×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بے نظیر کا لہو پکارے گاقاتل کون ہے؟
Dated: 28-Feb-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com 27دسمبر 2007ء کا سیاہ دن ہماری ملکی تاریخ کے اوراق پر گہرے نقوش چھوڑ گیا ہے، کسی بھی قوم کے لیے اس کا لیڈڑ کھو دینا جنگ میں بدترین شکست کے مترادف ہے۔ امریکہ آج بھی تقریباً نصف صدی بعدجے ایف کینیڈی اور بھارتی عوام آنجہانی اندرا گاندھی کو نہیں بھولے جبکہ 79ء میں قائدعوام شہید ذوالفقارعلی بھٹو کا عدالتی قتل سقوط ڈھاکہ کے بعد پاکستان کے لیے ایک گہرا زخم تھا جب کہ پاکستان کے بننے کے صرف دو سال ہی بعد شہید ملت خان لیاقت علی خان کے قتل کے محرکات بھی آج تک سامنے نہیں آ سکے جبکہ 17اگست88ء کے دن ہونے والے سانحہ میں پاکستان کی دو درجن ٹاپ عسکری قیادت بمعہ ڈکٹیٹر ضیاء الحق جو کہ فضائی حادثے میں مار دیئے گئے تھے یہ کیس دنیا کے لیے آج بھی معمہ بنا ہوا ہے۔ ملکی تاریخ کا ہر عشرہ ایسے سانحات سے بھرا پڑا ہے مگر گمشدہ مفرور مجرموں اور قاتلوں کے نشانات کو وقت کی دھول نے شاید مٹا دیا ہے۔ ہرسانحہ پہ کمیشن کمیٹیاں اور عدالتی بینچ بنتے ہیں مگر شومئی قسمت کے عیار قاتل مکھن سے بال کی طرح نکلنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔عوائل ستمبر2007ء کے ایام تھے،اسی دوران سعودی عرب ،امریکہ، برطانیہ اور یو اے ای کے تعاون سے این آر او کی کھچڑی پک رہی تھی۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جو کہ بے گناہ ہونے کے باوجود بھی کرپشن کے بے شمار کیسوں میں پھنسا دی گئیں تھیں جبکہ سینیٹر آصف علی زرداری ناکردہ گناہوں کے پاداش میں پابندسلاسل تھے اور انہیں کیسوں کی وجہ سے محترمہ اپنے اصولی موقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئی اور پھر سیاسی بلیک میلنگ کے طور پر این آر او کا طوق بھی اپنے گلے میں ڈالنا پڑا۔ اس دوران ہماری میٹنگیں ایجوے روڈ لندن میں رحمان ملک کے مکان پر مسلسل ہوتی رہیں۔ اور محترمہ نے کم از کم تین بار دبئی کے چکر لگائے اس دوران شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے وہ مشہور زمانہ وصیحتی خطوط بھی لکھے، جس میں واضح طور پر اشارہ دیا گیا کہ اگر مجھے کچھ ہوا تو میرے ساتھ ہونے والے حادثے کے ذمہ دار یہ متعلقہ لوگ ہوں گے اور پھر محترمہ نے 18اکتوبر2007ء کو پاکستان کی طرف رخت سفر باندھا۔ محترمہ تقریباً 8سال کے بعد وطن واپس آ رہی تھیں جس طرح مچھلی پانی کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتی اسی طرح انہیں بھی اپنی پارٹی اور اپنی عوام سے دور رکھ کر زبردستی جلاوطنی پر مجبور کیا گیا تھا۔18اکتوبرکو جب محترمہ نے کراچی ایئرپورٹ پر لینڈ کیا تو عوام کا ایک ٹھاٹھیں مارتا سمندر پورا پاکستان اُمڈ آیا تھا۔ میرے صحافی دوستوں میں سے ایک سوئس صحافی مسٹر Urs Gerigerجو کہ جرمن زبان کے مشہور ویکلی میگزین Welt Woche کے سپیشل رپورٹر ہیں اوردوسری Mrs Paoline جوکہ مشہور زمانہ فرانسیسی اخبار Le Monde کی کارسپینڈس ہے جو محترمہ کے ساتھ لندن سے دبئی اور دبئی سے کراچی سفر کرکے آئے تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ مطلوب ایئرپورٹ سے مزارع قائد تک تقریباً بیس لاکھ استقبالیہ لوگوں کا ہجوم ہے اور میرے خیال میں اس روز ہونے والے سانحہ کارساز سے پہلے ہی محترمہ نے ذہن بنا لیا تھا کہ وہ این آر او کے کالے قانون کو نہیں مانیں گی۔ جس کا انہوں نے 18اکتوبر کے سانحے کے بعد اعلان بھی کر دیا۔ دراصل محترمہ کی این آر او سے بغاوت کا اعلان ہی ان کے لیے موت کا پیغام ثابت ہوا اور پھر27دسمبر جیسا سانحہ رونما ہوا۔ محترمہ کی شہادت کے بعد پی پی پی کی مرکزی قیادت کی طرف سے صرف مشرف ہی نہیں پوری ق لیگ کو قاتل کہا گیا (جبکہ آج اس وقت کی قاتل لیگ کولیشن پارٹنر ہے) جبکہ مشرف حکومت کی طرف سے محترمہ کی شہادت کے چند گھنٹوں بعد کبھی گولی لگنے، کبھی بم کا ٹکڑا لگنے اور کبھی چھت کے لیور کو شہادت کی بنیادبنایا گیا جس سے عوام الناس میں کنفیوژ پیدا ہوئی اور بریگیڈیئر چیمہ جو کہ سیکرٹری داخلہ تھے اپنی ایک پریس کانفرنس میں بیت اللہ مسعود پر سارا ملبہ ڈال کر حکومت کو بچانے کی کوشش کی جبکہ بیت اللہ مسعود نے 18اکتوبر کے سانحہ کراچی کے بعد ایک پریس ریلیز جاری کی تھی کہ تحریک طالبان پاکستان کا محترمہ بے نظیر بھٹو سے کوئی جھگڑا نہیں اور تحریک طالبان پاکستان عورتوں پر ہاتھ نہیں اٹھاتی اور اسے خلافِ اسلام سمجھتی ہے۔ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری صاحب نے مسند صدارت سنبھالنے کے بعد خود کئی دفعہ برملا اعتراف کیا ہے کہ انہیں قاتلوں کی نشاندہی ہو گئی ہے اور وہ جانتے ہیں کہ قاتل کون ہیں جب کہ اس دوران پانچ نوعمر لڑکے اور دوحکومتی انتظامی اہلکار گرفتار کیے گئے۔ جبکہ سانحہ کارساز کی آج تک انویسٹی گیشن ہی نہیں کروائی گئی ؟عوام اب یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جب آپ کو قاتلوں کی خبر تھی تو پھر سکارٹ لینڈ یارڈ اور یو این او کی تحقیقاتی ٹیمیں کیوں منگوائی گئیں؟ جبکہ محترمہ شہید کی سیکیورٹی پر تعینات افسران کا کردار اور رویہ بھی مشکوک تھا اور اسی روز سانحہ 27دسمبر کے دن جلسہ گاہ کے قریب پانی کی ٹینکی سے گری ہوئی لاش کس کی تھی؟ یہ معمہ بھی حل نہیں ہو سکا کہ محترمہ کے موبائل فون پر وہ کال کس کی تھی جس نے محترمہ کو گاڑی کے ہیڈ روف (Head Roof) سے باہر سر نکال کر Waive کرنے پر اکسایا تھا اور پھر اتنی بھی کیا جلدی تھی کہ محترمہ کی سیکیورٹی کے لیے متبادل بُلٹ پروف گاڑی جس کومحترمہ کی گاڑی کو Follow up کرنا تھا حادثے کے وقت تقریباً اسلام آبادزرداری ہائوس پہنچ چکی تھی ۔اور اس میں سوار لوگوں کے متضاد بیانات آج بھی ایک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں؟ 18فروری 2008ء کے الیکشن کے بعد جب 20فروری کو پاکستان پیپلزپارٹی کی فیڈرل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا مشترکہ اجلاس ہوا تھا اس اجلاس میں ،میں نے افتتاحی تقریر کرتے ہوئے کمیٹی ممبران کی توجہ اس مسئلہ پر دلائی کہ یہ الیکشن ہم نے جیتا نہیں بلکہ شہید محترمہ کی شہادت کی صورت میں ہارا ہے اور ہمیں لوگ کہتے ہیں کہ اس قتل کے خون کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر بھی پڑے ہیں۔(FC-CEC کی ریکارڈ بُک میں یہ منٹس اب بھی موجود ہیں)شاید میری اس بے باک گفتگو اور بے لاگ تبصرے ہی کی وجہ سے آج پارٹی کے اندر نئے گھس آنے والے قبضہ مافیا نے مجھے الیکشن کے بعد پارٹی اور اقتدار کے ثمرات سے دوررکھنے کا فیصلہ کر لیا مگر میرا موقف ہے : اگرچہ بُت ہیں جماعت کی آستینوں میں مجھے ہے حکم اذاں لا الہ اللہ اور پھر رحمان ملک صاحب نے پارلیمنٹ کو بریفنگ دینے کے لیے ایسے وقت کا انتخاب کیوں کیا ؟اور یہ الزامات لگائے کہ محترمہ بے نظیر کی شہادت میں تحریک طالبان پاکستان اور 27دیگر گروپوں کے علاوہ جامعہ حکانیہ (مولانا سمیع الحق کا مدرسہ)اس میں ملوث ہیں۔جب کہ اس بریفنگ سے صرف دو دن پہلے امریکن وزارت خارجہ نے ایک بیان دیا تھا کہ وہ پاکستان میں دفاعِ پاکستان کونسل کی سرگرمیوں کو بخوبی واچ کر رہے ہیں اور انہیں اس پر گہری تشویش ہے ۔اور دوسرا حکومت نے اس نامکمل انویسٹی گیشن کے نتائج سے عوام کو کیوں باخبر کرنا چاہا؟ جب کہ عدالت میں میموگیٹ سیکنڈل اور وزیراعظم کی توہین عدالت کے کیس زیر سماعت ہیں ، کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت لٹکائو ،بہکائو ،پھسلائو کی پالیسی پر عمل کرکے ایک دفعہ پھر عوام کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانا چاہتی ہے۔کچھ بھی ہو سچ کی آواز کو دبایا نہیں جا سکتا، شہید محترمہ بے نظیر بھٹو محسن پاکستان تھیں اور شمع جمہوریت کا لہو خود پکارے گا کہ میرا قاتل کون ہے؟اور قاتلوں کا ٹولہ یاد رکھے اب کی دفعہ قاتل بچ کر بھاگ نہیں پائیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus