×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مردِ حُر،شہبازِ پاکستان اور عاشقِ پاکستان
Dated: 22-Feb-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ اُن دنوں کی بات ہے جن دنوں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جلاوطنی پر جانے کے لیے مجبور کر دی گئی تھیں اور عالمی سیاسی برادری میں محترمہ بے نظیر بھٹو اور سینیٹر آصف علی زرداری پر لگے کرپشن کے الزامات کی وجہ سے کسی بھی فورم یا پلیٹ فارم پر پذیرائی تو دُور کی بات شنوائی تک نہ ہوتی تھی۔ محترمہ کے تمام لابیئسٹ ایک ایک کرکے چھوڑتے چلے جا رہے تھے۔ کوئی فرم یا ادارہ ان کے لیے لابی کرنے کو تیار نہیں تھا۔ ایک دن شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ لاس اینجلس شہر میں ایک دوست کے گھر کے لان میں بیٹھے ہوئے تھے کہ شہید محترمہ نے تقریباً انتہائی پریشانی کے عالم میں نم آنکھوں سے بتایا کہ مطلوب آج ہمارے آخری لابیئسٹ نے بھی ہمیں جواب دے دیا ہے کہ محترمہ میں جہاں آپ کے لیے بات کرنے جاتا ہوں سینیٹر آصف علی زرداری پر لگے کرپشن کے سنگین الزامات کی وجہ سے مدمقابل ہمیں صفائی کا پورا موقع بھی نہیں دیتے اور ملاقات سے انکار کر دیتے ہیں۔ایسے ہی کچھ حالات تھے جن دنوں سینیٹر آصف علی زرداری نے مجھ ناچیز کے پاس سینیٹر جہانگیر بدر کو خصوصی طور پر یورپ بھجوایا تاکہ میرے ذریعے یورپ اور امریکہ میں لابی کروائی اور یورپ میں رائے عامہ ہموار کرائی جا سکے ۔ان دنوں سینیٹر آصف علی زرداری کے جو یار اور دوست احباب تھے وہ ایک ایک کرکے یا تو انہیں چھوڑ کر جا چکے تھے یا پھر وعدہ معاف گواہ بن چکے تھے اور سینیٹر آصف علی زرداری پاکستان کی جیلوں اور عدالتوں کے طواف کاٹنے پر مجبور تھے اور تب انہی ایام میں جبکہ ان کی پاپولیرٹی نکتہ انجماد سے بھی نیچے گر گئی تھی۔تب نظریہ پاکستان کے سچے عاشق اور مردِ صحافت محترم جناب مجید نظامی صاحب نے ایک تقریب کے دوران آٹھ سالوں سے اسیر اور کرپشن کے الزامات کی دلدل میں ’’نک نک‘‘ پھنسے ہوئے آصف علی زرداری کو ’’مردِ حُر‘‘ کا خطاب دے دیا۔ یہ وہ وقت تھا جب پرائے تو کیا اپنے سائے بھی آصف علی زرداری کا ساتھ چھوڑ چکے تھے۔ مردِ حُر کا خطاب ملنے کی دیر تھی کہ آصف علی زرداری کے مردہ سیاسی کیریئر میں جیسے جان پڑھ گئی اور مردِ حُر جناب آصف علی زرداری کا ’’سلوگن ‘‘ بن گیا تھا۔ انہی دنوں جناب مجید نظامی صاحب کو عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے کی سعادت نصیب ہوئی جہاں ان دنوں میاں شریف خاندان ایامِ جلاوطنی گزار رہے تھے۔ میاں شریف مرحوم جو محترم مجید نظامی صاحب کے گہرے اور پکے دوست تھے، انہوں نے جناب مجید نظامی صاحب کو سُرور پیلس کھانے پر مدعو کیا۔کھانے کی میز پر میاں نوازشریف نے مہمانوں کی موجودگی کا بھی لحاظ نہ رکھتے ہوئے نظامی صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ نظامی صاحب آپ نے آصف علی زرداری کو مردِ حُر کا خطاب دے کر اچھا نہیں کیا۔ جس پر نظامی صاحب نے جواب دیتے ہوئے میاں نوازشریف صاحب سے کہا میں نے آصف علی زرداری کو اس کی لمبی قید کاٹنے اور صعوبتیں برداشت کرنے اور ایک آمر کے سامنے ڈٹ جانے کی وجہ سے مردِ حُر کا خطاب دیا ہے۔ میاں صاحب آپ بھی جواں مردی سے قید کاٹتے اور آمر کے سامنے ڈٹ گئے ہوتے تو میں آپ کو بھی ایسے خطاب سے ضرور نوازتا۔ پھر حالات نے پلٹا کھایا وقت نے کروٹ لی۔ آج میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف دونوں بھائی ملک میں موجود ہیں اور میاں شہباز شریف پاکستان کے باسٹھ فیصد (پنجاب) کے بِلا شرکت غیرے حکمران ہیں۔جبکہ مردِ حُر کی پاکستان پیپلزپارٹی مرکز میں اقتدار پر براجمان ہے اور خود مردِ حُر پاکستان کی مسندِ صدارت پر فائز ہیں مگر جن دگرگوں حالات سے آج پاکستان کی سالمیت کو پالا پڑا ہے، سیاسی افراتفری ،آپس کی ناچاکیاں، لاقانونیت، چور بازاری، اقرباپروری، لوٹ کھسوٹ اور کرپشن کی دلدل میں جس بُری طرح حکومتی مشینری پھنسی ہوئی ہے اور بیس کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کا یہ چھٹا بڑا ملک کسی بحرِ ناہموار میں کپتان کے بغیر ہچکولے لے رہا ہے۔جبکہ ہر مسافر جو اس ٹائی ٹینک پر سوار ہے وہ اس فکر سے بے خبر ہے کہ آخر کب تک ہم اپنے ہی ہاتھوں اپنے ہی گھر کے نظام کو، سسٹم کو تباہ کرنے پر تلے رہیں گے؟ کوئی فرد کسی دوسرے کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں، کوئی مجرم، طاقتور ادارہ یا حکومت عدلیہ کے فیصلے ماننے کو تیار نہیں۔ حکمران طاقت کے نشے میں چُور کسی بدمست ہاتھی کی طرح عدالتی فیصلوں کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھتے ہیں۔ عدالتی احکام نہ ماننا ہمارا شیوہ امتیاز اور قومی کھیل بن چکا ہے جبکہ پاک فوج بھی مصلحتوں کا شکار نظر آتی ہے تو ایسے میں مردِ صحافت جناب مجید نظامی کی نظرِ توانا اٹھتی ہے وہ دیکھتے ہیں کہ ایک شخص اس افراتفری اور لاقانونیت کے دور میں بھی جنون مسلسل سے شرابور ایک انتھک عزم لیے پنجاب کو تُرکی بنا دینا چاہتا ہے۔ لاہور کو استنبول بنا دینا چاہتا ہے اور وہ پاکستان کو ترقی پذیر کی صف سے نکال کر ترقی یافتہ کی قطار میں لاکھڑا کرنا چاہتا ہے۔ وہ شخص اپنی روزبروز گرتی ہوئی صحت اور نامساعد سیاسی حالات کے باوجود اپنی پرواز جاری رکھے ہوئے ہے۔ تو مردِ صحافت اسے شہباز پاکستان کے خطاب سے نواز دیتے ہیں۔ ایک عام شہری کی سوچ سے تو شاید میں اس دیئے جانے والے خطاب پر کوئی بھی ردعمل ظاہر نہ کرتا مگر ایک سیاسی طالب علم ہونے کے ناطے میری تجزیہ نگار نظریں ’’شہباز پاکستان‘‘ کے الفاظ پر جم سی گئی ہیں ۔ میں سوچنے پر مجبور ہوں کے کونسی ایسی بات ہے کہ جناب مجید نظامی صاحب نے لفظ شہبازِ پاکستان بولا ہے۔ شہبازِ پنجاب نہیں؟ میرے خیال میں جناب مجید نظامی صاحب کے اس فلسفے کے پیچھے چھپے مفہوم کو سمجھنے کے لیے کسی پی ایچ ۔ ڈی کی ڈگری لینے کی ضرورت نہیں۔ جناب شہباز شریف صاحب کو شہبازِ پاکستان کا خطاب دے کر اور اس قوم نے حضرت علامہ اقبال کو ’’شاعرِ مشرق‘‘ اور محمد علی جناح کو ’’قائداعظم‘‘ اور ذوالفقار علی بھٹو شہید کو ’’قائدِ عوام‘‘ اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کو ’’شہیدِ جمہوریت‘‘ کے خطابات سے نوازا ہے تو جناب مجید نظامی صاحب اس ملک کے جیالوں اور متوالوں کی جانب سے آپ کی نظریہ پاکستان کے حوالے سے خدمات کے اعتراف میں، میں آپ کو ’’عاشقِ پاکستان‘‘ کا خطاب دیتا ہوں ۔نظامی صاحب آپ نے آصف علی زرداری کو ’’مردِ حُر‘‘ کا خطاب دیا اور شہباز شریف کو ’’شہبازِ پاکستان‘‘ کا ۔ عاشقِ پاکستان جناب مجید نظامی صاحب جس کسی کو بھی خطاب سے نوازتے ہیں تو یہ صرف خطاب دینا نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسی ذمہ داری اس شخص کے کاندھوں پر پڑ جاتی ہے اور اسے اس خطاب کے الفاظ کی ناموس کا اگر جان دے کر بھی حق ادا کرنا پڑے تو پھر بھی یہ سودا سستا سمجھے۔اس پر میں صرف اتنا ہی کہوں گا : ’’شہباز کرے پرواز تے جانے راز دلاں دے‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus