×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نکمّے اور نااہل مگر وزراء۔۔۔۔
Dated: 05-Jun-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت کو ریکارڈ ساز حکومت کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے وزیراعظم لیاقت علی خان کا زیادہ عرصہ تک وزیراعظم رہنے کا ریکارڈ توڑا تو فخر سے پھولے نہیں سما رہے۔ میڈیا میں وہ خود کو ریکارڈ سازوزیراعظم کے طور پر پیش کر رہے ہیں۔ صدر آصف علی زرداری صاحب کی سرپرستی اور گیلانی صاحب کی سربراہی میں موجود حکومت نے اور بھی بہت سے ریکارڈ بنائے ہیں ان میں اہم کرپشن میں ریکارڈ، اندرونی و بیرونی قرضے حاصل کرنے کا ریکارڈ، بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ کا ریکارڈ، ساتھ ہی ان کی قیمتوں میں اضافے کا ریکارڈ، تیل کو 100روپے سے اوپر لے جانے کا ریکارڈ، صدر اور وزیراعظم کے بیرونی دوروں کا ریکارڈ،ڈالر کی قیمت 100کے قریب پہنچانے کا ریکارڈ، بدامنی کا ریکارڈ، کابینہ کی تعداد 100سے اوپر لے جا کر اسے 24پر لانا اور پھر پہلے والی سطح پر لے جانے کا جتن کرنے کا ریکارڈ، سب سے بڑھ کر عدالتوں کے فیصلوں کی تضحیک اور فیصلے نہ ماننے کا ریکارڈ اور یہ ریکارڈ بھی کم اہمیت کا حامل نہیں کہ حکومت نے 5بجٹ پیش کیے جن کے لیے 4وزرائے خزانہ کی خدمات حاصل کی گئیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کبھی بھی ذہانت، دانشوری اور مہارت کے حوالے سے بانجھ نہیں رہی۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید واقعتا لیجنڈ اور جینیئس تھے۔ ان کی کابینہ، ساتھی اور مشیر بھی اہل لوگ تھے۔بدقسمتی سے پارٹی قیادت ایسے لوگوں کے ہاتھ آئی جو اسے اپنی وراثت قرار دیتے ہیں۔ وراثت تو ٹرانسفر ہو گئی یا کر لی گئی لیکن بانیان پیپلزپارٹی جیسی ذہانت، دانشوری، مہارت اور سیاست ان کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ یہی وجہ ہے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور ذواالفقار علی بھٹو شہید کا حلقہ بھی اپنے جیسے جینیئس لوگوں پر مشتمل تھا۔ ان کے وارثوں نے پارٹی سے لیجنڈز کو نظرانداز کرکے عہدے ایسے لوگوں میں بانٹ دیئے جو ان کی قماش کے لوگ تھے۔ خدمتگاروں اور نالائقوں کو پکڑ پکڑ کر ،سزایافتگان کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر عہدے دیئے گئے اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے۔ آج مہنگائی، بیروزگاری، کرپشن، لاقانونیت سمیت تمام مسائل کی بنیادی وجہ زمامِ اقتدار کا نااہل اور کرپٹ لوگوں کے ہاتھ میں آ جانا ہے۔ چار سال تک وزیر دفاع ایسے شخص کو لگائے رکھا گیا جسے اپنی ذمہ داریوں کا احساس تھانہ اختیارات کے استعمال کا سلیقہ و طریقہ تھا وہ اپنی ماتحت فوج پر ہی الزام لگا دیتاتھا۔ کل ان کی وزارت بدل دی گئی وہ جاتے جاتے مسئلہ سیاچن کے حل ہونے کی ذمہ داری فوج پر ڈال گئے۔ نیٹوسپلائی کے لیے پاکستان میں سب سے زیادہ اگر کوئی شخص بے قرار تھا اور ہے تو یہی صاحب ہیں جنہوں نے بطور وزیر دفاع بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے کی بڑھ چڑھ کر باتیں کیں۔ ایبٹ آباد اپریشن پر جرأت مندانہ موقف اپنانے کے بجائے کہتے رہے کہ اسامہ کو پاک فوج اور امریکہ نے مل کر مارا ہے۔ وزارت دفاع کا قلم دان ان کے حوالے کرنا ایسا ہی تھا جیسے ٹرک ڈرائیور کے حوالے ریلوے انجن کر دیا جائے۔ اب یہ حضرت وزارت پانی و بجلی کا بیڑا غرق کریں گے جیسے راجہ پرویز اشرف نے لوٹ مار کرکے ساحل سے دور کیا اور نوید قمر نے خوابیدگی کی حالات میں اسے بھنور میں دھکیل دیا۔ احمد مختار تو رات کو سوتے تھے نوید قمر دن کو بھی سوئے رہتے ہیں۔ اب وزارت دفاع کا خدا حافظ نوید قمر کے حوالے ہوئی ہے تو گویا ٹرک ڈرائیور کے حوالے مسافر جہاز کر دیا گیا۔ خدا وزارت دفاع اور وزارت پانی و بجلی کی حفاظت فرمائے۔کسی بھی ایک شعبے میں کوئی بندہ میرٹ پر نہیں اوپر سے اتحادیوں کو خوش کرنے کے لیے جو محکمہ انہوں نے مانگا ان کو دان کر دیا گیا۔ بابر غوری کو وزارت شپنگ کی عادت سی ہو گئی ہے۔ اس کا وہ بیڑا بھی خوب غرق کر رہے ہیں ۔ غلام احمد بلور نے تو ریلوے کے پلے کچھ نہیں چھوڑا۔ وزارتیں بدلنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔پیپلزپارٹی کے حب سندھ جہاں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت ہے وہاں پر وزیروں کے بدلنے کی سیل لگی ہوئی ہے۔شازیہ مری، شرمیلا فاروقی،سسی پلیجو ،ذوالفقار مرزا،شرجیل میمن ،صادق میمن اورمنظور وسان سمیت درجن بھر وزراء کو یا تو تبدیل کیا گیا یاپھر ان کو فارغ کر دیا گیا۔سندھ میں عجیب سی بے یقینی کی کیفیت ہے کوئی وزیر صبح آفس جائے تو اس کا پی اے اسے بتاتا ہے کہ سر آج آپ کا یہ آفس نہیں ہے ۔ یہ عجب طریقہ کار ہے کہ پِٹے ہوئے وزراء کو نااہل قرار دینے کی بجائے نئے محکمے کی وزارت تھوپ دی جائے۔ محکموں میں ردوبدل کا کارکردگی سے بڑا تعلق ہے پنجابی میں مثال ہے کہ ’’جیہڑا ایتھے بھیڑااور لہور وی بھیڑا‘‘یا پھر کارکردگی کے متعلق ایک مشہور لطیفہ ہے کہ ایک شخص منڈی مویشیاں میں گائے خریدنے کے لیے گیا۔ بیوپاری کے پاس دو گائے تھیں۔گاہک نے پوچھا ان کی کیا قیمتیں ہیں بیوپاری نے جواب دیا یہ جو بائیں طرف کھڑی ہے یہ بیس لیٹر دودھ دیتی ہے اور ایک بچھڑا بھی اس کے ساتھ ہے اور اس کی قیمت پچاس ہزار روپے ہے اور جو دائیں طرف کھڑی ہے یہ نہ تو دودھ دیتی ہے اور نہ یہ کبھی دودھ دے گی اس کی قیمت ایک لاکھ روپیہ ہے ۔ گاہک نے حیرانگی سے پوچھا یہ کیسا تضاد ہے ؟ کہ جو دودھ دیتی ہے وہ پچاس ہزار کی اور جو کچھ نہیں دیتی وہ ایک لاکھ روپے کی تو بیوپاری نے جواب دیا بھائی صاحب کریکٹر بھی کوئی چیز ہوتی ہے یہ جو گائے دودھ نہیںدیتی یہ بڑے مضبوط کریکٹر کی ہے۔ تو لگتا ہے کہ ہمارے وزیراعظم صاحب نے اپنی کابینہ کی کارکردگی کا معیار بھی ان کے کریکٹر پر رکھا ہے ۔یا وزیراعظم صاحب کہیں نااہل وزراء کے محکموں کو بار بار بدل کر اپنی حکومت کے چلے جانے سے پہلے ان کے وزراء پر لگے الزامات دھونے کی کوشش تو نہیں؟لگتا ہے کہ کابینہ کے ہروزیر کو یہ ٹاسک دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان پیپلزپارٹی کو ’’قصۂ پارینہ‘‘ بنا دے۔غریبوں سے روٹی ،کپڑا ،مکان کا خواب بھی چھین لیا جائے اور وہ کام جو تین ڈکٹیٹر مل کر نہ کر سکے وزیراعظم نے وہ کام پیپلزپارٹی کے وزراء کو سونپ دیا ہے۔ میںایک بار پھر کہوں گا کہ پیپلزپارٹی کے پاس اہل افراد کی کمی نہیں۔ آج نالائقوں اور نااہلوں نے ملک کو جس نہج پر پہنچا دیا اور پیپلزپارٹی کو ملک کی غیر مقبول ترین جماعت بنا دیا ۔ ملک اور پارٹی کو بھنور سے اہل لوگ نکال سکتے ہیں۔ ’’معطل شاہ گیلانی‘‘ سے زرداری صاحب جان چھڑائیں۔ یہ الیکشن کا سال ہے۔ ہر ادارے اور شعبے میں میرٹ کو رواج دیں تو یہ بھی ایک ریکارڈ ہوگا کہ آخری سال پاکستان پیپلزپارٹی نے میرٹ کو فروغ دے کر ایک بار پھر پہلے جیسی مقبولیت حاصل کر لی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus