چاہتی ہے؟ جبکہ مخدوم شہاب الدین کو جنوبی پنجاب کا صدر بنا کر تقسیم پنجاب کی بنیاد رکھ دی گئی ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر کیا پاکستان پیپلزپارٹی سندھ میں بھی دو صدور کی نامزدگی کرکے اس کو بیلنس کرنا پسند کرے گی؟ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی چوالیس سالہ تاریخ صرف اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگتنے میں گزر گئی ہے۔ جبکہ پارٹی کی اعلیٰ مرکزی قیادت کے ساتھی مشکل حالات میں وعدہ معاف گواہ نہ بھی بنے تو ملک سے بھاگ ضرور جائیں گے۔ ایک جیالا رو کر بتا رہا تھا کہ موجودہ کابینہ کے ایک اہم وزیر مشرف دور کے سندھ کے سابق وزیر اعلیٰ ارباب رحیم کی کابینہ کے ایڈوائزر تھے جو ہمیشہ ارباب رحیم کے قدموں میں بیٹھنے کو اپنی عزت افزائی سمجھتے تھے(یہ وہی ارباب رحیم ہیں جن پر 18اکتوبر کی شہید محترمہ کی ریلی کے دوران بم دھماکوں کا الزام تھا)اور جن کو بعدازاں موجودہ اسمبلی کے پہلے اجلاس میں بھی جیالوں کی طرف سے ’’عزت افزائی‘‘ بخشی گئی۔موجودہ ملکی حالات کے تناظر میں جبکہ قیادت کے فقدان کا دور ہے پیپلزپارٹی کی سنگین ملکی معاملات پر مجرمانہ خاموشی اور میثاق جمہوریت کی شہادت کے بعد تحریک انصاف کو قربانی کا بکرا بنا کر ایک مصیبت سے جان چھڑانے کے بعد دوسری کو ماتھے کا جھومر بنانے چلی ہے؟ موجودہ درپیش چیلنجز پر ایک جیالے نے حضرت علامہ اقبال سے معذرت کے ساتھ کچھ یوں عرض کیا ہے کہ: ایک ہیں چیلے گرو وطن کی حشر سامانی کے لیے سندھ کے ساحل سے لے کر تاباخاکِ خیبرپختونخواہ تک
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus