×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیکرٹری دفاع کی برطرفی۔ اصل ماجرا کیا ہے؟
Dated: 17-Jan-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com نجانے کیا وجہ تھی یا پھر غیب سے حکم تھا کہ اپنے تقرر کے صرف دو ماہ بعد ہی لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد نعیم لودھی کو فارغ کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔ پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ سیکرٹری دفاع کے حساس عہدے کے لیے چند ایک بار کے سوا ہمیشہ ریٹائرڈ اعلیٰ ملٹری آفیسران کی خدمات حاصل کی جاتی رہی ہیں۔ کیونکہ سیکرٹری ڈیفنس کے ماتحت چیف آف آرمی سٹاف سمیت فوج کی اعلیٰ قیادت ہوتی ہے اور یہ ایک روایت سی بنتی جا رہی ہے کہ وزیر دفاع کا عہدہ صرف نمائشی حیثیت کا حامل بن کر رہ گیا ہے۔ لیکن حقیقت میں سیکرٹری دافع کا عہدہ حکومت اور افواجِ پاکستان میں پُل کا کردار ادا کرتا ہے جبکہ ایک اعلیٰ ریٹائرڈ فوجی آفیسر کو سیکرٹری دفاع بنانے کی صورت میں فوجی قیادت ’’کمفرٹس‘‘(Comforts)محسوس کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جنرل ریٹائرڈ(ر)خالد لودھی کو کیوں اس انداز میں ان کے عہدے سے برطرف کیا گیا کہ جس سے عوام الناس میں شکوک و شبہات پیدا ہوئے۔ جب ہم تاریخ کے اوراق الٹتے ہیںتو ہمیں اس ’’سبکدوشی‘‘ کا تاریک پہلو نظر آتاہے۔ کیونکہ 12اکتوبر1999ء کو جب اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے جنرل پرویز مشرف کو ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا منصوبہ بنایا گیا اورمیاں نوازشریف نے جنرل پرویز مشرف کو بطور چیف آف آرمی سٹاف ہٹانے کے لیے پلان تیار کیا اور اس سلسلے میں احکامات سیکرٹری دفاع جنرل (ر) چوہدری محمد افتخار کو دیئے کہ وہ اس سلسلے میں نوٹیفکیشن تیار کرکے جاری کریں (جنرل (ر)چوہدری محمد افتخار چوہدری نثار کے حقیقی بھائی تھے)۔میاں نوازشریف نے چوہدری نثار کے بھائی کو سیکرٹری ڈیفنس اپنا آدمی سمجھتے ہوئے لگایا تھا لیکن جب پرویز مشرف کو ہٹانے کے لیے اس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے سمری تیار کی اور اس کی منظوری کے لیے صدر رفیق تارڑ کے دستخط کے بعد نوٹیفکیشن جاری کرنا تھا لیکن سیکرٹری دفاع جنرل (ر) افتخار چوہدری نے نوٹیفکیشن جاری کرنے کے بجائے اس دستخط شدہ سمری کو جی ایچ کیو لے گئے اور کورکمانڈر راولپنڈی اور دوسرے جرنیلوں کو صورت حال بتا دی اور انہوں نے کہا کہ میں اس گیم میں پارٹی نہیں بنوں گا ۔ کیونکہ جنرل (ر)پرویز مشرف سری لنکا گئے ہوئے تھے۔ سمری میں جنرل (ر)پرویز مشرف کی برطرفی اور ڈی جی آئی ایس آئی ضیا الدین بٹ کی تقرری کے احکامات تھے۔ سیکرٹری دفاع کے نوٹیفکیشن جاری نہ کرنے اور اپنی وفاداری فوج کے ساتھ نبھانے کی صورت میں گیم کا پانسہ پلٹ گیا اور میاں نوازشریف کی جمہوری حکومت کا تخت الٹ دیا گیا۔ یہی وجہ ہے کہ پرویز مشرف کے 10سالہ آمرانہ دور میں چوہدری نثار جو کہ ایوان صدر سے چند فرلانگ کے فاصلے پر رہائش پذیر ہیں کو تنگ کیا گیا اور نہ ہی ان کے خلاف کوئی مقدمہ نیب میں کھولا گیا۔ جنرل (ر) چوہدری افتخار کی وفاداری کے بدلے چوہدری نثار نے مشرف کے آمرانہ دور میں بھی بلاخوف و خطر سیاست کی مگر نوازشریف جدے کے ایک سرورپیلس میں ایک قیدی کی سی حیثیت سے مقید رہے۔ ماضی کے ان واقعات کا بغور جائزہ لیا جائے تو موجودہ حالات میں سیکرٹری دفاع کا اچانک برطرف کیا جانا سمجھ میں آتا ہے کہ موجودہ حکومت نے ماضی سے سبق سیکھا ہے اور یہ حکومت کم از کم وہ غلطی دوہرانا نہیں چاہتی جو اُس وقت کے وزیراعظم میاں نوازشریف نے کی تھی۔اب موجودہ تناظر میں دیکھا جائے تو سوال یہ ہے کہ سابقہ سیکرٹری دفاع کی جگہ اب نرگس سیٹھی صاحبہ میں وہ کیا خوبیاں تھیں کہ انہیں اس اہم عہدے کے لیے تقرر کیا گیا۔ دراصل وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے اقتدار سنبھالتے ہی نرگس سیٹھی کو اپنا پرنسپل سیکرٹری مقرر کیا اور بعدازاں وہ سیکرٹری کیبنٹ ڈویژن واسٹیبلشمنٹ اورسیکرٹری ہیلتھ بھی رہیںجنہیں اب وزارت دفاع کی سیکرٹری بھی بنا دیا گیا ہے۔ گذشتہ چار سالہ دورِ حکومت میں نرگس سیٹھی کو وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور خاتونِ اوّل کا بھرپور اعتماد حاصل رہا۔ متعدد دفعہ ان کی ذات ہدف تنقید اسی لیے بنتی رہی کہ وزیراعظم اور ان کی فیملی پر لگائے جانے والے مالیاتی بدعنوانیوں کے الزامات میں بھی ان کا کردار شامل تصور کیا جاتا تھا۔ انہی چند ایک خصوصیات کی وجہ سے حکومت کو جو ان دنوں فوج کے ساتھ ٹکرائو کی کیفیت میں ہے ایک ایسے سیکرٹری دفاع کی ضرورت تھی جو اس مشکل وقت میں بوقت ضرورت وفاداری کی تمام شرائط پر پورا اترتا ہو ۔وزیراعظم محترم اگر یہ خیال کرتے ہیں کہ محترمہ نرگس سیٹھی میں وہ تمام خصوصیات ہیں جو حکومت سنبھالنے کے لیے ضروری تصور کی جاتی ہیں تو پھر کیوں نہ وہ وزارتِ عظمیٰ سے استعفیٰ دے کر محترمہ نرگس سیٹھی کو ہی ملک کا نیا وزیراعظم بنادیا جائے ؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ سیکرٹری جنرل(ر) خالد نعیم لودھی کی برطرفی کے بعد نرگس سیٹھی کی تعیناتی سے حکومت اپنے پائوں جمانے میں کامیاب ہوتی ہے یا پھر یہ ایک ایسی لڑائی ہے جس میں حکومت نے پہل کر لی ہے جس کا انجام روزِ روشن کی طرح عیاں ہے لیکن اقتدار کے نشے میں چور حکمران اسے دیکھنے سے قاصر ہیں۔دراصل بوکھلائے ہوئے وزیراعظم جو روز اپنا بیان بدل کر پاکستان اور دنیا بھر میں اپنا تماشا خود بنائے ہوئے ہیں اور صدر مملکت آصف علی زرداری وپاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کو باعثِ ندامت بنا دیا ہے۔حکومت کی بوکھلاہٹ اور اداروں سے ٹکرائو کے جنون نے ملک کے جمہوری ڈھانچے کو اس قدر نقصان پہنچایا ہے کہ جو اب قابل مرمت بھی نہیں رہا۔ معاشی بدحالی اور فاقوں سے بدحال عوام عدلیہ کی طرف اب ملتجانہ نظروں سے دیکھ رہے ہیں۔شاید عدلیہ اب یہ چاہتی ہے کہ بینرز لگیں اور دیواروں پر چاکاں کیا جائے کہ ’’مٹ جائے گی خلق خدا توکیا تب آئو گے؟‘‘یوسف رضا گیلانی کے زیر سایہ پوری کابینہ میں سے شاید کوئی ایسا ہو گا جس نے اس بہتی گنگا سے ہاتھ نہ دھوئے ہوں گے ؟اور جیالے حیران ہیں کہ صدرِ مملکت کس سحِر میں مبتلا ہیں کیا ان کے گرد بنایا گیا حصار اتنا مضبوط ہے کہ صدرِ مملکت اس سے نکل نہیں پا رہے ؟کیا صدر مملکت کو یہ احساس تب ہوگا جب پارٹی کے تمام سینئر کارکن ،جیالے اور لیڈرشپ خزاں کے پتوں کی طرح پارٹی کا ساتھ چھوڑ کر دوسری سیاسی جماعتوں کے دروازے کھٹکھٹائے گی مگر جانے والوں کوشہید بھٹو اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی طرح اب تو کوئی روکنے والا بھی نہیں بچا ؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus