×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ماں کے پائوں تلے جنت مگر عورت کے حقوق پر مجرمانہ خاموشی
Dated: 29-Apr-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com موجودہ دور میں عورت اور مرد کو گاڑی کے دو پہیوں سے تشبیہ دی گئی ہے ایک کے بغیر یہ گاڑی چلتی نہیں۔ یہی نہیں دنیا کی تاریخ میں نظر دوڑائیں تو اس حقیقت کا اعتراف سب نے کیا ہے کہ وجود زن سے ہے تصویر کائنات میں رنگ۔ قبل از اسلام زمانہ جاہلیت میں قبائل اپنی جھوٹی انا کی تشکیل کے لیے بچی پیدا ہوتے ہی اس کو زندہ گاڑ دیتے تھے وہ یہ عام فہم سی منطق سمجھنے سے قاصر تھے کہ اگر عورت نہ رہی تو مرد کا وجود خطرے میں پڑ جائے گا مگر اللہ رب العزت نے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی بنا کر بھیجا تو آپ نے زمانے کے جاہلوں کو بتایا کہ عورت کو بھی وہی حقوق میسر ہیں جو مرد کو میسر ہیں۔ حضرت خدیجہؓ ، حضرت فاطمہؓ اور حضرت عائشہؓ وہ خواتین ہیں جن کے بغیر اسلام کا باب مکمل نہیں ہوتا۔ مگر کیا کیجئے کہ ہماری ساڑھے چودہ سوسالہ اسلامی تاریخ ان واقعات سے بھری پڑی ہے کہ جس میں نام نہاد علمائے دین نے مذہب کے نام پر دنیا کی آبادی کے آدھے سے زیادہ حصے کو عضوئے معطل بنا کر رکھ دیا ہے اس وقت دنیا کی آبادی 8ارب کے لگ بھگ ہے جس میں 53فیصد خواتین اور 47فیصد مرد ہیں۔ ہم نے یورپ میں دیکھا ہے کہ جب بے روزگاری کا حساب لگایا جاتا ہے تو کہا جاتا ہے فلاں ملک یا صوبے میں 4فیصد بے روزگاری ہے تو تعداد مرد و عورت دونوں کو شامل کرکے بتائی جاتی ہے جبکہ پاکستان اور کئی اسلامی ممالک میں جہاں خواتین کی تعداد کل آبادی کا 51فیصد سے زیادہ ہے وہاں بے روزگاری کی شرح 20فیصد بتائی جائے تو یقینا وہ 20فیصد شرح نیں ہوتی بلکہ وہ بے روزگاری کی شرح71فیصد ہوتی ہے اور آج کے جس جدید معاسرے میں اگر 51فیصد حصے کو آپ عضوئے معطل بنا کر رکھ دیں گے او رپھر مقابلہ کریں گے امریکہ، روس ،فرانس ،جرمنی، برطانیہ، چین، جاپان، بھارت کا؟ اس میں کوئی شک نہیں اسلام ایک مکمل مذہب و دین ہے اگر مردوں پر اسلامی فرائض کا اطلاق ہوتا ہے تو عورتوں پر بھی نماز، روزہ ، حج زکوۃ اور کلمہ اسی طرح واجب ہے اسلام کے شعار میں کہیں بھی عورت کے آدھے حقوق سلب نہیں کیے گئے۔ بلکہ ہمارے دین میں بزرگوں، بچوں اور خواتین کو اولیت دی گئی ہے۔ تاریخ اسلام گواہ ہے کہ خواتین نے جنگیں تک لڑیں اور جنگوں میں نرسوں کی خدمات سرانجام دیں۔ ابھی کچھ دن پہلے اسلامی نظریاتی کونسل نے ایک دفعہ پھر ایک ایسی لاحاصل بحث چھیڑ دی ہے کہ جس کی وجہ سے ہماری جگ بھر میں رسوائی ہوئی ہے بلکہ غیر مذاہب کی خواتین جو جوک در جوک حلقہ بگوش اسلام ہو رہی ہیں وہ یہ سوچنے پر مجبور ہو گئیں ہو گی کیا اس مذہب اسلام میں عورت کا کردار اتنا محدود ہے؟ دنیا چاند پر پہنچ گئی ،مریخ پر انسانوں کو پہچانے کی تیاریاں ہو رہی ہیں ہم اس وقت اکیسویں صدی یعنی 2014میں بس رہے ہیں جہاں انسان اللہ کا عطا کیا ہو علم او رنعمتیں استعمال کرکے ترقی کی منازل طے کرکے اتنا آگے پہنچ گیا ہے کہ یہ چاند ستارے اس کی دسترس میں ہیں۔ سالوں کا سفر اب گھنٹوں میں طے ہوتا ہے۔ انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی وسعت سے یہ دنیا یاک گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ مہلک انسانی بیماریوں کے علاج اور ادویات تقریباً دریافت ہو چکی ہیں۔ حتیٰ کہ انسان ترقی کی معراج پر ہے راکٹ سائنس کا دور ہے مگر ہمارے نام نہاد علمائے دین ابھی تک کو حلال حرام کے چک رمیں پڑے ہوئے ہیں اور پھر ہلاکو کی طرح کوئی آئے گا اور علم و دانش کا گڑھ شہر بغداد جلا کر راکھ کر دے گا۔ نامور اصحاب رسول و دانشوروں کی تصانیف آگ کا ایندھن بن جائیں گے۔1973ء کا متفقہ آئین بنے بھی 60سال سے زائد ہو گئے مگر جس پر ہر طبقہ ہائے فکر سمیت سیاسی ہی نہیں مذہبی رہنمائوں کے دستخط بھی موجود ہیں۔ ایک طرف تغیرات زمانہ اپنا پھن کھولے بیٹھا ہے خطے میں جغرافیائی و لسانی بنیادوں پر تبدیلیوں کا عمل جاری ہے ملک میں ہر طرف آگ لگی ہوئی ہے۔ بم دھماکے بارود کی فضا اور اسلامی نظریاتی کونسل کو کم عمر بچوں کی شادی کی فکر کھائے جا رہی ہے اور جہاں ایک مرد اور عورت کو ایک شادی رچانے کے لیے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں وہاں پر ہماری نظریاتی کونسل ملٹی پل شادیوں کی نوید سنا رہی ہے۔ اسی لیے کہتے ہیں ’’اندھرے کو اندھیرے میں بری دور کی سوجھی‘‘ ملک کے 20کروڑ عوام اب یہ سوال پوچھ رہے ہیں کہ وفاقی اور صوبائی اسمبلیوں، سینٹ میں اس وقت ایک تہائی خواتین اپنے کوٹے کا حصہ لے کر بیٹھی ہیں اور ان ممبران اسمبلی میں سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذہبی جماعتوں بشمول جماعت اسلامی ،جمعیت العلمائے اسلام و دیگر بھی اپنا اپنا کوٹہ لے کر بیٹھی ہیں۔ ملک کے طول و عرض میں خواتین بینک اور خواتین تھانے بن چکے ہیں۔ پولیس، فوج ، رینجر، پی آئی اے، سکولز، تعلیمی ادارے، ہسپتال سمیت کوئی ایسا ادارہ رہ نہیں گیا جہاں عورتوں کی ایک بری تعداد اپنی ڈیوٹیاں سرانجام دے رہی ہیں۔ حتیٰ کہ اب ہاکی،کرکٹ اور کبڈی کی خواتین ٹیمیں بن چکی ہیں۔ ملک عزیز میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید دو مرتبہ ملک کی وزیراعظم رہ چکی ہیں۔ خاتون اسپیکر اسمبلی بھی موجود تھیں تو پھر کیا وجہ ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل وفیڈرل شریعت کورٹ اور روایت ہلال کمیٹی میں عورتوں کو ان کے تناسب کے لحاظ سے نمائندگی کیوں نہیں دی گئی؟ پاکستان کی کل آبادی کا 51فیصد حصہ عورتیں ہیں اگر عورتوں کو ملکی معاملات سے علیحدہ نہیں رکھا جا سکتا اگر عورتیں پارلیمنٹ میں وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل اور رویت ہلال کمیٹی کی قانون سازی میں حصہ لے سکتی ہیں تو پھر عورتوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے متعلقہ اداروں میں بھی ان کا جائز حق ملنا چاہیے۔ ایک عورت نے سیمینار کی تقریب میں مجھ سے سوال کیا کہ کیا مرد حضرات کو عید اور شب برات کا چاند زیادہ شفاف نظر آتا ہے؟ کیا جان بوجھ کر صرف چند شرپسند مذہبی جنونیوں سے ڈرتے ہوئے عورتوں کو ان کے حقوق سے محروم کرنا ملک کی آدھی آبادی سے ناانصافی نہیں؟ اگر ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا ہے اور اپنے مقابل کا مقابلہ کرنا ہے تو ملک کی آدھی شرح آبادی کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ عورت و مرد گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں ایک کو پنکچر کرکے گھسیٹا جا سکتا ہے ساتھ چلانے کے لیے ملک کے سبھی حصوں میں عورت کو اس کے جائز حقوق جو کسی طرح بھی مرد سے کم نہیں ان سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ یاد رکھیے آج یورپ سمیت ترقی یافتہ معاشرے نے مذہب اور کلچرل کی جھوٹی انا سے ہٹ کر حقیقت پسندی کا ادراک کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وہ معاشرہ ترقی یافتہ اور مہذب کہلاتا ہے اور وہاں انسانوں کو ایسی ایسی نعمتیں اور سہولیات میسر ہیں جن کا ہمارے معاشرے میں رہ کر صرف تصور ہی کیا جا سکتا ہے۔ ہم عورت کے قدم میں جنت تو مانتے ہیں مگر اس جنت کو جائز حقوق دینے سے خوف کھاتے ہیں۔ دراصل ہمارے معاشرے میں مرد حضرات اپنے اندر خود کو آقا اور عورت کو غلام کے روپ میں لونڈی کے روپ میں دیکھنے کے اتنے عادی ہو چکے ہیں کہ بظاہر روشن خیال حضرات بھی عورت کو برابری کے حقوق دینے سے گریزاں ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus