×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سُر کی جنگ یا بھارتی ثقافتی یلغار؟
Dated: 20-Jan-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com تاریخ کے اوراق پلٹنے سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ دنیا میں بڑی بری جنگیں کیسے لڑی گئیں اور ان میں کون سے ہتھیار بطور اسلحہ استعمال ہوئے۔ کبھی وقت تھا کہ دو گروہ آپس میں لڑائی کے لیے ڈنڈے ،سوٹے کا استعمال کرتے تھے۔ پھر زمانے نے جدت اختیار کی اور اسی ڈنڈے کے آگے برچھی لگا کر استعمال کرنے لگے اور پھر بات تیرکمان اور تلوار تک پہنچی اور میدان جنگ میں کروڑوں قتال کی وجہ بنیں۔ اور اس طرح اسے ترقی کہیے یا پستی کہ آج انسان نے انسان کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لیے جدیدہتھیاروں کا سہارا لیا ہوا ہے۔ اب دور ایٹمی اور نیوکلیئر ٹیکنالوجی کا ہے۔اب زمانہ راکٹ سائنس کا ہے۔ اب تو بٹن دباتے ہی پلک جھپکنے سے بھی کم عرصے میں شہروں کے شہر تباہ کیے اور مٹائے جا سکتے ہیں۔ جس کی مثال تاریخ میں ہمیں یوں ملتی ہے کہ جب جاپان نے پرل ہارپر پہ امریکی فوجی اڈے پر فضائی حملہ کیا تو جس سے پلک جھپکتے ہی ہزاروں امریکی فوجی لقمہ اجل بن گئے۔ جس کے جواب میں امریکہ بہادر نے تھوڑے سے وقفے کے دوران ناگا ساکی اور ہیروشیما پر ایٹم بم گرا کر قیامت برپا کر دی اور طاقتورجاپان کو ہتھیار پھینکنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان دو شہروں میں منٹوں اور لمحوں میں تین لاکھ لوگ جاں بحق ہوئے۔ اور بچ جانے والے لاکھوں افراد اپاہج بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہوئے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ نے اپنے مخالفین کو زیر کرنے کے لیے کوریا اور ویت نام کی تاریخی جنگیں مسلط کیں۔ جن کے متاثرین آج بھی عبرت کی تصویر بنے بیٹھے ہیں۔ لیکن تاریخ میں ہمیں جس قدر منافقت ہندو معاشرے میں رچی بسی ملتی ہے اس کی کہیں مثال نہیں ملتی۔ہندوئوں نے ہمیشہ جنگ سے گریز کیا مگر منافقت اور سازش کرکے کبھی ثقافت کے نام پر، کبھی سُرتال کے نام پراور کبھی رقص و سُرور کے نام پر اپنے فلسفہ کو مسلط کرنے کی ہمیشہ کوشش کی۔ مشہور کہاوت ہے (جس کی لاٹھی اس کی بھینس) اور یہ قانونِ فطرت بھی ہے کہ طاقتور کمزور کو کھاجائے اور اسے زندہ رہنے کا حق بھی نا بخشے۔ طاقت کے اس عدم توازن کی ہی وجہ سے دنیامیں اکثر لڑائیاں اور جنگیں رو پذیر ہوئی ہیں۔ نوجوان ذوالفقار علی بھٹو شہید جب نوزائیدہ مملکت پاکستان کے پہلے وزیر سائنس و ٹیکنالوجی بنے تو انہوں نے ایک چھوٹے سے دفتر پر اس محکمے کا بورڈ لگوا کر پاکستان کو عالمی طاقت بنانے کا خواب دیکھا۔ بظاہر یہ خواب ہی بڑا ڈرائونا اور مشکل تھا مگر بھٹو جانتے تھے کہ اسی خواب کی تعبیر میں پاکستان کی سلامتی و بقا ء پوشیدہ ہے۔ شہید بھٹو کو اپنے ارادے سے باز رکھنے کے لیے سامراجی قوتوں نے ان کی راہ میں اتنے کانٹے بکھیرے کہ جن کی وجہ سے ان کی زخموں سے چور زندگی کو بالآخر شہادت نصیب ہوئی۔ ڈاکٹر عبدالقدیراور ان جیسے سینکڑوں سائنس دانوں نے جذبوں سے لبریز ہو کر اس مشن کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کا عزم کیا۔اور بہرحال 25سالوں کی محنت اور قوم کے قریباًگھاس کھانے تک کی محنت رنگ لائی۔ اور اس وقت کے وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کو سعادت نصیب ہوئی کہ وہ ساٹھ مسلم ممالک کے بلاک سے پہلی اور دنیا کی ساتویں نیوکلیئر پاور ہونے کا اعزاز حاصل کریں۔اسی نیوکلیئرپاور ہونے کا کرشمہ ہے کہ 1971ء کی جنگ کے بعد ہمارے ازلی دشمن بھارت کو یہ جرأت تک نہ ہو سکی کے وہ پاک سرزمین کی طرف اپنی میلی آنکھوں سے دیکھ سکے۔ ہوس زدہ بھارت کے منہ سے حرس و لالچ کی رال تو مسلسل ٹپکتی ہے اور اسے برصغیر کا دو قومی نظریہ کی بنیاد پر تقسیم ہونا ہضم نہیں ہوپاتا۔مگر یہ طاقت کے توازن کا کرشمہ ہی ہے کہ وہ نیوکلیئر پاکستان کی طرف بُری نظروں سے دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرتا مگر اپنی فطری سازشوں کے باعث وہ پاکستان کے گرد ہر وقت کوئی نہ کوئی جال بُننے میں ہمہ وقت مصروف رہتا ہے۔ ذرا بھر بھی عقل و فہم رکھنے والے پاکستانی شہری پہ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ بھارت نے مسلمانوں کے صدیوں پرانے دشمن اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مل کر پاکستان کو دہشتگری ،بدامنی کی اماجگاہ بنا رکھاہے۔پاکستان نے اتحادیوں کی دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اتحادی بن کر اور چالیس ہزار سویلین اور چھ ہزار عسکری جوانوں اور افسروں کی جانوں کی قربانیاں دے کر اور ستر ارب ڈالر کا انفراسٹرکچر تباہ کروایا ہے۔اس کے علاوہ معاشی بدحالی کے ضمن میں صورت حال کچھ یوں ہے کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کی شرح صفر ہے۔ نظریہ پاکستان کے دشمن بھارت کی کارستانیوں کی وجہ سے آج ملک کے طول و عرض میں بے یقینی کی سی کیفیت ہے اور ملک کا کوئی کونہ بھی دہشت گردی سے محفوظ نہیں۔ بلوچستان کے احوال اس کا منہ بولتا ثبوت ہیں مگر بدشومئی قسمت کہ ہمارے ملک کا ایک کاروباری طبقہ جو کہ ’’جنون‘‘ میں مبتلا ہے نے ’’امن کی آشا‘‘کے نام پر اس ملک کی یوتھ کو ورغلانے کا بیڑا سر پہ اٹھا رکھا ہے۔ ہماری نسلوں کو فلسفہ جہاد سے متنفر کرنے کی سازش کی جا رہی ہے۔ اس سلسلے میں متعدد این جی اوز کی سرپرستی بھی کی جا رہی ہے۔ آج کل الیکٹرانک و پرنٹ میڈیا پر مسلسل تشہیر کی جا رہی ہے کہ سرحد کے اس پار اور اس پار ’’ سُروں ‘‘کی جنگ ہو گی۔ہمارے ان عاقبت نااندیش دوستوں سے کوئی پوچھے کہ میوزیکل شو میں سُر کے جادو سے کیا کشمیر فتح کیا جا سکتا ہے؟ انہیں کوئی بتلائے کہ ہم بتلائیں کیا کہ اگر سُر اور میوزک سے جنگ جیتنا ممکن ہوتا تو تان سین فاتح عالم کہلاتا۔ تاریخ سے نابلد ان دوستوں کو کون بتائے کہ جب دشمن کی فوجوں نے آخری مغل فرمانروا محمد شاہ رنگیلے کی سلطنت پر حملہ کر دیا تو بادشاہ کے پیغام رسائوں نے بادشاہ کو پیغام دیا کہ دشمن کی فوجوں نے حملہ کر دیا ہے۔ تو نشے میں چُور بادشاہ جو دربار میں گانے بجانے کی محفل سجائے بیٹھا نے کہا کہ جائو ان سے کہہ دو کہ ’’ایں دلی دُور است‘‘جیسے جیسے دشمن کی افواج دارالحکومت کی طرف بڑھتی رہیں بادشاہ نشے میں مدہوش ’’ایں دلی دور است‘‘ کہتا رہا۔ حتی کہ دشمن کی افواج محل میں داخل ہو گئیں تو سپہ سالار نے آخری پیغام بھجوایا کہ بادشاہ سلامت دشمن کی فوجیں محل میں داخل ہو گئی ہیں تو سُراور تان کی محفل سجائے بادشاہ نے جواب دیاکہ ذرا آنے دو ان کو ہم انہیں طبلے اور سارنگیاں مار مار کر بھگا دیں گے۔ آج ہمارا ایک جنون زدہ طبقہ یہ سمجھتا ہے کہ جنگ سُر سے جیتی جا سکتی ہے تو یہ غلط فہمی ہے۔ ہمیشہ جذبے سے اور طاقت کے توازن سے جنگ کو ٹالا جا سکتا ہے۔تفریح طبع کے لیے سُر کی خارش اپنی جگہ مگر اس کی خاطر جذبہ حرب کو بھول جانا نادانی نہیں تو کیا ہے؟ اپنا سر اور اپنی جوتیاں کے مصداق بھارت ثقافتی یلغار کے ذریعے ہم سے ہر سال کئی ارب ڈالر چھین کر لے جاتا ہے اوپر سے بھارتی چینلز پر ڈراموں کی یلغار سے ہمارے گھروں میں ہمارے بزرگ تک بھی نہیں بچ پائے۔ حتی کہ بھارتی گانے ہمارے ٹی وی چینلز پر خبروں میں بھی پیروڈی کی صورت میں سنائی دیتے ہیں۔ہمارے نیوزچینلز بھی اس یلغار سے محفوظ نہیں رہ سکے۔ میں ایک سوشل ڈیموکریٹک لبرل پارٹی کا مرکزی رکن ہوں اور فلسفہ ری کنسیلیشن پر یقین رکھتا ہوں مگر بھارت کے معاملے پر میں کسی خوش فہمی کا شکار نہیں۔ ایک دفعہ مردِ صحافت جناب مجید نظامی صاحب کو اس وقت کے صدر جنرل ضیاء الحق نے دورئہ بھارت و کرکٹ میچ میں ساتھ چلنے کی دعوت دی تو جناب مجید نظامی صاحب نے صدر جنرل ضیاء الحق کو جواب دیا کہ جنرل صاحب میں آپ کے ساتھ بھارت جانے کو تیار ہوں مگر ٹینک پر بیٹھ کر۔اللہ کرے یہ جذبہ بیس کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کو بھی فلسفہ جہاد سے منور کر دے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus