×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
محمد شاہ رنگیلا کی طرز پر فیصلے !
Dated: 03-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میرے سمیت 20کروڑ پاکستانی اور دنیا بھر کے کروڑوں دیگر لوگ آج اس بات پر حیران تھے کہ آج پاکستان کے نئے چیف آف آرمی سٹاف کی کمان ہاتھ میں لینے کی تقریب پاکستان کے ہر نیوز چینل پر کم از کم 2گھنٹے براہِ راست نشر کی گئی۔ یوں لگ رہا تھا جیسے کسی بادشاہ سلامت کی تاج پوشی کی تقریب ہو رہی ہے نہ صرف فوج بلکہ پاکستان کے نشریاتی اداروں کی طرف سے اس تقریب کو لائیو ٹیلی کاسٹ کرنے پر کروڑوں روپے خرچ کیے گئے ہوں گے۔ ان دو گھنٹوں کے درمیان دیکھنے والوں کو کہیں بھی یہ احساس نہیں ہوا ہوگا کہ یہ تقریب کسی ایسے ملک میں برپا ہے جو آئی ایم ایف کا پائوں سے لے کر سر تک مقروض ہے اور پیدا ہوتے ہی ہربچہ لاکھوں روپے کے قرضے تلے دب جاتا ہے۔ پوری دنیا میں اس تقریب کے دیکھنے والے غیر پاکستانی ناظرین کو اگر یہ پتہ چل جائے کہ اس جاہ و جلال کے مالک چیف آف آرمی سٹاف کے وطن میں آج اٹھارہ گھنٹے بجلی کی لوڈشیڈنگ تھی اور جس دوران تقریب کی رونق افروزیاں جاری تھیں عین اسی وقت ملک کے ہزاروں گیس اسٹیشنوں پر گیس کی بندش تھی۔2005ء میں قدرتی آفات(زلزلہ) کے لاکھوں بے بس متاثرین آج بھی پھٹے پرانے خیموں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ امسال اور گذشتہ سالوں میں سیلاب سے متاثر افراد کو ابھی تک دوبارہ آباد نہیں کیا جا سکا۔ ملک کے کروڑوں عوام پینے کا صاف پانی نہ ہونے کی وجہ سے ہیپاٹائٹس میں مبتلا ہیں۔ تقریب کے وقت بھی ملک بھر میں ڈینگی کے ہزاروں مریض سسک سسک کر ویکسین کے لیے التجا کر رہے تھے۔ میں نے امریکہ، نارتھ امریکہ، یورپ، افریقہ اور سائوتھ ایشیا کے ممالک میں بسنے والے اپنے دوستوں کے ساتھ ایک ٹیلی فونک سروے کیا اور ان یک نتائج نوٹ کرتے ہوئے کہاکہ اٹھانوے فیصد لوگوں کو یہ پتہ تک نہیں تھا کہ ان کے ملک کا فوجی سربراہ یا چیف آف آرمی سٹاف کون ہے۔ کوئی 3ماہ پہلے سابقہ آرمی چیف جنرل پرویز کیانی(ر) نے یہ عندیہ دے دیا تھا کہ وہ اپنی ملازمت میں توسیع نہیں چاہتے جس کے بعد اصولی طور پر وزیراعظم جناب نوازشریف صاحب کا یہ فرض بنتا تھا اور یہ ان کی ذمہ داری تھی کہ وہ نئے آرمی چیف کا فوری طور پر اعلان کر دیتے۔ بھارت سمیت برطانوی نشریاتی اداروں کو انٹرویو دیتے ہوئے نوازشریف صاحب نے متعدد بار اس عزم کا اظہار کیا کہ سینئر موسٹ جنرل کو یہ ذمہ داری سونپی جائے گی اور آج سینیارٹی لسٹ پر تیسرے نمبر پر آنے والے جنرل کو چیف آف آرمی سٹاف بنا کر گویا اپنے ہی کہے کا مذاق اڑایا گیا۔میں دنیا بھر کے ٹی وی چینلز پر اس تمسخراتی انٹرویوز کے کلپ دیکھ رہا تھا اور یہ سوچ رہا تھا کہ وہ کونسی وجہ ہے کہ میاں صاحب نے عین اس وقت جبکہ ان کے بقول پاک فوج حالتِ جنگ میں ہے نئے چیف کا اعلان موخر رکھا جبکہ یہ سب عمل میاں صاحب کے لیے کچھ نیا بھی نہ تھا کیونکہ وہ اس سے پہلے پاکستان کے اب تک 14فوجی سربراہان میں سے 4کو اپنے ہاتھوں نامزد کر چکے تھے اور یہ ان کا پانچواں نامزد چیف آف آرمی سٹاف ہے دو فوجی سربراہوں کے ہاتھوں میاں صاحب دو بار برطرف ہوئے جبکہ دو کے ساتھ چپقلش اور لڑائی کے بعد قبل از وقت ریٹائرڈ کرکے اختلافی فیصلے کیے گئے۔ اب پانچویں کے ہاتھوں میاں صاحب کی یا میاں صاحب کے ہاتھوں پانچویں کی کیا درگت بنتی ہے یہ تھوڑے ہی عرصے میں واضح ہو جائے گا لیکن ایک بات نے پاکستان کے 20کروڑ عوام کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ پاکستان کے اہم حکومتی عہدوں پر تقرری کے لیے میاں صاحب کے پاس کیا ضابطۂ اخلاق وہ پیمانۂ معیار ہے؟ ملک بھر میں آج یہ تقریباً لطیفہ ہر زبان زدِ عام ہے کہ کوئی بھی پوسٹ حاصل کرنے کے یے کم از کم معیار کشمیری ہونا ضروری ہے اور شریف کا لاحقہ لگا ہو تو اسے اضافی خوبی تصور کیا جائے گا۔ ملک بھر کے بچے بچے کی زبان پر یہی ایک سوال ہے کہ دو دفعہ کے ڈسے ہوئے وزیراعظم کے پاس کیا اب بھی عوام کو ڈلیور کرنے کے لیے کیا کچھ نہیں ہے؟ مجھے یقین ہے کہ وزیراعظم ان کی ٹیم یا کوئی بھی ان کے احباب اس بات سے انکار نہیں کر سکتے کہ الیکشن 2013ء میں مسلم لیگ ن کے منشور اور میاں برادران کے کیے ہوئے انتخابی وعدے ایک سیاسی سٹنٹ سے زیادہ کچھ بھی ثابت نہیں ہوئے۔ بھات کے ساتھ دوستی کی میاں صاحب کی شدید خواہش دراصل ایک تجارتی فائدہ تو ہو سکتی ہے مگر ویزوں پر پابندی ختم کرنے کا مطلب سرحدیں ختم کرنے کے برابر ہوتا ہے اور جب سرحدیں ختم کرنی ہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ ہم دوقومی نظریہ کی مخالفت میں کمربستہ ہو گئے ہیں اس طرح ہم روحِ اقبال و قائد کو جو اذیت پہنچا رہے ہیں اس کا میاں صاحب کو ادراک نہیں۔ جنرل ہارون اسلم کے سپرسِیڈ ہونے پر آج بھارت اور طالبان حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑتی نہ صرف محسوس ہوتی ہے بلکہ بھارت اور طالبان نے اس کا برملا اظہار بھی کیا ہے۔ دوسری طر ف عوام کا ایک بڑا طبقہ 12دسمبر کو چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری کی ریٹائرمنٹ سے ذرا پہلے اہم قومی فیصلوں کے اعلان کے بعد 12دسمبر کے بعد ہونے والے فیصلے، ارادے اور ترجیحات کو مفادات کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔ ایک عام پاکستانی یہ سوچ کر ہی کانپ رہا ہے کہ کہیں پھر تو وہ پہلے جیسی مطلق العنانی اور نیم ملوکیت نما کوئی چیز تو اُن پر مسلط نہیں کی جا رہی؟ یہ سوچ بجا ہے کیونکہ آئی ایم ایف سے حکومت نے کہا کہ چیف جسٹس میرٹ کے خلاف کام نہیں کرنے دیتے ان کی ریٹائرمنٹ کے بعدمعاملات ’’درست‘‘ ہو جائیں گے ۔ اہم عہدوں پر تقرریوں کے لئے بندر بانٹ بھی چیف جسٹس کے جانے کے بعد ہوگی ۔ یقینا مہنگائی کی بڑھتی ہوئی شرح اور وسائل کا فقدان کہیں مسائل کے انبار تو نہیں لگائے گا۔ یقینا دودھ کا جلا ہوا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ یہ سوالات میاں صاحب کی نظر میں بھی ہوں گے لیکن سوال تو یہ ہے اس مغلیہ دربار سے وابستہ درباری میاں صاحب کو اقتدار کے نشے سے باہر آ کر سوچنے کی مہلت دیں گے کہ نہیں کیونکہ عوام کا مستقبل اور ان کی امنگیں میاں صاحب کی دانش اور فراست سے منسلک ہیں۔ وزیراعظم اور ان کے خاندان کو اب اقرباپروری کے چنگل سے جان چھڑا کر 20کروڑ سسکتے تڑپتے انسانوں کو یقین دلانا ہوگا کہ وہ بھی ان کا خاندان ہیں۔ اصل امتحان تو اب شروع ہوا ہے کہیں میاں صاحب کے فیصلے محمد شاہ رنگیلے کے فیصلے نہ بن جائیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus