×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یومِ تکبیر پر بھٹو شہیدکی برسرِ اقتدار پارٹی کی مجرمانہ خاموشی
Dated: 30-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1966ء میں بھارت کے مذموم عزائم کو بھانپ لیا ان تک بھارت کے ایٹمی پروگرام میں پیشرفت کی خبریں اور اطلاعات پہنچ رہی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس وقت عزم ظاہر کیا تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت ضرور بنے گا خواہ اس کے لیے ہمیںگھاس ہی کیوں نہ کھانی پڑے۔ بھٹو شہید نے ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کے لیے ایوب خان کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کی لیکن وہ مستقبل بینی کی صلاحیت سے تہی دامن تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کو دسمبر1971ء کو ایسی صورت میں اقتدار ملا کہ ملک دو لخت ہو کر خون میں تر بہ تر اور کٹا پھٹا تھا۔ قوم مایوس اور 93ہزار فوجی و سویلین دشمن کی قید میں تھے۔ بھٹو نے زخموں سے چور پاکستان کو توانا ومضبوط بنانے کے لیے دن رات ایک کر دیا۔بھٹو پر ایک تیسرا طبقہ تنقید کرتا ہے میراان سے سوال ہے کہ ذرااُن حالات اور واقعات کو اپنے پیش نظر رکھیں اور بھٹوصاحب کے اقدامات کا جائزہ لیں تو آپ پر واضح ہوگا کہ قائداعظم کے بعد پاکستان کے لیے ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات کسی بھی حکمران سے بڑھ کر ہیں۔93ہزار قیدیوں کی ظالم اور جابر دشمن بھارت کے پنجے سے رہائی، اسلامی سربراہی کانفرنس، مزدوروں کو حقوق کا شعور، تعلیمی اصلاحات ،قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینا اور پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد رکھنا۔ بلاشبہ ایٹمی پروگرام کا آغاز ذوالفقار علی بھٹو کا نامساعد حالات کے باوجود ایک ناقابلِ فراموش کارنامہ ہے۔ نامساعد حالات یوں کہ امریکہ سرکار پاکستان کے ایٹمی طاقت بننے کی راہ میں ہرطرح کی رکاوٹ ڈال رہی تھی۔ اس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ ایک روز ذوالفقار علی بھٹو راولپنڈی کے راجہ بازار میں آئے اور عام لوگوں کو ایک خط لہرا کر دکھایا جو امریکی وزیر خارجہ ہنری کسنجر نے ان کو لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ پاکستان ایٹمی قوت کے حصول سے باز نہ آیا تو آپ کو عبرت کا نشان بنا دیں گے۔بھٹو صاحب نے چونکہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا عزم کر لیا تھا۔ اس لیے امریکہ کی دھمکی کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا۔اور پھر واقعی بھٹو صاحب کو عبرت کا نشان بنا دیا گیا تاہم وہ اپنے عزم و ارادے کو عملی جامہ پہنا چکے تھے۔ بھارت نے 1973ء میں یوکوان میں ایٹمی دھماکہ کرکے پاکستان کو بھی اس راہ پر تیزی سے گامزن ہونے پر مجبور کر دیا۔ بھٹو صاحب کو ایٹمی سائنسدانوں کی ضرورت تھی۔ یہ مشکل ہالینڈ میں موجود ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بھٹو صاحب کو ایٹم بم بنانے کی پیشکش کرکے آسان کر دی۔ بھٹو صاحب نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان بلایا اور پاکستان کو ایٹمی قوت سے ہمکنار کرنے کے لیے وسائل کے منہ کھول دیئے۔ڈاکٹر قدیر خان ایٹم بم کی الف سے لے کر یے تک اس پراجیکٹ کے ساتھ منسلک رہے۔ڈاکٹر خان کی انہی خدمات کے اعتراف میں ’’نوائے وقت‘‘ نے ان کو ’’محسن پاکستان‘‘ قرار دیا۔ بہرحال سیاسی اختلافات اپنی جگہ بھٹو صاحب اور ان کے بعد آنے والے ہر حکمران نے پاکستان کے ایٹمی پروگرام پر کوئی سمجھوتہ نہ کیا۔ حتیٰ کہ وہ دن آ گیا کہ پورے عالمی دبائو کے باوجود وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے 28 مئی 1998ء کو بھارت کے 13مئی 1998کو ہونے والے 5دھماکوں کے جواب میں سات دھماکے کرکے پاکستان کو دنیا کی اعلانیہ ساتویں اور عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنا دیا۔ یہ اصل میں 73میں بھارت کے اس ایٹمی دھماکے کا بھی جواب تھا جو بھارت نے یوکوان میں کیا جس پر بھٹو صاحب نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا عزم کیا تھا جس کو میاں نوازشریف نے عملی جامہ پہنایا۔ پاکستان کے پروگرام کو انتہا تک پہنچانے کا سہرا نوازشریف کے سر ہے تو ابتدا کا کریڈٹ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو جاتا ہے۔ ایٹمی پروگرام کی وجہ سے ہی ذوالفقار علی بھٹو اور میاں نوازشریف کی استعماری طاقتوں نے جان لینے کی کوشش کی۔ بھٹو صاحب کو تو موت سے ہمکنار کر دیا گیا میاں نوازشریف کو بھی ایسے ہی حالات کا سامنا تھا تاہم خدا نے ان کو محفوظ رکھا۔ 28مئی پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا دن قوم کے ہر فرد کے لیے فخر و انبساط کا دن ہے۔ میاں نوازشریف کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران ایک مہم کے بعد اس قابلِ فخر دن کو یومِ تکبیر کا نام دیا گیا۔ 1999ء کو یہ دن قومی دن کے طور پر منایا گیا اس کے بعد مشرف نے سیاسی مخاصمت کے باعث اس عظیم الشان دن کو فراموش کر دیا۔ ق لیگ چونکہ مشرف کی پروردہ تھی وہ اس کے نقش قدم پر چلی۔ ساڑھے چار سال سے ایٹمی پروگرام کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کی حکومت ہے۔ اس کی طرف سے گذشتہ سالوں کی طرح اس سال بھی یومِ تکبیر پر خاموشی اختیار کی گئی۔ وجہ یہی سمجھ میں آتی ہے کہ ایٹمی دھماکے کرنے کا اعزاز میاں نوازشریف کو حاصل ہے جو آج اپوزیشن میں ہیں۔ ایسے میں پیپلزپارٹی کی حکومت یہ بھی بھول گئی کہ ایٹمی پروگرام کی ابتدا تو بھٹو شہید نے کی تھی۔ ان کو چاہیے تھا کہ اس دن کو قومی دن کا درجہ دیتے ہوئے یہ معاملہ اپنے کنٹرول میں کرتے۔ میاں نوازشریف کو پروگرام اختتام پر پہنچانے کا کریڈٹ دیتے اور بھٹو صاحب کو پروگرام کی شروعات کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتے۔ میں پیپلزپارٹی کو یومِ تکبیر پر کوئی تقریب منعقد نہ کرنے پر مجرمانہ خاموشی کا مجرم سمجھتا ہوں۔ اگر یومِ تکبیر پر اختلاف ہے جو کہ میاں نوازشریف کی وزارتِ عظمیٰ کے دوران رکھا گیا تھا تو آپ اس دن کو یومِ تفاخر یا یومِ تہنیت یا کوئی بھی دیگر مناسب اور خوبصورت نام دے لیں۔ مجھے پیپلزپارٹی کی حکومت پر اپنے بانی کی قربانیوں کو فراموش کرنے پر افسوس ہوتا ہے۔ میں اس کو ایسے پڑوسی کا رویہ قرار دیتا ہوں جو کہتا ہے ’’پڑوسی کی مَجھ مرنی چاہیے خواہ میری دیوار گر جائے۔‘‘
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus