×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جھوٹھیا وے اِک جھوٹھ ہور بول جا!
Dated: 31-May-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے اور ایک جھوٹ کو چھپانے کے لیے سو جھوٹ مزید بولنے پڑتے ہیں اور سو جھوٹ بول کر آپ ایک فرسٹ کلاس دانشور اور دس دفعہ سو جھوٹ بول کر آپ ایک اچھے سیاست دان کی صف میں آ کھڑے ہوتے ہیں۔ پندرہویں صدی کے آخر میں اٹلی کے مشہور فلاسفر، تاریخ دان اور سیاست دان نکولومیکاولی(Niccolo Machiavelli) نے اپنی مشہور زمانہ تصنیف ’’دی پرنس‘‘ میں اس کے اپنے نظریے کے مطابق ایک کامیاب حکمران کی تعریف کچھ اس طرح کی ہے کہ اچھا حکمران وہ ہے جو ضرورت پڑنے پر نظریہ ضرورت کے تحت فیصلہ کرنا کا ہنر جانتا ہو اور اپنی حکومت، اقتدار کو بچانے کے لیے دھوکے اور طاقت کا استعمال کر سکتا ہو اپنے نظریات اور ٹارگٹ کو حاصل کرنے کے لیے وہ ہر جائز ناجائز راستہ اختیار کرے۔ ایک جگہ وہ لکھتا ہے کہ لوگ آپ سے پیار نہ کریں بلکہ وہ آپ کی طاقت سے ڈریں اور ان کا ڈرنا آپ کے لیے سود مند ہے۔ میکاولی مزید لکھتا ہے کہ ’’سیاست کا ضمیر سے کوئی تعلق نہیں ہوتا ایک کامیاب سیاست دان اور حکمران کو اپنا نظریہ اور افکار ضرورت پڑنے پر بدلنا چاہیے اور ایک حکمران کو اپنا وعدہ توڑنے کے لیے کسی بھی جائز وجہ کی ضرورت نہیں ہوتی جبکہ جو چیز آپ دھوکے سے حاصل کر سکتے ہیں اس چیز کو طاقت سے چھیننے کی ضرورت کیا۔ تاریخ کے اوراق الٹنے سے پتہ چلتا ہے کہ سترہویں صدی میں انگلینڈ کے مشہور فلاسفر ہابس(Hobbes) اپنی مشہور زمانہ تصنیف لوایئتھن(Leviathan) میں لکھتا ہے کہ ہر انسان دراصل دوسرے انسان سے جنگ کر رہا ہوتا ہے اور طاقت اور فراڈ کامیابی کی ضمانت ہوتے ہیں، جبکہ اگر ہم ماضی قریب میں جائیں تومشہور جرمن فلاسفر ڈاکٹر پائول جوزف گوئبلز(Dr. Paul Joseph Goebbels) جو کہ ایڈولف ہٹلر کا پروپیگنڈا منسٹر تھا جو پہلی اور دوسری جنگ عظیم کے دوران اس کا ادا کیا ہوا فقرہ آج پوری دنیا میں مشہور ہے کہ ’’جھوٹ اتنی دفعہ بولو کہ وہ سچ لگنے لگے۔‘‘ قارئین! آپ کو یاد ہوگا کہ 2000ء میں ہونے والے امریکی صدارتی الیکشن میں ری پبلکن کی جیت کے نتیجے میں جارج ڈبلیو بش صدر منتخب ہوئے اور ان کی ٹیم نے رمز فیلڈ، ڈک چینی، اور کنڈالیزارائس جیسے شاطر لوگ شامل تھے جنہوں نے نہ صرف امریکی عوام بلکہ اقوامِ عالم کو جھوٹ در جھوٹ بول کر بے وقوف بنایا اور اپنے کاروباری مفادات اور اہداف پورے کیے آج جبکہ پوری دنیا کے سامنے ان کے جھوٹوں کا پول کھل چکا ہے۔ عراق سے ایک رتی بھر بھی کیمیاوی اسلحہ برآمد نہیں ہوا مگر آج عراق ،افغانستان اور شام کھنڈرات کا منظر پیش کر رہے ہیں اور پاکستان کے اندر بھی ایک لاکھ سے زائد سول و ملٹری لوگوں کو دہشت گردی کی نذر کیا جا چکا ہے جبکہ درجہ بالا تینوں ممالک میں ہلاکتوں کی تعداد بیس لاکھ سے زائد ہے اس طرح بش حکومت نے اپنے اہداف حاصل کرنے کے لیے جھوٹ کا سہارا لیا تھا۔ 2007ء میں جنرل مشرف کے خلاف شروع ہونے والی تحریک کی کڑیاں اب کس کس سے ملتی ہیں یہ بھی کوئی راز کی بات نہیں رہی، کچھ عالمی طاقتوں اور ملکی ٹائیکون نے مل کر عوام کے جذبات سے کس طرح کھیل کھیلا اور اپنے معاشی، سیاسی اور مسلکی مفادات کے لیے فائدے حاصل کیے اور ان میں سے کچھ لوگ آج ریٹائرمنٹ کی زندگی گزارتے ہوئے عوام سے بولے ہوئے جھوٹ کا پول کھل جانے کے باوجود ان کا ضمیر کے ہاتھوں ذرا بھی شرمندہ نہ ہونا سمجھ سے بالاتر ہے۔ خاص طور پر 11مئی 2013ء کے الیکشن سے پہلے میاں برادران کے عوام سے کیے گئے وعدے مثلاً لوڈشیڈنگ کا 90دن میں خاتمہ اور غیرممالک میں موجود پاکستان سے لوٹا گیا سرمایہ واپس لانے کے نعرے اور کڑے احتساب کے ذریعے سابقہ حکمرانوں کو لکشمی چوک میں الٹا لٹکا کر لوٹی گئی ملکی دولت واپس لانے کا عزم، آج ان سب باتوں کا شریف برادران کے پاس جواب نہیں ماسوائے اس کہ شرمندہ شرمندہ سے وزیراعظم نوازشریف نے گذشتہ دنوں ایک تقریب کے دوران اپنے چھوٹے بھائی شہباز شریف کے سر پر سارا ملبہ ڈال دیا کہ کل کے وعدے اور نعرے فقط جوشِ خطابت اور انتخابی نعرے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جنوری 2013ء کے دھرنے کے موقع پر کہا تھا کہ ملک کے موجودہ حالات میں اور ان لوگوں کی موجودگی میں سودفعہ بھی الیکشن کروا کر دیکھ لو نتیجہ صفر نکلے گا اور ہمیں چہرے نہیں نظام بدلنا ہوگا اور نظام الیکشن سے نہیں انقلاب سے بدلا کرتے ہیں۔ مشہور لکھاری حسن نثار نے کیا خوب کہا کہ قیمہ بنانے والی مشین میں ایک طرف سے آپ ’’سؤر‘‘ کا گوشت ڈالیں گے تو دوسری طرف سے بکرے کا قیمہ نہیں نکلے گا۔ بھارت کے ساتھ تجارتی مفادات کے لیے محبت کی پینگیں بڑھانے والے حکمران خاندان کے ساتھ بھارتی یاترا کے موقع پر جو کچھ ہوا اور آج انتہا پسند ہندو مطالبہ کر رہے ہیں کہ فجر کی اذان پر پابندی لگا دی جائے یہ تو ابتدا ہے آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔اب یہ بات راز نہیں رہی کہ الیکشن جیتنے کے بعد نریندرمودی نے نوازشریف کو فون کیا تھااور اس کی تقریب حلف برداری میں شرکت کی دعوت دی تھی جسے نوازشریف صاحب نے بلاکسی توقف کے اسی وقت قبول کر لیا تھا مگر نوازشریف نے پاکستان اور نریندرمودی نے بھارتی عوام کو تین دن تک اندھیرے میں کیوں رکھا ؟یہ جھوٹ، منافقت اور بیوروکریسی کی پوجا کرنے والوں کی جیت ہے میں ابھی لکھ ہی رہا تھا کہ میرے پاس بیٹھا ’’جھورا جہاز‘‘گنگنانے لگا: کوئی نواں لارا لا کے مینوں رول جا جھوٹھیا وے اِک جھوٹھ ہور بول جا جھورا جہاز گنگنا رہا تھا اور میں سوچوں میں گم سوچ رہا تھا کہ کیا ہماری قوم فراڈ ،دھوکہ،منافقت اور جھوٹ و فریب میں ایکسپرٹ لوگوں کو ہی اپنا لیڈر کیوں مانتی ہے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus