×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بیٹیاں سب کی سانجھی
Dated: 21-Dec-2008
تاریخ انتقام پر اتر آئے تو کوئی نہیں بچ سکتا۔ اور تاریخ کو انتقام پر جرمِ ضعیفی مائل کرتی ہے۔ میرے سامنے بغداد کی تاریخ کے اوراق کھلے ہیں تیرہویں عیسوی ہلاکو خان نے کشتوں کے پشتے لگا دیئے۔ یہ اُس دور میں ہوا جب رعایا کو تحفظ فراہم کرنے کا ذمہ دار خلیفہ علمائے وقت کی اس بحث میں سرحدوں کے دفاع سے زیادہ دلچسپی لیتا ہے کہ کوّا حلال ہے یا حرام۔ ہلاکون خان کی فوج کی زد میں آنے والوں میں خلیفہ اور کوّے کو حلال اور حرام سمجھنے والے دونوں گروہ شامل تھے۔ 18ویں صدی عیسوی میں تاریخ محمد شاہ رنگیلا پر بھی قہر بن کر لوٹی جب وہ لہوولعب میں مشغول تھا۔ مصاحبین نے خطرے سے آگاہ کیا کہ فوجیں دلی کے دروازے تک پہنچ گئی ہیں اور پھر بتایا کہ فوجیں قلعے کا دروازہ توڑ رہی ہیں تو بادشاہ سلامت صاحب فرما رہے تھے ہنوز دلی دوراست۔ نادر شاہ درانی نے دلی کو تاراج کیا قتل و غارت کی، بادشاہ سمیت تمام فوج اور مصاحبین کو روند ڈالا اور لوٹ مار کرکے واپس چلا گیا۔ 20 ویں صدی میں تاریخ نے ہمیں اس وقت ذلت و پستی کی اتھا گہرائیوں میں اٹھا پھینکا 16دسمبر 1971ء وہ دن تھا جب ہمارے رنگیلے حکمران صدارتی محل میں حسین فاختائوں کے مجرے دیکھ رہے تھے اور پھر سقوطِ ڈھاکہ اس بدقسمت قوم کا مقدر بن گیا۔اگر ہم تاریخ کا اوراق کو پلٹیں تو ہم اس سے یہ سبق سیکھتے ہیں کہ تاریخ میں وہ حکمران یا وہ قومیں جنہوں نے وقت کی نزاکت اور حالات کے تجزیے میں غلطیاں کیں تاریخ نے ان کی غلطیوں کو کبھی معاف نہ کیا اور وہ لوگ اور قومیں بدترین تباہی کا شکار ہوئیں۔جن قوموں نے تعمیر وطن کے لیے لمبی مدت کی پالیسیاں بنائی ہوتی ہیں وہ قومیں تاریخ میں کم زوال پذیر ہوئی ہیں۔ہمارے سامنے امریکہ میں بسنے والے اوریجنل ریڈ انڈیا جن کی تعداد بہت کم،علاقہ بہت محدود اور آج بھی امریکہ کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے کی مثال موجود ہے مگر اس وقت 32کروڑ کے قریب امریکن دراصل پوری دنیا اور یورپ سمیت سے آئے ہوئے وہ پناہ گزین ہیں جو تلاش معاش میں اس نئی دریافت ہونے والی دنیا سے اتنا تعلق جوڑ بیٹھے کہ ان کی آنے والی نسلیں ادھر کی ہو کر رہ گئیں۔اور یوں پوری دنیا کے لوگوں کو ملا کر یونائیٹڈ سٹیٹ آف امریکہ تخلیق پایا۔آج امریکہ جو کہ نسلی لحاظ سے چوں چوں کہ مربے کی حیثیت رکھتا ہے پوری دنیا پر اس لیے حکمرانی کر رہا ہے کہ اس کا ہر پاسپورٹ ہولڈر اپنے آپ کو مکمل امریکن سمجھتا ہے اور ایک پیدائشی امریکن اور غیر پیدائشی امریکن میں کوئی فرق نہیں پایا جاتا۔ جب کہ ہم نے ایک قوم ہوتے ہوئے،ایک مذہب کے پیروکار ہوتے ہوئے، لاکھوں قربانیاں دے کر یہ ملک حاصل کیا مگر اس کی بنیادوں سے خود ہی اینٹیں نکال نکال کر ہم نے اس کی بنیادوں کو اس قدر کھوکھلا کر دیا ہے کہ بقول شاعر: بربادی کا کیا میرے پوچھتے ہو دوست تھوڑی سی خاک ہوا میں اڑا کے دیکھ آج بھی ہماری سرحدوں پر دوست کے روپ میں دشمن دندنا رہے ہیں۔ مغربی سرحد پر امریکہ اور اتحادی فوج مشرقی سرحد پر 10لاکھ بھارتی فوج اسلحہ سے لیس موجود ہے۔ امریکی ڈارون ہماری انا کو ٹھوکروں میں رکھے ہوئے ہیں۔ قوم لاشیں اٹھا اٹھاکر تھک چکی ہے۔ ہماری اساس کا دشمن بھارت بلوچستان میں گھنائونے کھیل کھیل رہا ہے جہاں بیرونی ہاتھ ہمارا عرصہ حیات تنگ کیے ہوئے وہیں ہمارے ناراض بیٹوں کی دستبرد سے ملک کا کوئی شہر محفوظ ہے نہ کوئی گائوں اور گلی کوچہ۔ شہری ہر وقت خودکش حملوں کے خوف سے لرزاں براندام رہتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں عوام سیاسی اکابرین کے کردار سے مایوس دکھائی دیتے ہیں۔ قوم یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ ہمارے سیاسی رہبر جمہوریت کے برگ بار کے نمو کی وجہ تو کیا بنیں گے اس کی آبیاری کرنے کے بھی قابل نہیں۔ گزشتہ ماہ پنجاب حکومت کے ایک ذمہ دار وزیر کی طرف سے گورنر پنجاب کی فیملی کی تصاویر کو بلاجواز اچھالا گیا جس سے سب حلقوں کی طرف سے مذمت کی گئی۔ وزیر موصوف کا یہ اقدام مسلم لیگ ن کی قیادت کے لیے شرمندگی کا باعث بنا۔ پھر چیف جسٹس سپریم کورٹ کی بیٹی کے نمبروں کے کیس کو فرشتوں کے اشارے پر مخصوص میڈیا گروپ نے زمین و آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے اچھالا۔ جس سے 9مارچ 2007ء سے تقسیم در تقسیم قوم کے درمیان نفرت کی نئی لکیر کھینچ دی گئی۔اسی طرح معزول چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کے بیٹے کے ٹرانسفر سکینڈل کو بھی جس طریقے سے اچھالا گیا اس سے ہماری قوم کی ذہنی اپروچ کی عکاسی ہوتی ہے۔موجودہ چیف جسٹس صاحب نے اگر کوئی غلط حرکت کی ہے تو اس کے خلاف انکوائری کے بعد آئین اور قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے نہ کہ ان کی بیٹی جو کہ ہماری بیٹیوں کی طرح ہے اس کا میڈیا ٹرائل کرکے اس کو ساری عمر کے لیے ایک ناکردہ گناہوں کی سزا دی جائے۔محکمہ تعلیم کی ایک رپورٹ کے مطابق اس سارے کیس میں 200کے قریب طالبات کے نمبروں کی دوبارہ جانچ پڑتال کی گئی اور ایک قانون کے مطابق ہر طالب علم کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ یہ سمجھتا ہے اس کے دیئے ہوئے پیپر کی مارکنگ میں کہیں ہوئی جھول ہے تو اسے قانون یہ حق دیتا کہ وہ اس کے لیے درخواست د ے کر ری چیکنگ کروا سکتا ہے۔مجھے قوم کے اکابرین اور میڈیا کے نمائندوں سے پوچھنے کا یہ حق ہے کہ کیا قوم کی یہ بیٹی اب ڈاکٹر بن کر تو کیا پوری زندگی نفسیاتی مریض بن گزار ے گی اور اس کے ذمہ دار وہ لوگ ہیں جو ہر وقت سکینڈلز کی تلاش میں رہتے ہیں کیا صحافت اور سیاست اسی کا نام ہے ؟ہمارے معزز دوست یہ یاد رکھیں کہ شیشے کے گھر میں بیٹھ کر دوسروں پر پتھر پھینکنے والے خود بھی محفوظ نہیں ہوتے اور مخالف سمت سے آنے والا ایک بھی پتھر شیشے کا گھر چکنا چور کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔ 19دسمبر کو ایک اور مذموم حرکت کی گئی مریم نواز شریف کے تعلیم کیریئر کو قومی اسمبلی میں سکینڈلائز کیا گیا۔ ان واقعات کے منظر عام پر آنے کے بعد عوام یہ سوچنے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ وہ کونسے ہاتھ ہیں جو اس قسم کی حرکتیں کر رہے ہیں جس سے سیاستدان اور جمہوریت بدنام ہو رہی ہے۔ کیا سیاستدان اس قابل نہیں کہ ایسے ہاتھوں کو بے نقاب کریں اور ان کو کیفرکردار تک پہنچا دیں۔ بیٹی میری ہو یا آپ کی، غریب کی ہو یا گورنر کی، چیف جسٹس کی ہو یا میاں نوازشریف کی سب قوم کی بیٹیاں ہیں۔ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں۔ خدارا ان کے آنچل نہ کھینچو۔ ان کی ردائیں نہ اڑائو اگر کوئی بیٹیوں کے سر سے دوپٹہ اتارنے کی کوشش کرے تو اس کے ہاتھ کاٹ ڈالو یہی زندہ،غیرت مند اور باوقار قوموں کا وطیرہ ہے۔ دشمن ہماری سرحدوں پر مبارزہ آرائی پر آمادہ ہے۔ ہم کوّے کے حلال یا حرام ہونے کی لے پر جھوم رہے ہیں۔ قومی سلامتی کانفرنس کے جو ثمرات تھے وہ بکھرتے نظر آ رہے ہیں۔ اس وقت مضبوط قوم اور مربوط پالیسیوں کی ضرورت ہے۔اور ہم سب کو اس وقت اس بات کی ضرورت ہے کہ ہم اپنے درمیان چھپے ہوئے ان فرشتوں کو جو ہر وقت کسی نہ کسی ایڈونچر کی تلاش میں رہتے ہیں ان کی نشاندہی کریں، ان کے چہروں پر پڑے ہوئے نقاب اٹھائیں اور اس قوم کو جو 60سال سے زائد عمر اوربزرگی میں قدم رکھ چکی ہے کو اب دنیا کے ساتھ چلنے کے لیے اپنے اندرسیاسی،سماجی،معاشی،معاشرتی اور اخلاقی اویئرنیس کو تلاش کرنا ہوگا۔ ہم اس قدر عاقبت نہ اندیش قوم کا روپ دھار چکے ہیں کہ ہم اپنے ہی محسنوں،اپنے ہی لیڈروں کی جانیں تک لے لیتے ہیں اور اس کو بھی ایک کھیل سمجھتے ہیں۔کسی قوم کو اللہ تعالیٰ کوئی اچھا لیڈر صدیوں بعد عطا کرتے ہیں اور پھر قومیں اس سے استفادہ کرتے ہوئے دنیا میں ترقی یافتہ اقوام کہلاتی ہیں جبکہ ہم کوفیوں کی سنت کو اپناتے ہوئے اپنے ہی راہبروں کو سولی پر لٹکا دیتے ہیں۔ہمیں ان حالات میں جبکہ پاکستان بحرانوں کے شدید زد میں ہے اس پیارے وطن کو اس بھنور سے نکالنا ہوگا اس کے لیے ہمیں اپنی انائوں،ذات پات، برادری،فرقے اور طبقاتی کشمکش سے نکلنا ہوگا وگرنہ ہمارا نام تک بھی افسانوں میں نہ ہوگا۔تاریخ پڑھنے والے دوست جانتے ہیں کہ جب روم جل رہا تھا تو نیروبیٹھا بانسری بجا رہا تھا۔ اس لیے ہمیں خواب غفلت سے جاگنا ہوگا۔ اب بھی وقت ہے ہم ایک دوسرے کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر پرانی رنجشوں، چپقلشوں اور ذاتی و سیاسی دشمنیوں کو بھلا کر حضرت قائداعظم اور حضرت علامہ اقبال کے خوابوں کو پایہ تکمیل تک پہنچائیں۔ آج پوری قوم اولاد اور بیٹیوں کے سکینڈلوں سے زیادہ جس چیز کی طلب گار ہے وہ ہے روٹی، کپڑا،مکان،چادراور چاردیواری۔ اور اگر ہم قوم کی خواہشات کے برعکس اس گھنائونے کھیل میں اپنے ہاتھ گندے کرتے رہے تو نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بنسریا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus