×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
آمریت سے بدتر جمہوریت
Dated: 14-Apr-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان میں آمریت کا معمار جنرل اور خودساختہ فیلڈ مارشل ایوب خان تکبر و غرور کا شاہکار تھا۔ فوجی طاقت کا تفاخر اور ساتھ صدارتی اختیارات کی نخوت نے اس کی آنکھوں سے ایسی حیا چھینی کہ اس کے اندر سے انسانیت اور آدمیت بھی مفقود نظر آتی تھی۔ اس کی نظروں میں رمق بھر شرم اور دل میں ذرہ برابر احترام محسنین ہوتا تو قائداعظم محمد علی جناح کی ہمشیرہ اور مادرِ ملت کے مقابلے میں صدارتی الیکشن نہ لڑتا۔ الیکشن تو چلو لڑ لیا۔ اس کے اندر ایمانداری و دیانتداری کا کوئی بیج ہوتا الیکشن میں دھاندلی کرکے قوم کے جذبات کا خون نہ کرتا۔ اس نے اپنے 10سالہ دورِ اقتدار میں اپنی گردن سے تکبر کا سریانہ نکلنے دیا۔ جو دل میں آیا وہ کرتا رہا۔ پنجابی محاورے کے مطابق اسے ’’لتھی چڑھی‘‘کی کوئی پرواہ نہ تھی۔ لوگ سوچتے تھے کہ اسے کیا کوئی واقعہ ،کوئی بات یا اقدام جھکنے پر مجبور کر سکتا ہے؟ اکثر لوگوں کی رائے تھی ’’نہیں‘‘ پھر صرف اس جہاں نے ہی نہیں آسمان نے بھی دیکھا کہ اپنی اولاد کے مجرمانہ کردار نے فوجی و سول طاقت کے سرچشمہ آمر مطلق کو جھکنے پر مجبور کر دیا۔ اپنی بدنامی دیکھتے ہوئے اس نے چھلکتی آنکھوں سے استعفیٰ دیا اور بوجھل قدموں سے اقتدار کے ایوان سے نکل کر اپنے گھر منتقل ہو گیا۔ اس کے دل و دماغ کے کسی نہاں خانے میں غیرت کی کوئی چنگاری سلگ رہی تھی جس نے اسے اندر سے جلا کر راکھ کر دیا اور بالآخر اولاد کے جرائم کی شرمندگی میں اقتدار سے الگ ہونے کے جلد بعد موت کی وادی میں اتر گیا۔ ایوب خان کے حوالے سے رام کہانی سنانے کی ضرورت وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے موسیٰ گیلانی جو رکن قومی اسمبلی بھی ہیں کی کرپشن کی نئی کہانی منظر عام پر آنے کے باعث محسوس ہوئی۔ موسیٰ گیلانی کے علاوہ بھی خاندانِ مرشدان کا کردار خاندانِ مجاوران جیسا ہو چکا ہے۔ ان کی ’’پارسائی‘‘ کا شہرہ گلی گلی اور قریہ قریہ سے ہوتا ہوا گائوں گائوں ، شہر شہر اور ملک ملک پھیل چکا ہے۔ بڑے بیٹے کا نام حج کرپشن کیس میں لیا جاتا ہے۔ اہلیہ محترمہ کی لندن میں خریداری کی کہانیاں زبان زدِ عام اور ملتانیوں میں خصوصی طور پر مشہور ہیں۔ خریداری کوئی جرم نہیں تاہم قرضے بخشوا لینا، اقرباپروری اور اختیارات کے استعمال کے کس زمرے میں آتا ہے؟ خود وزیراعظم بھی کرپشن کے حوالے سے اٹھنے والی انگلیوں سے محفوظ نہیں ہیں۔ وزیراعظم بننے سے قبل وہ اپنا بوریا بستر باندھ کر کرائے کے گھر میں منتقل ہونے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اقتدار کا’’ ہُما‘‘ ایسا سر پر بیٹھا کہ ان پر دھن برسنے لگا۔ آج وہ ہر بڑے شہر میں کئی کئی کوٹھیوں اور بنگلوں کے مالک ہیں۔ ہم ان کی دیانت پر کوئی بات کریں یا نہ کریں سپریم کورٹ کا یہ کہنا ہے پوری دنیا کو وزیراعظم کے کردار سے باخبر کر دیتا ہے۔ توہین عدالت میں سپریم کورٹ نے کہا تھا ’’بادی النظر میں وزیراعظم دیانت دار نہیں رہے۔‘‘ انسان کا کوئی اصول ہوتا ہے، اخلاقیات ہوتی ہیں۔ ہمارے یہاں اقتدار اور اقتدار سے ہی ہر صورت چمٹے رہنے کو اصول بنا لیا گیا ہے۔ گذشتہ چار سال میں المناک سانحات اور واقعات وقوع پذیر ہوئے ان میں سے ہر واقعہ نہ صرف وزیراعظم بلکہ پوری کابینہ کے مستعفی ہونے کا متقاضی تھا۔ این آر او کیس میں حکمران قصوروار ثابت ہوئے۔ معاملہ وزیراعظم پر توہین عدالت کا مجرم ثابت ہونے تک جا پہنچا۔ رینٹل پاور پلانٹس میں کھربوں کی کرپشن ثابت ہوئی، عدالت نے مجرموں کی نشاندہی کی وزیراعظم نے اعتراف کیا کہ اس میں پوری کابینہ ملوث ہے۔ ایبٹ آبادآپریشن ملکی سلامتی پر بھیانک حملہ تھا۔ مہران بیس دہشتگری اور سلاسلہ چیک پوسٹ پر امریکی حملے یہ ایسے سانحات ہیں جن پر حکومت کو مستعفی ہونا چاہیے تھا لیکن اصول اور اخلاقیات کا مظاہرہ کرنے کے بجائے ہر صورت اقتدار سے چمٹے رہنے کا رویہ اختیار کیا گیا۔ خاندان پر کرپشن کے پہلے الزام پر ہی کم از کم وزیراعظم کو تو گھر کی راہ لینی چاہیے تھی۔ موسیٰ گیلانی پر الزام سے تو انتہا ہو گئی۔ اسے ڈرگ کیس کا نام دیا گیا ہے یہ کیس سامنے آیا تو اے این ایف نے انکوائری شروع کی جس پر فوری طور پر ڈی جی انٹی نارکوٹکس میجر جنرل شکیل کو برطرف کر دیا۔ بریگیڈیئر فہیم کو انکوائری کرنے پر تبدیل کر دیا گیا۔ اگر موسیٰ گیلانی کا اس فراڈ میں کوئی کردار اور قصور نہیں تو پھر انکوائری کی راہ میں اتنی بڑی رکاوٹیں ڈالنے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ گیلانی صاحب کہتے کہ ڈرگ کوٹہ میں ان کا بیٹا بے قصور ہے ان کو ان کے بچوں کے ذریعے جھکانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اپنی بے گناہی ثابت کرنے کا بہترین فورم عدلیہ ہے۔ معاملے کو جبری طریقے سے دبانے کے بجائے بیٹے کو عدلیہ سے کلیئر کرائیں نہ کہ ان کی روپوشی اور انکوائری ٹھپ کرنے میں معاونت کریں۔ آپ سیاستدان ہیں، جمہوریت کی سیڑھی سے اقتدار میں آتے ہیں۔ عدلیہ کی ایسی توہین تو آمریت کے ادوار میں بھی نہیں ہوئی ۔ آمریت کے بانی ایوب خان تو اپنی اولاد کے مجرمانہ اقدامات پر ایسے دل گرفتہ ہوئے کہ اقتدار سے الگ ہو کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ آپ تو جمہوریت کی پیداوار ہیں کم از کم اپنے بیٹے کی انکوائری مکمل اور عدلیہ کی طرف سے کلیئر ہونے تک تو استعفیٰ دے دیں۔ کسی ایک معاملے میں ہی اصول پسندی کا اظہار کر دیں۔ جمہوریت کو آمریت سے بدتر تو نہ بنائیں۔اپنے وقار کا خیال نہیں تو عزتِ سادات کی ہی فکر کر لیں۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے، عزت انمول ہے، اس کا ہی احساس کر لیں۔ آپ جیسے لوگوں کے اعمال کے باعث شہید بھٹوز کی پارٹی ڈوب رہی ہے اسے پستی کی پاتال تک تو نہ لے جائیں کہ جہاں سے یہ صدیوں میں بھی اٹھ نہ سکے۔ مملکت خداداد پاکستان شاید خطہ ارض میں وہ واحد مملکت ہے جس کا موجودہ وزیراعظم نہ صرف سزایافتہ ہے بلکہ اسے سزا کے پانچ سال پورے بھی کرنا پڑے۔ میرے جیسے پیپلزپارٹی کے لاکھوں کروڑوں کارکن جو دیوار کے ساتھ لگا دیئے گئے ہیں کیا پاکستان پیپلزپارٹی کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی کرسی پر بٹھانے کے لیے ایک ایسا شخص ہی کیوں ملا جس کو نہ صرف سزا ہو چکی تھی بلکہ اس کا دامن کرپشن کے داغوں تار تار تھا۔وزیراعظم اور اس کے اہل خانہ کی اس لوٹ مار سیل میں جو لوگ بھی ملوث ہیںپارٹی کو چاہیے ان کا فوری طور پر ’’سیلف احتساب‘‘ کرے۔وگرنہ ملک کی یہ سب سے بڑی وفاقی پارٹی کو آئندہ الیکشن میں پولنگ ایجنٹ تک میسر نہ ہوں گے لیکن وزیراعظم اور اس کی کابینہ کو اس سے کیا مطلب؟وزیراعظم سمیت پوری کابینہ ہی لگتا یوں ہے کہ ’’دیہاڑی‘‘ لگانے آئے ہیں۔خدانخواستہ ملک رہے نہ رہے ،پارٹی رہے نہ رہے ،عوام رہے نہ رہیں یہ اقتدار کے بھوکے ’’ڈریکولے‘‘ہمارا خون چوسنے میں مصروف ہیں اور جب تک ان کو زبردستی ایسا کرنے سے منع نہ کیا گیا اس وقت تک یہ اقتدار کے ڈھانچے سے کسی چمگادڑ کی طرح چمٹے رہیں گے۔اس ملک کے میرے سمیت کروڑوں جیالے شریک چیئرمین جناب آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے شہید محترمہ بے نظر بھٹو کا واسطہ دے کر اپیل کرتے ہیں کہ خدارا جو ہو چکا سو ہو چکا اب ان سیاسی چمگادڑوں سے ہماری جان چھڑایئے اور پارٹی کو شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ویژن کے مطابق چلایئے۔اس کے لیے بے شک ہمیں اپوزیشن میں ہی کیوں نہ بیٹھنا پڑے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus