×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا یہ پیپلزپارٹی کا آخری یومِ تاسیس ہے؟
Dated: 30-Nov-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان پیپلزپارٹی کے تاسیسی اجلاس کی توسیخ شدہ دستاویزات کے مطابق 30نومبر و یکم دسمبر 1967ء کے دن پاکستان پیپلزپارٹی کا وجود عمل میں آیا۔ تاسیسی اجلاس کے فیصلے کے مطابق پارٹی کا نام پیپلزپارٹی ہوگا۔٭ اسلام ہمارا دین ہے۔ ٭ جمہوریت ہماری سیاست ہے۔٭ سوشلزم ہماری معیشت ہے۔٭طاقت کا سرچشمہ عوام ہیں۔ یہ پارٹی کے رہنما اصول قرار پائے ۔ اس وقت پاکستان اپنی آزاد اور خودمختار زندگی کے تیسرے عشرہ میں داخل ہو رہا تھا اور 12کروڑ پاکستانیوں کے لیے ان کے بنیادی مسائل اور غیر یقینی مستقبل کے پیش نظر اور نئے دور کے تقاضوں کے مطابق ایک ایسی سیاسی جماعت کی ضرورت تھی جو ملک کے کروڑوں انسانوں کی رہنمائی کر سکے ۔ ناز و نعم میں پلنے والے ذوالفقار علی بھٹو جن کے والد اس وقت کی ریاست کے وزیراعظم تھے مگر انہوں نے اپنی ماں جو کہ ایک ہاری، کسان کی بیٹی تھی کے زیر اثر پرورش پائی اور بھٹو کو شروع ہی سے محرومیوں کا ادراک تھا۔ پیپلزپارٹی کے یومِ تاسیس والے دن پارٹی پالیسیوں اور منشور کا اعلان کرکے ذوالفقار علی بھٹو نے نہ صرف برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کو نشانِ منزل دکھایا بلکہ تیسری دنیا کے عوام کے لیے منزل مقصود بھی ثابت ہوئے۔ محکوموں کو آزادی اور حقوق دلانے کا بھٹو کا یہ عزم بلاشبہ صدقہ جاریہ میں شمار کیا جا سکتا ہے۔جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے خلاف اس جنگ میں جس کا بھٹو نے آغاز کیا تھا خود بھٹو اور اس کے خاندان کے لیے تباہ کن ثابت ہوا۔ پِسے ہوئے عوام کے حق میں کلمۂ حق بلند کرنے کی سزا اور سوئے ہوئے عالمِ اسلام کے جگانے کے جرم میں بھٹو کی حکومت کا نہ صرف تختہ الٹ دیا گیا بلکہ 4اپریل 1979ء کو جبکہ پیپلزپارٹی ابھی بمشکل 10سال کی بھی نہ ہو پائی تھی بھٹو کو پھانسی دے کر سامراج نے تیسری دنیا اور عالمِ اسلام کے اربوں عوام کو یہ پیغام دیا کہ سامراجی قوتوں سے ٹکرانے والوں کا انجام یہی ہوگا۔بھٹو نے پھانسی سے پہلے کہا تھا کہ میری موت پہ ہمالیہ روئے گا اور آج بھی پاکستان جس مقام پر کھڑا ہے اور پاکستان کے 20کروڑ عوام اذیت کی جو زندگی بسر کر رہے ہیں بم دھماکوں خون میں لت پت لاشے، مائوں، بہنوں، بیوائوں کے بین دراصل بھٹو کے کہے ہوئے الفاظ ہیں اور آج ہمالیہ نہیں پورا عالمِ اسلام نوحہ کناں ہے۔ بھٹو نے اپنی شہادت سے پہلے کارکنان کے نام اپنے خط میں لکھا تھا کہ میری قبر سے فتح و نصرت کے پھول کھلیں گے۔ بھٹو کی عظیم موت کے بعد بھٹو فیملی کے مرد و زن پر ظلم کے پہاڑ ڈھائے گئے۔ بھٹو کے دونوں جواں سال بیٹے شاہنواز بھٹو جونیئر اور مرتضیٰ بھٹو جلاوطن ہوئے۔بے نظیر بھٹو کو پابندِ سلاسل رکھا گیا اور بھٹو کی بیوہ بیگم نصرت بھٹو کو نہ صرف قیدوبند رکھا گیابیگم نصرت بھٹو نے اس دوران آمریت سے نجات کے لیے دیگر سیاسی پارٹیوں سے الحاق کرکے ایم آر ڈی کے نام سے ایک بھرپور تحریک بھی چلائی۔ 1985ء میں فرانس میں شاہنواز بھٹو کو قتل کروا دیا گیا اور 1996ء میں مرتضیٰ بھٹو کو بھی انہی سامراجی قوتوں نے سازش کرکے قتل کروا دیا جبکہ ایم آر ڈی کی تحریک کے دوران سر پر لاٹھیاں پڑنے سے بیگم نصرت بھٹو معذوری کی سی حالت میں زندگی گزارتے ہوئے خالقِ حقیقی سے جا ملیں۔ بھٹو کی شہادت کے بعد 1986ء میں بے نظیر بھٹو جلاوطنی سے واپس آئیں تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ان کے ساتھ تھا۔1988ء بے نظیر بھٹو کی قیادت میں پیپلزپارٹی نے الیکشن جیتا اور صرف 18ماہ بعد بے نظیر کو اقتدار سے الگ کر دیا گیا۔1993ء میں پیپلزپارٹی ایک بار پھر بے نظیر بھٹو شہید کی قیادت میں اقتدار میں آئیں لیکن صرف 3سال بعد ہی انہیں جبراً معزول کر دیا گیا۔ پھر بے نظیر بھٹو کی جدوجہد کی ایک لمبی اور لازوال اننگز شروع ہوئی (اور مجھے فخر ہے کہ ان کی اس جدوجہد میں میں نہ صرف ان کے ساتھ رہا بلکہ قربانیوں میں بھی حصہ ڈالا) آج وہ پیپلزپارٹی جس کو بنانے کے پیچھے عوام اور مقاصد کارفرما تھے جو پاکستان کے محکوم اور غریب لوگوں کو منزل دینا چاہتی تھی وہ پیپلزپارٹی جو طبقاتی جنگ کی داعی تھی اور وہ ذوالفقار علی بھٹو جس کو ایک نا کردہ جرم میں پھانسی پر تو چڑھا دیا گیا مگر ڈکٹیٹر ضیاء الحق اس بھٹو کے خلاف ایک روپے کی بھی کرپشن ثابت نہ کر سکا اور نہ الزام لگایا اور اس کی شہید بیٹی بے نظیر بھٹو جو دو دفعہ پاکستان کی وزیراعظم بنی خود اس کی ذات پر کوئی ڈکٹیٹر یا سِول آمر کرپشن کا کوئی الزام نہ لگا سکے مگر بے نظیر بھٹو کے شوہر نامدار کی طرف اٹھنے والی انگلیوں اور الزامات نے بظاہر پیپلزپارٹی کی ساری ہی جدوجہد کو پراگندہ کر دیا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دن میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے ہمراہ امریکہ میں ایک دوست کے ہاں بیٹھے ہوئے تھے تو محترمہ نے شدید افسوس اور رنج کے ساتھ اپنے امریکن لابِسٹ مسٹر سٹیفن گریو سے یہ کہا کہ آج میں یورپ اور امریکہ میں جب سرکاری عہدیداروں کو میٹنگز کے لیے وقت مانگتی ہوں تو وہ میرے شوہر کی وجہ سے یہ کہہ کر کتراتے کہ اس کرپٹ جوڑے سے نہ ملنا ہی بہتر ہے یہ بات سناتے وقت میں نے دیکھا کہ محترمہ کی آنکھیں آنسوئوں سے چھلک پڑی تھیں۔ پھر میں نے ایک جدوجہد کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو کے لیے اپنے دوسرے دوست خالد اعوان کے ساتھ مل کے امریکن پینٹاگون، وزارت دفاع، امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوامِ متحدہ کے نہ صرف دروازے کھولے بلکہ ان کی میٹنگز بھی ان متعلقہ اداروں سے طے کروائیں اور میں خود بھی ہر میٹنگ میں محترمہ کے ساتھ رہا۔کرپشن کے انہی الزامات اور شہرت کے داغدار ہونے کی وجہ تھی کہ 18اکتوبر 2007ء کو وطن واپسی کے اعلان سے پہلے محترمہ نے جناب آصف علی زرداری سے یہ طے کر لیا تھا کہ اب کی بار وہ پارٹی و امورِ مملکت سے دور رہیں گے۔ 18اکتوبر سے کچھ دن پہلے رحمان ملک کے ایجوے روڈ لندن والے مکان پر پارٹی کی فیڈرل، ایگزیکٹو کمیٹی کا اجلاس شروع ہونے والا تھا۔ میں اور کمیٹی کے سبھی اراکین اس بات کے شاہد ہیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے رحمان ملک اور آصف زرداری کو یہ کہہ کر کمرے سے اٹھا دیا کہ چونکہ وہ پارٹی کے ایگزیکٹو ممبر نہیں اس لیے میٹنگ والا کمرہ چھوڑ کر چلے جائیں اور پھر 2004ء سے لے کر 2007ء تک نیویارک اور دوبئی میں پیپلزپارٹی کی مقامی قیادت اور محترمہ کے انتہائی قریبی دوست اور ذرائع اس بات کے گواہ ہیں کہ محترمہ بینظیر بھٹو آصف زرداری پر وہ پہلے جیسا اعتماد نہ کرتی تھیں اور کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ 27دسمبر کو راولپنڈی جلسہ کے بعد جب محترمہ گاڑی میں جا بیٹھیں تو وہ آخری کال کس کی تھی کہ جس کو سننے کے بعد گاڑی کی روف سے باہر نکلیں؟ محترمہ کی شہادت کے بعد گڑھی خدا بخش میں ہونے والے اجلاس میں محترمہ کی ایک وصیت یکدم منظر عام پر آتی ہے جس کا کہ محترمہ نے اپنی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خاں یا اپنے کسی اور پارٹی و ذاتی دوست سے ذکر نہیںکیا تھا(خود راقم سے بھی نہیں) محترمہ کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کو عوام نے ایک دفعہ پھر اقتدار کے سنگھاسن تک پہنچایا ہم سب اراکین فیڈرل و ایگزیکٹو کمیٹی بھی عوامی اور جیالوں کی خواہش کے فیصلے پر لبیک کہتے ہوئے پارٹی قیادت کے شانہ بشانہ کھڑے تھے لیکن سب یہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ وہ پیپلزپارٹی نہیں جس کی بنیاد 30نومبر1967ء کو بھٹو نے رکھی تھی۔ آج پیپلزپارٹی کی پنجاب، سرحد میں قیادت ان لوگوں کے پاس ہے جو بے نظیر بھٹو کی شہادت تک ان کے مخالف رہے تھے۔ کچھ دنوں سے تواتر سے اراکین فیڈرل ،ایگزیکٹو کمیٹی کے پیغامات اور فون آ رہے ہیں کہ پیپلزپارٹی کی ویب سائٹ سے تمام ممبران کے نام غائب ہیں تو مجھے ہنسی آئی اور یاد آیا چنگیز خان اور ہلاکو خان کے لشکر میں موجود جنگی گھوڑوں کی یوں تو بہت خدمت کی جاتی تھی مگر جب کوئی گھوڑا زخمی یا بوڑھا ہو جاتا تھا تو اس کا سر تلوار سے قلم کر دیا جاتا تھا۔ میں نے 6سال پہلے پارٹی پالیسیوں پر احتجاجاً قلم کا جہاد شروع کیا تھا تو میرے پارٹی دوست مجھے بے وقوف سمجھتے تھے فرق صرف اتنا ہے کہ میں نے کرپشن اور لوٹ مار سے ہاتھ نہیں رنگے۔ جب کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران میں پارٹی کی قیادت کی نظر میں باغی قرار پا چکا تھا۔ آج 30نومبر2013ء کو حالات یہ ہیں پیپلزپارٹی جو ایوب ،یحییٰ ،ضیاء اور مشرف جیسے آمروں اور سیاسی مخالفین کے ہاتھوں سے تو بچ گئی مگر اپنوں کے ہاتھوں اس قدر رسوا ہوئی اور شکست کا نشان عبرت بن گئی اور آج کی موجودہ پیپلزپارٹی جن لوگوں کو اپنا لیڈر بنا کر میڈیا پہ پیش کرتی ہے انہیں دیکھ کر تو غیروں کو ہنسی اور جیالوں کو شرم آتی ہے اس یومِ تاسیس جو کہ نظریاتی پیپلزپارٹی کا آخری یومِ تاسیس ہے کے بعد جو پارٹی جیالوں کے سامنے پیش کی جائے گی مجھے یقین ہے کہ جیالے اسے پہچاننے سے انکار کر دیں گے لیکن ہم تو شہید بھٹو کے ماننے والے ہیں اپنا یہ نعرئہ مستانہ یونہی بلند رہے گا ’’جئے بھٹو‘‘۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus