×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا پاک فوج رینٹل آرمی ہے؟
Dated: 22-Mar-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جنرل پرویز مشرف کو امریکی نائب وزیر خارجہ آرمیٹج نے پتھر کے دور میں لے جانے کی دھمکی دی تو انہوں نے تمام شرائط من و عن تسلیم کر لیں۔ پاکستان افغانستان پر اتحادیوں کے حملے میں سب سے بڑھ کر امریکہ کا ساتھی ثابت ہوا۔اس پر امریکہ نے پاکستان کو اپنا فرنٹ لائن الائی قرار دیا۔ ہم اب تک امریکہ کی جنگ لڑ رہے ہیں جس کا امریکہ باقاعدہ وار سپورٹ فنڈ کے نام پر معاوضہ یا کرایہ ادا کرتا ہے۔ امریکی جنگ کے ابتدائی دنوں میں نوازشات کچھ زیادہ تھیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ شروع میں پاکستان میں ڈالروں کی ریل پیل تھی۔ مسلم لیگ ن کے معاشی گرو مشرف کے ڈالر کو مسلسل 9سال تک 62روپے پر رکھنے کے کارنامے پریہ کہہ کر مٹی ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں کہ امریکہ سے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ساتھ دینے پر امریکہ ڈالر برسا رہا تھا اس لیے ڈالر 62روپے پر رہا۔ اس سے قبل 1977 ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف نو جماعتوں کے اتحادی پی این اے نے تحریک چلائی تو بھی پاکستان میں ڈالروں کی بہار لگی ہوئی تھی۔ ڈالر کہیں سے برس رہے تھے اور پی این اے کے قائدین اور کارکن چن رہے تھے۔ امریکہ نے بھٹو صاحب کو ایٹمی پروگرام ختم نہ کرنے پر عبرت کا نشان بنانے کی دھمکی دے رکھی تھی اور شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی پروگرام جاری رکھنے کے عزم پر قائم تھے اور پھر واقعی امریکہ نے اپنی دھمکی پر عمل کر دکھایا بہرحال ڈالر برستے رہے۔ آج ملک میں پھر ڈالروں کی آمد کا سلسلہ شروع ہوا ہے۔ سعودی عرب نے ڈیڑھ ارب ڈالر پاکستان کو گفٹ کیے ہیں۔ کس خوشی میں؟ ہمارے حکمران اس کا کھل کر اظہار نہیں کر رہے۔ لیکن جن خدمات کے لیے اتنی بڑی رقم دان کی گئی ہے وہ اب کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہیں۔ خلیجی ممالک کو ہمیشہ سعودی عرب کی حاشیہ برداری پر فخر رہا ہے۔وہ شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار ثابت ہوئے ہیں۔سعودی عرب شام میں بشارالاسد حکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتا تھا۔ امریکہ کے کانوں میں پھونکا گیا کہ شامی فوج باغیوں پر مہلک کیمیکل ویپن استعمال کر رہی ہے۔ امریکہ نے شام پر چڑھائی کا اعلان کر دیا۔ سعودی عرب نے تمام اخراجات برداشت کرنے کی پیشکش کی تھی۔ ایران نے اس سے شدید مخالفت کی اور روس نے باقاعدہ اعلان کیا کہ وہ شام کا ساتھ دے گا۔ ایران کی مخالفت کا تو اتنا اثرنہیں ہونا تھا البتہ روسی دھمکی کارگر ثابت ہوئی اور سعودیہ کے پُرزور مطالبے کے باوجود امریکہ نے شام پر حملے سے انکار کر دیا۔ ہمارے کچھ اسلامی حکمران یہ نہیں سوچتے کہ شام اور ایران بھی اسلامی ممالک ہیں وہ کہتے ہیں کہ ان ممالک میں شیعہ حکمران ہیں جن کو شاید زندہ رہنے کا بھی حق نہیں۔امریکہ کے شام پر حملے سے انکار اور اس کے ایران کے ساتھ تعلقات کی تجدید کچھ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے سینے پر سانپ بن کر لوٹ رہی ہے۔ دولت ہی کو طاقت سمجھنے والوں کو کرائے کی آرمی کی ضرورت محسوس ہوئی تاکہ شام کو تو سبق سکھا دیا جائے تو اس کی نظر پاکستان پر پڑی۔ آج اسی مقصد کے لیے پاکستان پر ڈالر نچھاور ہو رہے ہیں۔ امریکہ کے شام پر حملے سے انکار کے بعد سعودی اور خلیجی ممالک کے حکمرانوں نے پاکستان کو ماسی کا ویڑھا بنا لیا ہے۔ایک حکمران جاتا ہے تو دوآنے کے لیے تیار بیٹھے ہوتے ہیں۔ ہر سعودی بااثروزیر دورہ کر چکا ہے گذشتہ ماہ سعودی ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز تشریف لائے۔ آج کل بحرین کے بادشاہ دورے پر ہیں۔ ان کو چالیس سال بعد پاکستان کے ساتھ تجدید تعلقات کی ضرورت محسوس ہوئی۔ کویت کے خلیفہ بھی انہی دنوں پاکستان کا دورہ کر چکے ہیں۔ امارات کے حکمرانوں کے دورے تو عموماً ہوتے رہے ہیں۔ سعودی اور ان کے حامی عرب اور خلیجی ممالک کے سربراہوں کے ہاتھ میں ڈالروں اور دیناروں کی زباں پر شام اور ایران کو سبق سکھانے کا مطالبہ ہوتا ہے۔ شام میں انہیں فوج درکار اور ایران کے لیے شدت پسند تنظیموں کی خدمات کی ضرورت ہے۔ الطاف نے واقعی قومی جذبات کی ترجمانی کی کہ فوج کو کسی ملک کے خلاف حکومت استعمال کرنے کی کوشش کرے تو وہ انکار کر دے۔ اس پر بڑا واویلا ہوا۔ الطاف نے اس معاملے پر فوج کو ٹیک اوور کا مشورہ نہیں دیا۔ پاک فضائیہ نے کسی دور میں شام سے اسرائیل پر حملے کیے تھے آج اسی شام کو برباد کرنے کے لیے اسے کرائے پر دینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان سے کسی نے فوج مانگی ہے او رنہ پاکستان دے گا ۔ ایسا ہے تو پھر بتائیں کہ ڈیڑھ ارب ڈالر کس مد میں پکڑا ہے۔ شام کے خلاف باغیوں کو تربیت کے لیے پاکستان سے ریٹائرڈ فوجیوں کی بھرتی کی بات ہو رہی ہے۔ریٹارڈ فوجی فوج ہی کا حصہ ہیں۔ ان کو باقاعدہ پنشن کی صورت میں تنخواہ ملتی ہے۔ فوج حاضر سروس ہو یا ریٹائرڈ ،اسی پر موقوف نہیں، کسی سویلین کو بھی کسی دوسرے ملک کی سلامتی کے خلاف استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ سعودی عرب اور خلیجی ممالک اسرائیل کے خلاف اعلان جنگ کریں تو پاک فوج کو اس جنگ میں حصہ لینے پر فخر ہوگا محض تفرقہ بازی کے لیے کرائے پر پاک فوج کا استعمال پاکستان میں فرقہ واریت کو مزید ہوا دے گا۔ ہمارے حکمرانوں کے لچکدار رویے اور لالچی فطرت کے باعث ہی کوئی پاکستان کو پانی جنگ کے لیے استعمال کرتا ہے اور کوئی پاک فوج کو کرائے پر حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ کیا پاک فوج رینٹل آرمی ہے؟ اگر ایسا نہیں تو حکمران ایسا کیوں سمجھتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus