×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا پاکستان ایک دہشت گرد ریاست ہے؟
Dated: 14-Dec-2008
ایک انتہائی معتبر دفاعی ماہر ایک نجی مجلس میں بتا رہے تھے کہ 3دسمبر کو امریکی وزیر خارجہ دہلی میں تھیں تو ان کو ممبئی بم دھماکوں کے اہم ثبوت فراہم کر دیئے گئے۔ رائس نے فوراً پاکستان میں اپنے سفارتخانے سے رابطہ کیا۔ جہاں سے غیرملکی یورپین صحافیوں کی ٹیم برق رفتاری سے فرید کوٹ پہنچ گئی۔ جس نے اجمل قصاب جو مبینہ طور پر ممبئی دھماکوں میں ملوث اور بھارتی حکومت کی تحویل میں ہے۔اس کے لواحقین سے تفصیلی انٹرویوز کیے۔ ان انٹرویوز کی ہماری حکومتوں کو خبر تک نہ ہو سکی۔ جب حکومتی اداروں کو واقعے کی نزاکت کا پتا چلا اور پاکستان کے میڈیا کو اس واقعے کی بھنگ پڑی تو اس وقت تک غیرملکی ٹیم اپنا کام دکھا کر جا چکی تھی۔اس وقت تک اجمل قصاب کے ماں باپ گائوں چھوڑ کر روپوش ہو چکے تھے۔ تاہم گائوں کے مکین کہتے ہیں کہ چار پانچ ماہ قبل اجمل گائوں آیا تو اپنے ہم عمروں سے جہاد کی باتیں کرتا اور کہتا تھا کہ اس نے جہاد کی تربیت حاصل کر لی ہے۔ کراٹوں کا مظاہرہ وہ اپنے دوستوں کے سامنے کرتا تھا۔ روانگی سے قبل اس نے اپنی ماں سے کہا کہ وہ جہاد پر جا رہا ہے اس لیے وہ اس کے سر پر ہاتھ پھیرے۔لیکن اس سے پہلے اس کے ماں باپ غیرملکی ٹیم کو اس سے کچھ زیادہ بتا چکے تھے کہ کس طرح اور کب وہ جہادی قوتوں کا آلہ کار بنا۔اب ان حالات میں جب بھارت کے پاس کافی ثبوت ہاتھ لگ گئے یورپین یونین اور امریکہ کو احساس ہو گیا کہ اس دھماکوں کے پیچھے اگر حکومت پاکستان ملوث نہیں بھی ہے تو کم از کم پاکستان کی جہادی قوتوں کا اس واردات میں ہاتھ ضرور ہے۔اور یہ بات بھی کوئی ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ ان دہشت گردی کے واقعات کے بعد تین نوجوان پاکستان میں داخل ہوئے جس میں سے ایک نے بہاولپور اور دو نے مریدکے کی عیدگاہوں میں نماز عید ادا کی اور فخر سے لوگوں کو بتاتے رہے کہ انہوں نے ممبئی کے حالیہ واقعات میں غازی ہونے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سیاسی قیادتوں کے درمیان تیزی سے اعتماد بحال ہو رہا تھا،امن عمل جاری تھا۔ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اور بھارتی وزیراعظم کے درمیان دو ملاقاتیں بھی ہوئیں، فون پر بھی گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ فون تو اب بھی آتے جاتے ہیں لیکن باہمی اعتماد کی کیفیت بدل چکی ہے۔دراصل حالات کچھ اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ امن پراسیس جب بھی کبھی شروع کیا گیا اور اس کے لیے دونوں طرف سے نیک نیتی کے ساتھ کوششیں اپنا رنگ ابھی لانے کو ہی تھیں تو دونوں طرف کی مذہبی انتہا پسند قوتوں نے امن کے اس پراسیس کی آبیاری کرنے کے بجائے اس کی راہ میں ہمیشہ دیوارِ چین بنانے کی کوشش کی اور پھر نفرتوں کی یہ خلیج وقت کے ساتھ ساتھ دونوں طرف سے امن کے لیے کوششیں کرنے والے افراد کے درمیان اس حد تک بڑھ گئی کہ اس کو عبور کرنا ناممکن بنادیا جاتا رہا ’’اور لڈو کے سانپ کی طرح جو 99کے ہندے پر جا کر ڈس لیتا ہے‘‘ اس مرتبہ بھی یہی کچھ ہوا اور عمل کی سیڑھی اس درمیان کھینچ لی گئی جب ہم منزل کے قریب تر تھے۔ ممبئی کو دہشت گردوں نے ہلا کر رکھ دیا۔ اگر وہ پاکستانی تھے تو انہوں نے کونسی اسلام کی خدمت کی، پاکستان کی خدمت کی۔ غلط ہوا یا صحیح! ایک جہادی تنظیم جو آسمانی آفات کی صورت میں پیش پیش رہتی ہے، تعلیم و صحت کے حوالے سے اہم خدمات انجام دے رہی ہے اس نے اپنے اوپر پابندی لگوالی۔پورے ملک میں اس کے دفاتر بند ہو رہے ہیں۔ ہر کارکن پر گرفتاری کی تلوار لٹک رہی ہے۔ اس کے ہاسپٹل،رفاعی ادارے، سکول اور ڈسپنسریاںاقوام متحدہ کے حکم پر سیل کیے جا رہے ہیں۔اس سے ان لاکھوں غریب لوگ سیکرفائز کریں گے جو ان اداروں سے مستفید ہوتے تھے۔ جماعت الدعوۃ، پاسبان اہلحدیث، پاسبان کشمیر الامین، المدینہ ٹرسٹ،عظمت فائونڈیشن اور الرشید ٹرسٹ پر پابندی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ہدایت پر لگائی گئی ہے۔ یہ کہنا بڑا آسان ہے کہ ہم اقوام متحدہ کی ہدایت کو نظرانداز کر دیتے اور مذکورہ تنظیموں کو ان کے معاملات ان کی مرضی کے مطابق چلانے کی اجازت دیئے رکھتے۔ اس سے متعدد حلقوں میں تو واہ واہ ہو سکتی تھی۔ ملک کا جو حال ہوتا اس کا تصور کرکے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ لیبیا جو اقتصادی لحاظ سے مضبوط ملک تھا اور تیل کی دولت سے مالامال بھی۔اقوام متحدہ کی پابندیوں نے اس کو بھی گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا اور لیبیا کی عوام نے بائیس سال تک قربانیاں دے کر بالآخر مذاکرات کی میز کا انتخاب قبول کیا۔ اسی طرح ایران پر بھی پابندیاں لگیں لیکن اپنی انتہائی مضبوط اقتصادی پوزیشن کی وجہ سے وہ کسی نہ کسی طریقے اب تک سروائیو کر رہا ہے لیکن اب ایرانی وزیرخارجہ کے ایک تازہ بیان کے مطابق وہ بھی امریکہ اور اقوام متحدہ کے ساتھ بیٹھ کر مذاکرات کے لیے تیار نظر آتے ہیں۔اسی طرح شمالی کوریا اور سائوتھ افریقہ بھی لمبے عرصے تک اقوام متحدہ کی پابندیوں کا سامنا نہ کر سکے۔ جبکہ ہم تو اقتصادی طور پر نہ تو اتنے مضبوط ہیں بلکہ اس ملک میں تو آلو،پیاز گندم،چاول،چینی کے بحران آنا کوئی نئی بات نہیں ہے اور پھر پیاز کے بحران آنے پر ہماری نظریں بھارت کی طرف اٹھ جاتی ہیں۔ اس صورت حال میں ہم کب تک اقوام متحدہ کی پابندیوں کو برداشت کرتے۔ ایک بم بنا کر ہی ہم ترقی کی ساری منزلیں طے نہیں کر سکتے۔اگر ہم اقوام متحدہ کی بات نہ مانتے تو ہمیں دہشت گرد ملک قرار دے دینا تھا جس کے بعد پاکستان کو پوری دنیا میں تنہا کر دیا جاتا۔ اور پھر واقعی ہی ہمیں گھاس کھا کر جینا پڑتا۔اور کیا قوم اس کے لیے تیار ہے ؟ پاکستان کی مغربی سرحد امریکی اور اتحادی فوجوں سے Jam Pack ہے مشرقی سرحد پر بھارت دندنانے کی تیاری کر رہا ہے۔ بھارت عیاری اور مکاری سے پاکستان کو نشانے پر رکھنا چاہتا ہے۔ امریکہ بھی اس کے ساتھ مل جائے تو پاکستان دو بارودی طاقتوں کے درمیان سینڈوچ بن کر رہ جائے گا۔جنگ اور بم کی باتیں زبانی کلامی اور جذباتی طور پر اور ایک دوسرے کو متاثر کرنے کے لیے یا کسی تقریری مباحثے کے لیے تو اچھی اور خوبصورت لگتی ہیں۔تمام اسلحہ جلا کر اور پھونک کر بھی اور قوم کو فاقے کروا کر بھی مذاکرات کی میز پرہی آنا پڑتاہے۔ جیسا کہ ہم آدھا ملک گنوا کر بھی اپنے قیدی چھڑانے کے لیے مذاکرات کی میز پر آئے تھے اگر شروع دن سے اپنے ہی لوگوں سے مذاکرات کر لیتے ان کے کچھ مطالبات مان لیتے اور کچھ اپنے منوا لیتے تو ملک کا بٹوارا نہ ہوتا اور نہ ذلت آمیز شکست کا سامنا کرناپڑتا۔ آج چند دنوں بعد پھر 16دسمبر کا دن ہمارے سامنے کھڑا ہمارا منہ چڑا رہا ہے اور ہم پر ہنس رہا کہ ہم نے سقوط ڈھاکہ سے کوئی سبق سیکھنے کی بجائے اپنی نااہلیوں اور جہالتوں پر فخر کرتے ہوئے زمینی حقائق سے نظریں چرا کر اپنی آنے والی نسلوں کو کونسا مستقبل دیا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ 65ء اور 71ء کی جنگوں کے علاوہ چھوٹی بڑی جتنی بھی جنگیں پاکستان اور بھارت کے درمیان لڑی گئیں وہ فوجی ڈکٹیٹر شپ کے آمرانہ دور میں ہم پر مسلط کی گئیں۔آج ملک میں سلطانی جمہور کا دور ہے۔ فیصلے صلاح مشورے اور سوچ بچار کے ساتھ ہو تے ہیں۔ قومیں وہی مضبوط ہوتی ہیں جن کی پشت پر عوام ہوں۔ موجودہ قیادت نے قومی سلامتی کانفرنس بلا کر تمام سیاسی جماعتوں اور اکابرین کا اعتماد حاصل کر لیا اور پوری قوم اس وقت متحد ہو کر حکومت کی پشت پر کھڑی ہے۔ مجھے یقین راسخ ہے کہ صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری اپنی سیاسی فہم و فراست سے ملک کو اس جنگ زدہ بحران سے کامیابی سے نکال لیں گے۔ جو چالاک دشمن اور نادان دوستوں کی وجہ سے گلے پڑ گیا ہے۔ خصوصی طور پر بھارت کی بدقماش انتہا پسند جماعتیں اور ان کے لیڈر امن عمل کے دشمن ہیں۔ کچھ عسکریت پسند حلقوں کی طرف سے جہاد کشمیر کی تو سمجھ آتی ہے لیکن اس جہاد کشمیر کی آگ کو پاکستان کے گلی کوچوں میں بکھیر دینا کہاں کی عقلمندی ہے۔ ایک طرف ہم کرکٹ ٹیموں کے پاکستان کے دورے پر نہ آنے کا واویلا کرتے ہیں دوسری طرف ہماری جہادی تنظیمیں عیسائیوں، یہودیوں اور ہندوئوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتی ہیں۔ اس صورت میں کیا کوئی غیر ملکی کھلاڑی تو کیا کوئی بھی غیرملکی پاکستان آنے کے لیے تیار نہیں ہوگا۔ میاں نوازشریف نے بجا فرمایا کہ ممبئی دھماکوں میں اجمل قصاب ملوث ہے تو حکومت کو سنجیدگی سے اقدامات کرنے چاہئیں۔گذشتہ روز پھر صدر اور وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ ثبوت ملنے پر ممبئی دھماکوں کے ذمہ داروں کے خلاف سخت کاروائی کریں گے تاہم کسی بھی صورت کسی پاکستانی کو بھارت کے حوالے نہیں کریں گے۔ بھارت نے معاملہ سلامتی کونسل میں لے جا کر جلد بازی کی اگر وہ ثبوت پاکستان کو دے دیتا تو یقینا پاکستان خود ہی ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کرتا۔میرے خیال سے اب واقعتا ایسا وقت آ گیا ہے کہ پاکستان کے امن کو تہہ و بالا کرنے کے ذمہ داروں پر عرصہ حیات تنگ کر دیا جائے۔ اس مشن پر حکومت نے سختی سے عمل درآمد کا فیصلہ کر لیا ہے قوم بھی اس کے ہاتھ مضبوط کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ امن کے دشمنوں کا قلع قمع نہ ہو سکے۔وگرنہ دوسری صورت میں ہم چین،انڈونیشیا اور عرب ریاستیں جو کہ اس وقت سلامتی کونسل کا حصہ ہیں انہوں نے پاکستان کی جہادی تنظیموں کے خلاف ویٹو کا حق استعمال نہیں کیا جس سے ہمیں یہ پیغام بھی ملتا ہے کہ خود پاکستان کے دوست ممالک بھی ان جہادی تنظیموں اور ان کی کارستانیوں سے خوش نہیں ہیںجس سے ہمیں یہ نتیجہ اخذ کرنے میں کوئی دقت پیش نہیں آنی چاہیے کہ اگر پاکستان نے اپنے ملک کے اندر اپنی عوام کو ڈسپلن اور ذمہ داریوں کا احساس نہ دلایا تو یقینا وہ دن دور نہیں کہ جب پاکستان کو دہشت گرد ملک قرار دے کر ہمارا ناطقہ بند کر دیا جائے گا ہمارے ملک کے طالبعلموں کا مستقبل باقی نہ بچے گا،ہمارے ملک کا کسان، مزدور،کارخانہ دار، مالک اور اجرت کار سب بیکار ہو جائیں گے ہمارے ملک کی ایئرلائن گرائونڈ کر دی جائے گی اور ہمارا تیل پانی روک کر ہمیں مفلوج بنا دیا جائے گا۔یقینا یہ نقشہ اتنا بھیانک اور خوفناک ہے کہ اس کے تصور سے ہی ڈر آتا ہے اس لیے ہمیں چند جذباتی طالع آزمائوں کی خواہشات کو نظرانداز کرکے اس ملک کے 17کروڑ عوام کو جنہوں نے پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف نائن الیون سے لے کر 2008ء تک مسلسل قربانیاں دے کر اپنے ملک کی لاج رکھی ہے۔70ء کے عشرے کے آخر سے لے کر اب تک ہزاروں پاکستانیوں کو بم دھماکوں کے ذریعے ہلاک کیا گیا ہماری معیشت کو صرف اس لیے کہ ہم نے بین الاقوامی برادری کا ساتھ دیا تباہ و برباد کر دیا گیا۔اس لیے پاکستان جو کہ خوددہشت گردی کا شکار ہے اسے دنیا سے دادو تحسین لینے کی بجائے دہشت گرد ملک قرار دلوانا غیرکی نہیں بلکہ اپنوں کی حماقتوں کا نتیجہ ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus