×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا عدالتوں کا احترام ہماری ذمہ داری نہیں؟
Dated: 10-Apr-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com موت کے مقدمات قائم کرکے سزا دینے کی روایت اگر موجود ہے تو سزا کے بعد اس پر نظرثانی کے معاملات بھی تاریخ کا حصہ ہیں۔ اس حوالے سے میرے سامنے بعدازمرگ سزا اور جزا کی دو مثالیں ہیں۔ برطانوی بادشاہ اولیور کرامویل اور ترک وزیراعظم عدنان مندریس۔ کرامویل کو پارلیمنٹ توڑنے سمیت کئی دیگر الزامات کے تحت مقدمات چلا کر اسے سزائے موت سنائی گئی۔ اس پر مقدمات اس کی موت کے دو سال بعد قائم ہوئے تھے۔ جنوری 1661ء میں اس کی لاش قبر سے نکال کر ایک پول سے لٹکا دی گئی تھی۔ ترک وزیراعظم عدنان مندریس نے اتاترک کی سیکولر تعلیمات کو اسلامی سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی تو فوج نے ججوں کو ساتھ ملا کر عدنان مندریس کو تختہ دار پر کھینچ دیا۔ مندریس کو 1961ء میں پھانسی دی گئی۔ ان کے اقدامات ترک قوم کے مفادات میں تھے اور ان کی حب الوطنی شک و شبہ سے بالاتر تھی جس کا احساس ترکوں کو نوے کی دہائی کے آغاز میں ہوا۔ جس پر 17دستمبر1990ء کو عدنان مندریس کی تدفین پورے اعزاز کے ساتھ کی گئی۔ ان کو قومی ہیرو کا درجہ دیا گیا۔ آج کی برسراقتدار پارٹی نے عدنان مندریس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ترقی اور خوشحالی کی منازل تیزی سے طے کر رہی ہے۔ حکومتوں،حکمرانوں اور ان کے انجام کے حوالے سے ترکی اور پاکستان کے مابین کافی مماثلت موجود ہے۔ ترکی اور پاکستان دونوں میں چار بار فوجی حکومتوں نے جمہوریت کو تہ تیغ کیا۔ ایک ایک وزیراعظم کو دونوں ممالک میں پھانسی چڑھایا گیا۔ ترکی میں پھانسی چڑھائے جانے والے عدنان مندریس کے نظریات پر کاربند لوگ حکومت میں آئے تو پاکستان میں بھی ذوالفقار علی بھٹو کے جانشین بھٹو کی قربانیوں کے صلے میں ایک دوبار نہیں تین بار حکومت میں آئے۔ عدنان مندریس کو بعداز مرگ قومی ہیرو کا درجہ ملا تو پاکستان میں بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو اپنی پارٹی اور اس ملک کروڑوں عوام کے لیے ہیرو کا درجہ رکھتے ہیں۔ لیکن بھٹو صاحب کو سرکاری طور پر قومی ہیرو کا درجہ اسی وقت مل سکتا ہے جب عدالت عظمیٰ ان کو قتل کے مقدمے میں بری کر دے گی جس میں بھٹو شہید کو موت کی سزا سے ہمکنار کیا گیا تھا۔ برسبیل تذکرہ عدنان مندریس کی پھانسی پر عمل درآمد رکوانے کے لیے ایوب خان نے اپنے نوجوان وزیر ذوالفقار علی بھٹو کو ترک جرنیلوں سے ان کی سزا کی معافی کے لیے بھیجا تھا۔ بھٹو صاحب تمام تر کوشش کے باوجود عدنان مندریس کو تو نہ بچا سکے البتہ خود بھی اٹھارہ سال بعد اپنے ہی جرنیلوں کے ہاتھوں عدنان مندریس کے سے انجام سے دوچار ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کے گھاٹ اترے آج 33سال ہو چکے ہیں اس دوران پیپلزپارٹی آج تیسری بار اقتدار میں ہے۔ بھٹو کی سزا ئے موت پر نظرثانی کا کیس 1988ء میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے پہلے دور میں ہی کھل جانا چاہیے تھا لیکن دونوں ادوار میں خاموشی اختیار کی گئی۔ زرداری صاحب کی سربراہی میں پیپلزپارٹی کو اقتدار ملا تو تین سال نہ جانے کیا سوچتے رہے۔ بھٹو کی پھانسی کا کیس کھولنا ایک اچھا فیصلہ تھا لیکن اس کے انتہائی غلط وقت کا انتخاب کیا گیا۔یہ وہ دور تھا جب عدالتوں اور پاکستان پیپلزپارٹی کے درمیان ایک شدید قسم کا اندرونی کھچائو موجود تھا ۔میری اس بات سے اتفاق نہ سہی مگر یہ بات اپنی جگہ مسلمہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے ہمیشہ غلط وقت پر زیادہ جذبات دکھا کر خود ہی کو نقصان پہنچایا ہے۔بابراعوان اس کیس میں وکیل مقرر کیے گئے وہ کیس جیتنے کے لیے دلائل دینے کی بجائے جذباتیت کا مظاہرہ کرتے رہے۔ وہ ایسے جذباتی ہوئے کہ اپنا لائسنس دائو پر لگا بیٹھے۔ اب شہید ذوالفقار علی بھٹو کی برسی پر پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ’’بھٹو کا قتل عدالتی قتل تھا۔ سپریم کورٹ اس پر معافی مانگے۔ سپریم کورٹ کے لیے انصاف کی فراہمی کا یہ سنہری موقع ہے۔ سپریم کورٹ تاریخی غلطی کو درست کر سکتی ہے۔‘‘ یقینا ذوالفقار علی بھٹو کو سزائے موت دینے کے لیے وہی کچھ پاکستان میں ہوا جیسا ترکی میں ہوا تھا ججوں اور جرنیلوں نے مل کر ایک منتخب وزیراعظم کو سزائے موت سے ہمکنار کر دیا۔ یہ فیصلہ واپس لیا جانا چاہیے جو سپریم کورٹ ہی واپس لے سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک آئینی اور قانونی طریقہ کار ہے۔ سپریم کورٹ سے بندوق کی نالی پر اپنی مرضی کا فیصلہ کم از کم موجودہ عدلیہ کی موجودگی میں لینا ناممکن ہے۔ بلاول بھٹو صاحب کے بیان دراصل ان کی نوجوان سوچ اور جذبات نے ان کی سیاسی اسٹیٹمنٹ کوخاصہ دھمکی آمیز بنا دیا ۔ اگر واقعی حکمران پارٹی بھٹو کے حق میں فیصلہ چاہتی ہے تو صبر، ضبط اور تحمل کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ان کو یاد رکھنا چاہیے کہ اگر جذباتی ہو کر دھونس، دھمکیوں اور بلیک میلنگ سے کام نکالنے کی کوشش کی گئی تو پھر بھٹو کو سرکاری سطح پر عدلیہ کے ذریعے قومی درجہ دلانے کا خواب ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ادھورا رہ جائے گا۔ ایک طرف آپ عدلیہ سے بھٹو کے معاملے میں معافی کی توقع رکھتے ہیں دوسری طرف اس کے فیصلوں کو روندنے سے بھی دریغ نہیں کرتے مگر تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان پیپلزپارٹی نے ہمیشہ عدالتوں سے ہی بڑے بڑے نقصانات اٹھائے اور آج بھی اگر ہم جذبات کی رو میں بہہ گئے اور کوئی صحیح فیصلہ نہ کر سکے تو یقینا تاریخ ہمیں ماضی کی طرح معاف نہیں کرے گی۔ابھی تو این آر او کیس ہنوز عملدرآمد کا منتظر ہے، رینٹل پاور کے منصوبوں میں اربوں کی کرپشن ثابت ہو چکی ،مہران بینک سکینڈل اور یونس حبیب کیس ،سانحہ ایبٹ آباد، سانحہ سلالہ چیک پوسٹ اور میمو گیٹ سکینڈل سب کے سامنے ہے ۔حکومت بجائے اس کے کہ مجرموں پر ہاتھ ڈالے الٹا سپریم کورٹ کو موردِ الزام ٹھہرا کر اربوں روپے ہضم کرنے والوں کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ ہماری حکومت کا پہلا وزیر حج بھی کرپشن کے الزامات پر جیل میں ہے۔ ایک طرف عدلیہ کے حوالے سے اس کے فیصلوں کی تذلیل اور تضحیک کا یہ رویہ دوسری طرف اس پر دبائو کہ بھٹو کیس کا فیصلہ فوری طور پر حکومتی پارٹی کے حق میں کیاجائے ناخوشگوار صورت پیدا کر سکتا ہے۔ میں اپنی پارٹی کے ناخدائوں سے دست بستہ عرض کروں گا کہ وہ عدلیہ کے ساتھ مخاصمت کا رویہ ترک کرکے اس کے ساتھ تعاون اور اس کے فیصلوں پر ان کی روح کے مطابق عمل کرے تو عدلیہ کی طرف سے بھی ان کی درخواستوں پر ہمدردانہ غور ہو سکتا ہے۔یہی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی مفاہمت کی سیاست ہے یا پھر پاکستان پیپلزپارٹی نے واقعی ہر بار کی طرح اس بار بھی شہادت کے عظیم مرتبے پہ فائز ہونے کا ارادہ کر لیا ہے۔ہماری حکومت کو اب تک چار سال مکمل کرنے کا موقع ملا ہے مگر ہم نے ان چار سالوں میں عوام کو ماسوائے کھوکھلے نعروں اور خالی پیٹ بھوک ،افلاس اور غربت کے سوا کیا دیا ہے؟اس لیے اگلے الیکشن میں جانے اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے ہمیں مفاہمت کی سیاست کو اپناناہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus