×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہوس زر ،ہوس اقتداریا پھر جہنم کی آگ
Dated: 09-Feb-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میں نے کسی دانشور کا قول پڑھا ہے کہ انسان کی چار قسم کی بھوک ہوتی ہے۔ پیٹ کی بھوک، نفس کی بھوک، دھن دولت کی بھوک، اقتدار کی بھوک۔پیٹ اور نفس کی بھوک وقتی طور پر ختم ہو جاتی ہے۔ دھن اور اقتدار کی کبھی ختم نہیں ہوتی۔ دولت اور اقتدار کی بھوک کے مظاہر ہمیں دیکھنے کو ضرورت سے زیادہ ہی ملتے ہیں۔ خصوصی طور پر آج حکمران اس معاملے میں کچھ زیادہ ہی آگے چلے گئے ہیں۔ انسان کی آخر ضرورت کیا ہوتی ہے۔ زندگی ہے تو دو وقت کی روٹی، دم مسافر ہونے کے بعد دوگز زمین۔ بس یہی کچھ اس سے زیادہ کچھ نہیں۔دولت کمانے میں کوئی مخالفت نہیں اگر اس کے لیے جائز طریقہ استعمال کیا جائے تو۔ دوسرے کا حق مار کر، عوام کی چمڑی اتار کر دولت کے انبار لگانا انسانوں کا کام ہے نہ یہ انسانیت ہے۔ آج ہمارے سامنے جو کچھ ہو رہا ہے خصوصی طور پر دھن دولت جمع کرنے کے لیے اسے انسانیت کی توہین اور پرلے درجے کے لالچ پر محمول کیا جا سکتاہے۔ آپ کو پُرآسائش زندگی گزارنے کے لیے بہترین رہائش، لگژری گاڑی اور ماہانہ اخراجات کے لیے چند لاکھ روپے کی ضرورت ہے۔دس ،پندرہ زیادہ سے زیادہ بیس لاکھ روپے، پاکستان میں شاہانہ زندگی گزارنے کے لیے کافی ہیں۔ پہلے بھی عرض کیا کہ جائز کاروبار سے لوگ کروڑوں روپے ماہانہ بھی کما لیتے ہیں اس پر کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے لیکن معاملات اس وقت بگڑتے ہیں جب کسی کا حق مار کر دولت کے انبار لگانے کی خواہش کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ ایک ایک دن میں کروڑوں اربوں روپے بنا لیے جاتے ہیں۔ وہ کس کے کام آتے ہیں؟ تھوڑا سا عالمی تناظر میں جائزہ لے لیں۔فلپائن کے مارکوس، ایران کے رضا شاہ پہلوی، مصر کے حسن مبارک، تیونس کے علی اور تازہ ترین مثال لیبیا کے کرنل قذافی کی ہے۔ ان کے اربوں کھربوں ڈالر کے اثاثے دوسرے ممالک کے بینکوں میں پڑے پڑے راکھ ہو گئے۔ کرنل قذافی کا بیٹا سیف الاسلام جس کا انتظار کبھی کھانے کی میز پر برطانیہ کی ملکہ نے بھی کیا تھا۔ آج جیل میں وہ عبرت کا نشان بنا ہوا ہے۔ پیٹ کا دوزخ بھرنے کے لیے اسے جیل کے باورچی کا انتظار ہوتا ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب سیف الاسلام سونے کا نوالہ کھانے کی پوزیشن میں تھا آج وہ روکھی سوکھی کو ترس رہا ہے۔ یہی ہے ایک انسان کی اوقات! قادرِ مطلق انسان کو ترقی اور خوشحال کی معراج پر لے جا سکتا ہے تو پسماندگی کی پستی میں بھی گرا سکتا ہے۔ پاکستان سے ایک سرکاری افسر 83ارب روپے لوٹ کر بھاگا۔ وہ اب دوسرے ممالک کی جیل میں ہے وہ اربوں اس کے کس کام کے۔ اس کی زندگی تلخ بن چکی ہے یہ زندگی مزید ترش بننے کا دھڑکا لگا رہتا ہے۔ اگر اس خدا کے بندے نے ایمانداری کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا ہوتا تو اپنے وطن میں اپنے عزیزوں کے درمیان پرسکون زندگی گزار رہا ہوتا۔ انسان کو کیا چاہیے دو وقت کی عزت کی روٹی اور معاشرے میں احترام۔ لالچ کیا، لوٹ مار سے کام لیا تو سب کچھ خاک میں مِل گیا۔ عزت آبرو اور ذہن کا سکون بھی۔دوسرے ممالک کے بینکوں میں سرمائے کو محفوظ سمجھ کر جمع کرانے والے بڑی غلطی پر ہیں۔ اربوں ڈالر سے بھرے یہ بینک، جمع کرانے والے کی موت کے بعد لواحقین کو یہ رقمیں نہیں لوٹاتے۔ اس کو کرپشن کا مال قرار دے کر ضبط کر لیتے ہیں۔ پھر ایسی دولت کا فائدہ، جو آپ کے کام آئے نہ آپ کے لواحقین کے لیکن آپ کو جہنم کا ایندھن بنا کر رکھ دے۔ پاکستان میں کچھ زیادہ ہی کرپشن ہونے لگی ہے۔ اربوں اور کھربوں کی کرپشن ہو رہی ہے۔جو جتنا بڑا اور جتنے بڑے عہدے پر ہے اتنا ہی بدعنوان ہے۔ یہ میں نہیں کہتا، میڈیا نہیں کہتا، مخالفین نہیں کہتے بلکہ پاکستان کا سب سے بڑا انصاف کا ادارہ سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کی طرف سے کہا جا رہا ہے۔ سابق وزیر اعظم کا کتنے کرپشن کیسز میں نام آتا ہے۔ فلاں کی تقرری کی گئی وہ میٹرک تھا۔ فلاں کو حج کے معاملے سونپے گئے وہ دوست تھا۔ پورے خاندان پر زر جمع کرنے کا خبط تھا۔ شاید اسی سبب زرداری صاحب کی نظروں سے گِر گئے اور حالات ایسے پیدا کر دیئے گئے کہ گھر جاتے ہی بنی۔گیلانی کے جانشین، اپنے پیشرو کی طرح ہی ’’دیانت‘‘ کے تقاضے پورے کر رہے ہیں۔ سپریم کورٹ نے واضح کہا ہے کہ وہ رینٹل منصوبوں کی کرپشن میں ملوث ہیں۔ نیب کے چیئرمین کہتے ہیں کہ پاکستان میں روزانہ 12ارب کی کرپشن ہوتی ہے۔ گویا ہر کسی کو لوٹ مار کی کھلی اجازت ہے۔ 12ارب روزانہ کا مطلب ہے سالانہ 4380ارب کی لوٹ مار۔ ایک طرف یہ سرمایہ چند لوگوں کی جیب، پینٹ اور بینک اکائونٹ میں جا رہا ہے جو کھرب ہا روپے کے اثاثوں کے مالک بن رہے ہیں، دوسری طرف انتہائی حدوں کو چھوتی ہوئی غربت ہے۔ یہ لوگ اپنی اولاد کو مفلسی کے باعث تعلیم نہیں دلا سکتے، بے چارگی کے باعث بوڑھی ہوتی بیٹیوں کی شادی نہیں کر سکتے، غربت کے ہاتھوں لاعلاج مر جاتے ہیں کئی تو محض دو وقت کی روکھی سوکھی کھانے کے لیے اپنی اولاد کو بھی بیچنے سے گریز نہیں کرتے۔ ایسا دل پر پتھر رکھ ہی کیا جا سکتا ہے۔اس کا ذمہ دار ان کا خون چوس کر دولت کے ڈھیر لگانے والا طبقہ ہے۔آخر اتنی دولت کا کیا کریں گے۔ اربوں کھربوں ڈالر پاس موجود ہیں ان کو استعمال کرنے کے لیے ، ان امرا کو کم از کم دو اڑھائی ہزار سال کی زندگی کی ضرورت ہے۔ کیا وہ اپنی آدھی دولت سے بھی اتنی زندگی خرید سکتے ہیں؟ اگر نہیں تو پھر اپنی زندگی آسائش سے گزارنے کے مال و دولت پاس رکھ کے باقی ان لوگوں کو لوٹا دیں جو ان کی چمڑی ادھیڑ کر جمع کیا ہے۔ پوری دنیا میں ہمارے حکمران جس ذلت اور رسوائی کا باعث بن رہے ہیں وہ پاکستانیوں کے لیے باعث ندامت ہے۔ میں جب یورپین معاشرے کو دیکھتا ہوں کہ وہ اپنی اپنی مملکت سے کس قدر پیار کرتے ہیں جو بھی آئین اور لاء بن جاتا ہے وہ اس کا احترام مقدس کتاب کی طرح کرتے ہیں۔مثال کے طور پر گھر کی بالکونی میں بیٹھا ایک پچاسی سالہ بوڑھا شخص ہر وقت اپنے گرد نگاہ رکھتا ہے کہ کوئی ایسا واقع یا ایکسیڈنٹ رونما ہو تو سب سے پہلے پولیس کو کال کرنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ آج یورپین معاشرے میں جنہیں ہم کافر اور اخلاق سے بگڑا ہوا معاشرہ کہتے ہیں وہ ترقی کی بلندیوں کی انتہا پر ہے۔ ان کو جدید دور کی تمام آسائشیں میسر ہیں۔عوام کے پاس صرف روٹی ، کپڑا،مکان ہی نہیں علاج معالجہ،پنشن،سوشل سکیورٹی اور ہر وہ سہولت میسر ہے جس کی ہم پاکستان میں بیٹھے صرف ’’جنت‘‘ ملنے کی صورت میںخواہش کرسکتے ہیں ۔جب میں اپنے معاشرے اور جدید ترقی یافتہ معاشرے کا تقابلی جائزہ لیتا ہوں تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہم صرف ہوس اقتدار اور ہوس زر کے چکر میں اپنی، اپنے بچوں ،پوری قوم اور معاشرے کے لیے ذلت اور رسوائی کا باعث بنتے ہیں۔جب تک سوفیصد پاکستانی اپنے فرض اور حقوق کو پہچانیں گے نہیں تب تک ایک مثبت معاشرے کی تشکیل ممکن نہیں۔ اور یہ ڈاکو ،چوپٹ راج ہمیں اسی طرح نوچتا،لوٹتااور گھسوٹتا رہے گا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus