×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا عمران خان امریکہ کی زبان بول رہے ہیں ؟
Dated: 15-Nov-2011
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اکثر یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ بڑے بڑے نعروں اور کھوکھلے دعوئوں سے عوام الناس کو بیوقوف بنانا سیاستدانوں کا مقبول ترین مشغلہ رہا ہے۔ سینٹ الیکشن 2012ء سے پہلے ملک کی مقتدر سیاسی قوتوں نے قیادت کے فقدان کی شکار پیپلزپارٹی سے دو دو ہاتھ کرنے کا یہ مناسب موقع جانا۔تحریک انصاف کے سربراہ جو اس سے پہلے بھی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں 2002ء کے الیکشن کے نتائج کے بعد زخم خوردہ ہو چکے ہیں۔ ایک لمبے عرصے کے بعد کچھ غیرمرعی قوتوں کے اشارے پر گاڑی کی خالی ٹینکی میں پٹرول ڈلوایا اور پشاور کے دھرنے میں تیس ہزار افراد اکٹھے کرکے اسٹیبلشمنٹ اور بیوروکریسی کے بند دریچوں پہ دستک دی۔ پھر اس کے بعد اسلام آباد پارلیمنٹ کے سامنے دھرنا دے کر حکومتی سطحوں کو چتائونی دی۔ یہ عمران خان کی SOLO فلائٹ تھی جس کو ملکی میڈیا میں وہ خاص پذیرائی حاصل نہ ہوئی اور نہ ہی ان دھرنوں سے عمران خان اس ملک کی تیسری قوت کے طور پر سامنے آئے۔ پھر یکدم کچھ ایسا معجزہ ہوا کہ عمران خان نے مینار پاکستان کے وسیع و عریض میدان پر جلسے کا علان کر دیا۔ سیاسی پنڈتوں اور تجزیہ نگاروں کی نظر میں یہ ایک ایسا جوا تھا کہ جس کی ناکامی کی صورت میں ایک بھولے بھالے عمران خان کو نقصان تو کچھ زیادہ نہ ہوتا مگر کسی اتفاقیہ کامیابی یا دو بڑی سیاسی جماعتوں کی آپس کی لڑائیوں سے تنگ آئے ہوئے عوام نے تحریک انصاف کی توقعات سے بڑھ کر اس جلسے کو کامیاب کروایا اور راتوں رات اس کے نتائج سمیٹتے ہوئے عمران خان شہرت اور عزت کی بلندیوں پر جا بیٹھے۔ پھر یکدم ایک چھوٹی اور غیرآزمائی سیاسی جماعت ڈائیلاگ کی میز پر بہت کچھ کہنے اور بہت کچھ سننے کی پوزیشن میں آگئی۔ جھنڈوں اور بندوں کی بحث سے قطع نظر مخالفین نے اسے اسٹیبلشمنٹ کا شو قرار دیا۔ جبکہ پی پی پی اور مسلم لیگ ن گروپ کی دوسرے درجے کی قیادت جو اپنی لیڈرشپ کی طرف سے نظرانداز کیے جانے کی وجہ سے کارنر ہوئے تھے کو موقع مل گیا کہ وہ آگے بڑھ کر اپنی قیمت لگوا لیں۔ اس طرح سینٹرل پنجاب سے کچھ وہ ٹکٹ ہولڈر جو گذشتہ الیکشن میں ناکام قرار پائے انہوں نے اقتدار کی بُو کو سونگھتے ہوئے اور اسٹیبلشمنٹ کی تھپکیوں اور شفقت سے متاثر ہو کر تحریک انصاف کے کھلے دریچوں سے اپنے لیے رستے بنانے شروع کر دیئے۔جبکہ مسلم لیگ ن اور پی پی پی کی مرکزی قیادت اور ممبران نے صبر کرو اور دیکھو کی پالیسی اپنائی۔ یہی وجہ تھی کہ سابق وزیر خارجہ اور پی پی پی کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری شاہ محمود قریشی کے متعلق بھی ایسی چہ مگوئیاں کی جانے لگیں جبکہ سابق گورنر پنجاب اور ق لیگ کے رہنما میاں اظہر اور خیبرپختونخواہ سے پی پی پی کے سابقہ ممبر سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی مسعود شریف خٹک جو کافی عرصہ پہلے CEOسے استعفیٰ دے چکے تھے۔ اس موقع کو قابل جانا اور اسٹیبلشمنٹ کی گود میں چھلانگ لگا دی۔ مگر گذشتہ روز ملک کے 20کروڑ عوام تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سٹیٹمنٹ آنے کے بعد مجسمہ حیرت بن گئے۔ جب عمران خان نے بھی امریکہ کے ساتھ دوستی کے واضح اشارے دینے شروع کر دیئے پھر گذشتہ روز چند ہی گھنٹوں کے فرق کے دوران چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس افتخار احمد چوہدری نے ایک ملٹری سیمینار سے خطاب کے دوران فوج کے افسران کو آرٹیکل 6اور اس کے اثرات سے آگاہ کیا۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ عدالتوں کی طرف سے کیے جانے والے ایسے کئی فیصلے کہ جب انہیں ایک مخصوص مقام پر لے جا کر محفوظ کر لیا جاتا ہے اور کروڑوں پاکستانیوں کو حیران و ششدر ایک دوسرے کا منہ دیکھنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ عوام پریشان ہیں کہ وہ فوج کی طرف دیکھیں یا سوموٹو کے کھیل میں وقت برباد کریں۔اور پھر اسی روز عمران خان صاحب جو چند روز پہلے تک اسٹیبشلمنٹ کا کھلاڑی کہلوانے پر فخر محسوس کرتے تھے، پاک فوج اور ISIکو بالکل اسی انداز میں للکارا،جو اس سے پہلے للکار کر ذوالفقار علی بھٹو شہادت کا درجہ پا چکے ہیں اور دوسرے سابقہ وزیراعظم میاں نوازشریف وزارت اعظمیٰ سے ہاتھ دھونے کے علاوہ جلاوطنی کے زخم ابھی تک مندمل نہیں کر پائے۔ جبکہ ملک کے سیاسی تجزیہ نگار اور میری ذاتی رائے میں عمران خان نے پاک فوج اور ISI کو قابو میں رکھنے کا بیان دے کر دراصل امریکہ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔اور عمران خان کا مقصد یہ تھا کہ اب کی دفعہ اقتدار کا ھُما ان کے کندھے سے اڑنے نہ پائے۔ جبکہ ملک کی موجودہ حکمران قیادت خصوصی طور پر رحمان ملک بھی کچھ عرصہ پہلےISIکو وزارت داخلہ کے انڈر دیکھنے کے خواب دیکھ چکے ہیں۔ اور یار لوگ جانتے ہیں کہ اس سلسلے میں جاری کیے جانے والا نوٹیفکیشن ابھی تحریراً واپس نہیں لیا گیا۔ اگر ملک کی موجودہ سیاسی صورتحال کا بغور غیرجانبدارانہ تجزیہ کیا جائے تو یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ ہمارے اس ملک کے ساستدان اقتدار کے سنگھاسن پر بیٹھنے کے لیے بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے فیصلے بھی کر سکتے ہیں اور کروڑوں مسلمانوں کے ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ قاتل جو ISIاور پاک فوج کو خدانخواستہ تباہ کرکے پاکستان کے ایٹمی اثاثوں پر قبضہ کرنا چاہتا ہے۔بلکہ ISIکے ہاتھوں زخم خوردہ ہونے کی وجہ سے اپنا بدلہ بھی چکانا چاہتا ہے۔ جبکہ اس ملک کے ہوس پرست اقتدار زدہ طبقہ کرسیٔ اقتدار کے لیے پاک فوج اور ISIجیسے ادارے کو بھارت امریکہ اور اسرائیل کے حوالے ہمہ وقت کرنے کو تیار ہیں۔ دراصل یہ سیاستدانوں کی طرف سے عوام کو بیوقوف بنانے کا وہ تسلسل ہے جس کے لیے ہر سیاستدان ایک دوسرے سے بڑھ کر پرفارم کرنے کو تیار ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus