×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
قائداعظم، قائدعوام اور قائد انقلاب
Dated: 04-Jun-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سر محمد اقبال نے مسلمانوں کے لئے الگ ریاست کا تصورپیش کیا اورپھر اس تصور کو عملی شکل دینے کے لیے قوم کو محمد علی جناح کی صورت میں ایک رہنما بھی دیدیا۔جس نے دن کا آرام دیکھا نہ رات کا سکون ، انگریزوں اور ہندوئوں سے پنجہ استبداد آزادی چھین کر ایک آزاد اور خود مختار مملکت پاکستان قائم کردی۔ قوم نے بھی اس نہ تھکنے والے مردِ آہن کو ’’قائداعظم‘‘ کا خطاب دیا۔ شب روز محنت اور جاگتے رہنے کی وجہ سے الحمد اللہ پاکستان تو معرض وجود میں آگیا مگر حضرت قائداعظم کی بگڑتی ہوئی صحت اب جواب دے چکی تھی۔ قیام پاکستان کے عظیم مقصد کی برآوری کے بعد 11ستمبر 1948ء کو وہ ہم سے جدا ہو گئے۔ وسائل کی کمی مہاجرین کی آبادکاری کشمیر ،جونا گڑھ، حیدرآباد دکن کے مسائل اپنی جگہ تھے پھر اگلے پندرہ برسوں میں نہ صرف دو جنگیں ہم پر تھوپی گئی بلکہ درجن بھر قیادتیں بھی مملکت کو نہ سنبھال سکیں۔ 65ء کی جنگ اور معاہدہ تاشقند کے بعد مسلمان پاکستان ایک دفعہ پھر ہارے ہوئے جواری کی طرح تھے گلی گلی محلے محلے ایوب خان کے مارشل لا اور سیاست دانوں پر ’’ایبڈو‘‘ کی پابندیاں تھیں کہ اسی دوران ایوب خان کے ہی سابق وزیر خارجہ جس نے تاشقند معاہدے کی مخالفت کی بنا پر چھوڑی ددی کابینہ کا ساتھ انہوں نے چند ساتھیوں کے ہمراہ ایک نئی سیاسی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کی بنیاد رکھی۔ ڈاکٹر مجید نظامی صاحب نے ایک دفعہ مجھے بتایا کہ ایک دفعہ بھٹو صاحب نے ان سے ملاقات کی اور ملکی حالات پر پریشانی کا اظہار کیا اور مجھ سے مدد کی درخواست کی پھرڈاکٹر مجید نظامی صاحب نے مکمل سپورٹ کا یقین دلایا اور لاہور میں ’’وائی ایم سی‘‘ ہال جو مال روڈ پر ہے جلسے کا اہتمام کیا۔ بس پھر کیا تھا کروڑوں لوگ جوق در جوق پیپلزپارٹی میں شامل ہوتے گئے اس دوران انتخابات ہوئے اور پھر سانحہ مشرقی پاکستان رونما ہوا لیکن ذوالفقار علی بھٹو جس کو قوم نے اب قائدعوام کہنا شروع کر دیا تھا نے اس شکست خوردہ اوررنجیدہ قوم کو ایک نئی امنگ، نئی راہ دی۔ 90ہزار قیدیوں کو بھارت کی تحویل سے آزاد کرایا۔ مغربی پاکستان کا چھینا گیا ہزاروں مربع کلومیٹر مقبوضات واپس حاصل کیے۔ ملک کو پہلا متفقہ1973ء کا آئین دیا اور ملک کو ایٹمی طاقت بنانے کے جنون میں خود عوام کے ساتھ شامل ہو گیا اور پھر سامراج کی طرف سے اسی جرم کی پاداش میں تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔ پھر اس کے دو بیٹوں اور دو دفعہ عوام کی وزیراعظم دختر مشرق کو بھی باپ کے قاتلوں نے بیچ سڑک پر شہید کر دیا اور اب پاکستان کا حال یہ ہے کہ ’’بن ملاحوں بیڑیاں دھکے ڈولے کھا‘‘ پاکستان کی حالت یہ ہے کہ کرپٹ لیڈرز ، کرپٹ بیوروکریسی ، کرپٹ اسٹیبلشمنٹ، کرپٹ سسٹم ایسے میں عمران خان کا نام نہاد مغربی جمہوریت کا واویلہ بھی ناکام ہو گیا ہے۔ سینکڑوں پنکچر لگنے کے بعد۔جب میں موودہ تناظر میں نظردوڑاتا ہوں تو مجھے قائداعظم اور قائدعوام کے بعد دور دور تک کوئی ایسی شخصیت نظر نہیں آتی کہ جو اس زخم خوردہ عوام کے زخموں کا مداوہ کر سکے جو بیس کروڑ عوام کو ملک کے صرف ایک فیصد چوروں، ڈاکوئوں، منی لانڈرنگ اور غیر ممالک کے بینکوں میں 200ارب ڈالر جو پاکستان سے لوٹے گئے ہیں واپس لانے کا یقین دلا سکے۔ پاکستان کے عوام کا ایک بڑا طبقہ جو کہ پاکستان کو لبرل پروگریسو سوشل ڈیموکریٹک بنانا چاہتا تھا وہ طبقہ جو اس وقت ادھیڑ عمری میں ہی گیا ہے اس طبقے کو لگتا ہے پاکستان کے بنانے یا بچانے میں اب کوئی دل چسپی نہیں رہی؟ یہ طبقہ پورا دن ٹی وی چینلوں کے آگے بیٹھا رہتا ہے اور کڑھتا رہتا ہے۔ اخبارات کی سرخیوں میں لگی آگ سے اپنے دل کو جلاتا رہتا ہے یہ طبقہ سمجھتا ہے کہ قائداعظم، قائدعوام اور دختر مشرق کی ناگہانی شہادتوں کے بعد اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیادت کے دروازے بند ہو چکے ہیں خود میں بھی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد 6سال پارٹی کی فیڈرل کونسل کا ممبر ہونے کی بنا اپنا احتجاج ریکارڈ کرواتا رہا لیکن جھوٹے وارثان کے کانوں پہ جوں تک نہ رینگی۔ میں 2013ء اور 2014ء کا بغور جائزہ لیتا رہا ہوں اور میں آج بھی ڈاکٹر طاہر القادری کے ان الفاظ کہ ’’چہرے نہیں نظام بدلو‘‘ سے متفق ہوں ایک دفعہ پاکستان عوامی تحریک کی بنیاد رکھتے ہوئے ڈاکٹر قادری صاحب نے کہا تھا کہ میں ایک دو الیکشن میں دور صرف اس لیے رہا ہوں کہ مجھے سمجھ تو آئے ہو کیا رہا ہے اور جب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کو وہی نظر آیا جو وہ پہلے بتا چکے تھے تو انہوں نے قومی اسمبلی کی سیٹ سے استعفیٰ دے کر اس نظام کی ناکامی پر مہر ثبت کر دی اور دیارِ غیر چلے گئے۔ بالکل اسی طرح جس طرح بانی پاکستان حضرت قائداعظم ایک دفعہ مسلمانان ہند سے ناراض ہو کر انگلینڈ چلے گئے تھے اور پھر ڈاکٹر علامہ اقبال اور دیگر ساتھی انہیں منا کر واپس لائے تھے اور قیام پاکستان کا عمل میں آنا ممکن ہوا۔ اسی طرح انقلابی ساتھیوں کے کہنے پر ڈاکٹر طاہر القادری صاحب بھی تشریف لائے اور جنوری 2013ء میں عوام نے دیکھا کہ قوم کیا چاہتی ہے؟ میرے پروگریسو،لبرل ڈیموکریٹو بھائی ذرا غور کریں ڈاکٹر طاہر القادری کے ان نکات پر جو انہوں نے پی اے ٹی کے حالیہ یوم تاسیس کے موقع پر فرمایا تھا اگر ان نکات کو آئین پاکستان کا حصہ بنا لیا جائے تو یقینا پاکستان ایک عظیم فلاحی ریاست ہو گی دنیا میں۔ پاکستان کا روشن خیال لبرل پروگریسو طبقہ جانتا ہے کہ ایک دفعہ محترمہ شہید کے دورہ منہاج القرآن کے موقع پر ڈاکٹر طاہر القادری کے آفس میں شیلف میں رکھی لینن کی 42کتابوں کی جلد کو دیکھ کر محترمہ شہید نے کیا فرمایا تھا کہ ’’ ڈاکٹر صاحب آپ بھی لینن کو پڑھ چکے ہیں تو ڈاکٹر صاحب نے میری موجودگی میں فرمایا تھاکہ یہ سب کتابیں میں نے کالج کے زمانے کی پڑھ رکھی ہیں‘‘ قائداعظم کے فلاحی پاکستان بھٹو کے سوشلزم ڈیموکریٹ پاکستان اور ے نظیر بھٹو شہید کے روشن خیال پاکستان کے پاس اب انقلاب کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے ۔ بھٹو شہید نے ہمیں محکومی اور غلامی سے نجات دلائی کیا ہم اب اس کے نواسے یا پوتے کو لیڈر مان کر غلامی کا طوق گلے سے اتارنے کے لیے تیار نہیں؟ کیا ہم غلام ابن غلام ہی رہیں گے۔ میں اب بھی پیپلزپارٹی فیڈرل کونسل کا رکن ہوں مگر مجھے یہ انقلاب کی روشنی شہید بھٹو کا ویژن قائداعظم کا ’’قومی نظریہ ‘‘اور بینظیر بھٹو شہید کی وفاقی سیاست اب صر ف ایک ہی راستے میں نظر آ رہی ہے وہ راستہ ہے انقلاب کا اور وہ انقلاب قائدانقلاب علامہ ڈاکٹر طاہر القادری ہی پاکستان کو دے سکتے ہیں۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کے خلوص پر کسی کو شک نہیں جس طرح انہوں نے اقوام متحدہ کے اجلاس سے دلیرانہ واک آئوٹ کیا تھا سفید ہاتھی کو للکارا تھا وہ خوبیان بتدرجہ اتم ڈاکٹر طاہر القادری صاحب میں نظر آ رہی ہیں۔ بس عوام کو اب گھروں سے نکلنا ہوگا اپنی آنے والی نسلوں کو اگر وہ کچھ دینا چاہتے ہیںتو، کیونکہ آج قوم کو ضرورت ہے ایک مہاتیر محمد کی، امام خمینی ، احمدی نژاد کی اور ذوالفقار علی بھٹوکی ۔ اگر آپ ویژن کی آنکھ سے دیکھیں تو آپ کو یہ سب صفات قائدانقلاب ڈاکٹر طاہر القادری میں نظر آئیں گی اٹھو دوستو ملک کے لیے، وطن کے لیے، قوم کے لیے، انائوں کے خول توڑ کر، کشکول توڑ کر، غلامی کے طوق اتار کر ایک نئے عزم کے ساتھ قائدانقلاب کا ساتھ دینا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus