×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پہلے حالِ دل پہ آتی تھی ہنسی۔۔۔
Dated: 12-Feb-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وسیم سجاد ایک منجھے ہوئے وکیل اور سیاست کی رگ رگ سے واقف سیاستدان ہیں ۔ان کے پاس موقع محل دیکھ کر یا ہوا کا رخ بھانپ کر اسی سمت میں اڑان بھرنے کی بدرجہ اتم صلاحیتیں موجود ہیں جن کا انہوں نے ہمیشہ برمحل استعما ل کیا ہے ۔وہ ایک دفعہ سینیٹر بنے اور اب تک بنتے چلے جارہے ہیں،جو بھی حکومت ہو اس کی آنکھ کا تارہ ہوتے ہیں۔وکالت میں ایسے کایاں کہ ہتھیلی پر سرسوں جما کر دکھا دیا۔آصف علی زرداری کے دو عہدوں کے کیس میں وکیل ہیں،اس میں ایسے دلائل دیئے کی لوگ چکرا کر رہ گئے کئی ان دلائل کو چکر بھی کہتے ہیں۔ انہوں نے ہائی کورٹ کو ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں نہ ہونے اور صدر کی جانب سے جلد ہی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کا عہدہ چھوڑنے کی تحریری یقین دہانی کروا دی اور کہا کہ صدر زرداری جلد سیاسی عہدہ چھوڑ دیں گے اور اب ایوان صدر کو پی پی کی سیاسی سرگرمیوں کیلئے استعمال نہیں کیا جائے گا اور نہ ہی پیپلز پارٹی کا کوئی اجلاس ایوان صدر میں ہو گا۔ عدالت نے ایوان صدر میں سیاسی سرگرمیاں بند کرنے کے بیان کو خوشگوار بات قرار دیتے ہوئے وفاق کے وکیل کو حکم دیا کہ وہ آئندہ تاریخ پر صدر سے پوچھ کر بتائیں کہ وہ سیاسی عہدہ کب چھوڑیں گے۔ صدر کے پاس کوئی سیاسی عہدہ اور سیاسی ایجنڈا نہیں ہے۔ آصف زرداری جس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں وہ ایک غیر فعال جماعت ہے۔ موجودہ حالات میں تو اس جماعت کو پرائیویٹ ایسوسی ایشن کہنا ہی مناسب ہو گا جو سیاسی جماعت اس وقت ملک میں برسر اقتدار ہے وہ پیپلز پارٹی نہیں بلکہ پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین ہے۔ حکومت میں شامل سیاسی جماعت کے سربراہ مخدوم امین فہیم اور سیکرٹری راجہ پرویز اشرف ہیں اس لئے صدر کے خلاف توہین عدالت کی درخواست ناقابل سماعت ہے، اسے فاضل عدالت ناقابل پذیرائی قرار دے کر خارج کرے۔ زرداری جس پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین ہیں اس کا ایوان صدر میں کبھی کوئی اجلاس نہیں ہوا اور نہ ہی وہ پیپلز پارٹی آئندہ انتخابات میں اپنے امیدوار کھڑے کر رہی ہے کیونکہ یہ الیکشن کمشن میں رجسٹرڈ ہی نہیں۔ حکومتی وکیل وسیم سجاد نے عدالت کو تحریری یقین دہانی کروائی کہ ایوان صدر میں پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرین کی سیاسی سرگرمیاں نہیں ہوں گی اور صدر مملکت بہت جلد سیاسی عہدہ چھوڑ دیں گے۔ مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے کہا کہ سیاسی سرگرمیاں ایوان صدر میں نہیں تو کراچی میں ہو سکتی ہیں اس کے جواب میں وفاقی حکومت کے وکیل وسیم سجاد کا کہنا تھا کہ ایوان صدر اسلام آباد میں ہے۔ باقی شہروں میں تو صدر کے گھر ہیں۔ کیس کی سماعت کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاق کے وکیل وسیم سجاد نے کہا کہ عدالت کو بتا دیا ہے کہ صدر کے پاس کوئی سیاسی عہدہ نہیں ۔ صدر مملکت کا تعلق جس پارٹی سے بھی ہو ایوان صدر میں داخل ہونے سے قبل اس کی سیاسی غیرجانبداری واضح ہو جاتی ہے۔فاروق ِخان لغاری اور رفیق تارڑ نے صدر کا حلف لینے سے قبل اپنی اپنی پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ آج کے صدر نہ صرف پاکستان کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کے شریک چیئرمین ہیں بلکہ ایوان صدر میں ان کی سربراہی میں اپنی پارٹی کی سرگرمیاں اور جوڑ توڑ کھلے عام ہوتے ہیں۔ اس کے سبب صدر صاحب کی ذاتی حیثیت انتہائی متنازعہ بن چکی ہے ۔ لاہور ہائیکورٹ کی طرف سے زرداری صاحب کے دو عہدوں کے حوالے سے فیصلہ گذشتہ سال آیا جس میں توقع ظاہر کی گئی تھی کہ صدر ایک عہدہ ایک مخصوص وقت تک چھوڑ دیں گے لیکن اس طرف مطلق توجہ دی گئی جس کے باعث ان پر توہین عدالت کا کیس دائر ہوا جس کی وکالت وسیم سجاد صاحب کر رہے ہیں جو کبھی مسلم لیگ ن اور ق کے دور میں سینیٹ کے چیئرمین رہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ 2002ء اور 2008ء کے انتخابات میں پاکستان پیپلزپارٹی نے جس پلیٹ فارم سے الیکشن لڑا اس کا نام پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین تھا۔ جس کے صدر مخدوم امین فہیم اور راجہ پرویز اشرف چلے آ رہے ہیں۔ 2002ء کے انتخابات سے قبل صدارتی آرڈیننس میں پارٹیوں کی رجسٹریشن کا قانون لاگو کیا گیا جس کے لیے پارٹی سربراہ کا پاکستان میں موجود ہونا ضروری تھا۔ اس شرط کو پورا کرنے کے لیے محترمہ بے نظیر بھٹو کی ہدایت پر پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کا وجود تراشا گیا ۔2002ء اور 2008ء میں اسی پارٹی نے الیکشن میں حصہ لیا۔ جس کی پشت محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پاکستان پیپلزپارٹی میں موجود تھی۔محترمہ کی شہادت کے بعد بلاول بھٹو زرداری کس پارٹی کے چیئرمین چنے گئے؟مخدوم امین فہیم پی پی پارلیمنٹیرین کے صدر ہیں۔ الیکشن میں ٹکٹ بھی ان کی مہر سے جاری ہوں گے۔ لیکن ٹکٹ جاری کرنے والی قوت وہی ہو گی جو ایوانِ صدر میں موجود ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی آج بھی اسی قوت کے ساتھ موجود ہے۔ وسیم سجاد جس پارٹی کو تنظیم قرار دے رہے ہیں یہی بھٹوز کی پارٹی ہے جس کی محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اپنی شہادت تک سربراہ تھیں۔وہ بڑی چالاکی سے کہہ گئے کہ پی پی پارلیمنٹیرین کے اجلاس ایوانِ صدر میں نہیں ہوا کریں گے۔ باقی شہروں میں صدر اپنی رہائش گاہ پر اجلاس یا سیاسی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں۔ ایوانِ صدر کے غیر جانبدار ہونے کی طرح صدر کی ذات کو ایک ہی پارٹی کے سیاسی معاملات سے لاتعلق ہونا چاہیے۔ وہ اپنی پارٹی کے اجلاس کی صدارت ایوانِ صدر میں کریں یا ملک کے کسی بھی حصے میں کسی درخت کے سائے تلے بیٹھ کر کریں ایک ہی بات ہے۔ حکومتی وکیل نے باور کرانے کی کوشش کی کہ پاکستان پیپلزپارٹی کی حیثیت ایک کاغذ کے پرزے سے زیادہ نہیں اس کا مطلب کہ یہ پارٹی محترمہ کی شہادت کے ساتھ ہی شہید ہو گئی ہے؟کیا اب اس کی دعائے مغفرت کردینی چاہیے یا اس کی واگزاری کی توقع رکھی جائے۔ صرف ایک شخصیت کے دونوں عہدے بچانے کے لیے وکیل محترمہ عدلیہ کو گمراہ اور عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کو فعال اور مضبوط رکھنے کے لیے سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کے اجلاس شروع سے محترمہ کی شہادت تک باقاعدہ سے ہوا کرتے تھے۔ ہر ماہ اجلاس لازم تھا۔ ان دونوں کو عضو معطل بنا کر رکھ دیا گیا ہے۔ پارٹی پر بیرونی عناصر کا غلبہ ہو چکا ہے۔ حنا ربانی، رحمن ملک، حفیظ شیخ، ڈاکٹر عاصم جیسے لوگوں کو پارٹی کی زمام سونپ دی گئی ہے۔ فیڈرل کونسل اور سی ای سی کا متبادل کورکمیٹی قرار پایاہے۔ اس میں اصل جیالا ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتا۔ وسیم سجاد بتائیں کورکمیٹی کا پارلیمنٹیرین سے کوئی تعلق ہے؟ پارٹی کے اہم فیصلے یہی کمیٹی کرتی ہے جو پاکستان پیپلزپارٹی کا حصہ ہے۔ پیپلزپارٹی کی طرف کوئی انگلی اٹھتی تو بڑا دکھ ہوتا تھا اب اس کے ساتھ ہاتھ بھی ہو رہا ہو تو کچھ محسوس نہیں ہوتا کیونکہ اس کے ساتھ ہوئی زیادتیاں دیکھ دیکھ کر اب کوئی زیادتی، زیادتی لگتی نہیں ہے۔ پہلے آتی تھی حالِ دل پہ ہنسی اب کسی بات پہ نہیں آتی بھٹوز کی قربانیوں کے باعث پیپلزپارٹی کو 2008ء کے الیکشن میں کامیابی ملی، روٹی کپڑا اور مکان دینے کی دعویدار پارٹی کے کرتادھرتائوں نے عوام کے منہ سے آخری نوالہ تک چھین لیا۔ عوام کے دل ان کی خدمت کرکے جیتے جاتے ہیں ان پر مصائب کے ستم توڑ کر نہیں۔ انتخابات میں چند ماہ باقی ہیں لیکن عوام کو اپنے ساتھ ملانے کی کوئی کوشش پارٹی قیادت کی طرف سے سامنے نہیں آئی۔ ن لیگ کو تختِ لاہور کا طعنہ دینے والوں نے بھی لاہور کو ہی تخت بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک پراپرٹی ٹائیکون نے دس ایکڑ پر مشتمل پُرآسائش قلعہ صدر کی نذر کیا ہے وہ جس میں آجکل براجمان ہیں۔ غریب اس عالی شان قلعے کو باہر سے دیکھ سکتا ہے یا اس کی دیواروں سے ٹکرا سکتا ہے۔ اس کے اندر داخل ہوناممکن نہیں۔ صدارتی ترجمان فرماتے ہیں بڑی سیاست کے لیے بڑے بڑے گھر کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیا ذوالفقار علی بھٹو نے ایسے قلعوں اور محلات سے سیاست شروع کی تھی؟ بھٹو کے ساتھی تو مزور، کسان، ریڑھے والے اور کوچوان تھے۔ کامیابی کے لیے آج بھی ان کی ضرورت ہے لیکن قیادت اور اس طبقے کے درمیان اونچی فصیلیں حائل ہو گئی ہیں کیا ایسی قیادت کے ہوتے وائی ایم سی اے ہال جیسا اجتماع ہو سکتا ہے؟اگر ایسا ممکن نہیں تو محض بھٹوز کا نام استعمال اقتدار میں ایک بار چلے آنا بھی ممکن نہیں ہے۔خدا کا غضب، ایم این اے ساٹھ لاکھ اور ایم پی اے کا امیدوار بیس لاکھ کے اخراجات کر سکتا ہے اور ٹکٹ کتنے میں فروخت ہوگا؟ یہ دیا ہے بھٹوز کے جاں نشین ہونے کے دعویداروں نے غریب مزدور، کسان اور ریڑھی بان کو۔ یہ غریب پراپرٹی ٹائیکون کے گفٹ کو دیکھ کر ضرور گنگناتے ہوں گے: ایک بادشاہ نے بنا کے حسیں تاج محل ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق جس نے یہ تحفہ دیا اس نے صدر مملکت سے کیا کیا مفاد حاصل نہ کیا ہوگا اور مزید کی بھی توقع لگا رکھی ہو گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus