×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہے جمالو۔ آخری وکٹ کی شراکت
Dated: 30-Sep-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com انقلاب اور آزادی مارچ کو شروع ہوئے سینتالیس روز گزر چکے ہیں۔ حکومتی ٹیم کی طرف سے نوازشریف کی 9وکٹیں گِر چکی ہیں اور اب وہ آخری وکٹ کی شراکت میں کریز پر زرداری کے ساتھ موجود ہیں جبکہ فضل الرحمن اور اسفند یار ان کے ساتھ رنر کی صورت موجود ہیں۔ دوسری طرف ورلڈ چیمپئن عمران خان اپنے بائولنگ سکواڈ کے ساتھ مسلسل بائونسرپہ بائونسر مار رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ ق کے چوہدری شجاعت اورپرویز الٰہی بہترین فیلڈنگ کر کے سب کو حیران کر رہے ہیں اور سنی اتحاد کونسل کے حامد رضا اور اتحاد بین المسلمین کے علامہ ناصر عباس وکٹ کیپنگ کرتے ہوئے ہر ممکنہ کیچ کو پکڑ رہے ہیں۔ اس ٹیم کا مورال بلند ہے کیونکہ اس ٹیم کے ہیڈ کوچ ڈاکٹر طاہر القادری ہیں جو اپنے تدبر ،فراست اور عالمی ویژن سے حکومتی ٹیم کی بیٹنگ اور بائولنگ کی صلاحیتوں کو مفلوج کر چکے ہیں۔ اگر میچ فکسنگ نہ ہوئی تو آخری جاری اوور میں کسی لمحے بھی آخری وکٹ گِر سکتی ہے۔ قارئین گو نواز گو کا نعرہ لاہور، لندن، دوبئی سے ہوتا ہوا نیویارک پہنچ گیا ہے گذشتہ دنوں وزیراعظم کی اقوام متحدہ کے اجلاس سے کم از کم 2پوائنٹس کو جان بوجھ کرنظرانداز کیا گیا ایک بلوچستان میں بھارتی مداخلت جس کے بیّن ثبوت موجود ہیں۔ دوسرا بھارتی آبی جارحیت جو ہر تین چار سال بعد پاکستان کو کھربوں ڈالر کانقصان پہنچاتی ہے۔یہ بھی شاید نواز حکومت کی درگزر پالیسی کا حصہ ہے کہ عظیم دوست بھارت کہیں ناراض نہ ہو جائے؟وزیراعظم جس طرح جنرل اسمبلی میں خالی ہاتھ گئے تھے کروڑوں روپیہ خرچ کرکے اسی طرح خالی ہاتھوں وطن واپس پہنچ گئے ہیں۔ جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی اوبامہ سمیت عالمی رہنمائوں سے طویل معاشی منصوبوں پر معاہدوں سمیت ملاقاتیںہوئیں اور نیویارک کے سٹی پارک میں ہزاروں بھارتیوں نے اپنے ملک اور وزیراعظم کے حق میں استقبالیہ جلوس نکالا۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا ’’جیہڑا لاہور بھیڑا اوہ نیویارک وی بھیڑا‘‘پاکستان کے موجودہ حالات کے تناظر میں ہزاروں ہم وطن مجھ سے رابطے میںہیں اور سوال کرتے ہیں کہ عید سے پہلے قربانی ہو گی کہ نہیں تو میں اکثر اوقات ان کو جواب دیتا ہوں کہ قربانی کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے۔ ہاں سنت ابراہمی میں عید کے تین روز ضروری ہیں جبکہ اللہ کی رضا کے لیے قربانی کا کوئی خاص وقت اور مقام مقرر نہیں اور اسی طرح کھالیں چاہے عید پر جمع ہوں یا بعد میں ان کا تصرف بہتر ہونا چاہیے اور ادارہ منہاج القرآن اور شوکت خانم ہسپتال ان کھالوں کے جائز حقدار ہیں۔ یوں بھی ڈاکٹر طاہر القادری صاحب آج مجھے بتا رہے تھے کہ انقلاب مارچ کے مقاصد قریباً قریباً حاصل ہونے والے ہیں اور پاکستان عوامی تحریک دھرنے میں شامل شرکاء اور انقلاب مارچ کے دوران زخمی اور شہید ہونے والوں کی لسٹیں تیار کر رہی ہے اور انشا اللہ انقلاب کے ثمرات ایسے جانثاروں کے گھروں تک ان کی دہلیز پر پہنچائے جائیں گے یقیناً شرکائے انقلاب مارچ نے ایک تاریخ رقم کی ہے اور چشم فلک نے دیکھا کہ تاریخ میں لوگوں نے پیغمبروں کے لیے تو جانی قربانیاں دیں مگر ذوالفقار علی بھٹو کے بعد دنیا کے خوش نصیب عوامی قائد ڈاکٹر طاہرالقادری ہیں۔ بھٹو پر 9جیالوں نے اپنی جان قربان کی مگر ڈاکٹر طاہر القادری پر درجنوں جانثار اپنی جانیں نچھاور کر چکے ہیں اور عوامی تحریک کے جانثاروں کا عزم آج بھی فولادی ہے۔ قارئین میں یہاں اپنے چند دوستوں کے خدشات کا ذکر کرنا بھی مناسب سمجھوں گا اور یہ بیان کرتے ہوئے مجھے کسی تکلف کا شکار ہونے کا خدشہ نہیں کہ گذشتہ آٹھ دنوں کے دوران محترم عمران خان کراچی اور لاہور میں دو بڑے فقید المثال عوامی اجتماعات کر چکے ہیں اور سیلاب زدگان کے متاثرین کی مدد کے لیے طوفانی دورے بھی کرچکے ہیں لیکن لاہور کے مینار پاکستان پر جلسہ جو کہ سانحہ مادل ٹائون 17جون کے بعد پہلا بڑا سیاسی اجتماع تھا، عمران خان نے سانحہ ماڈل ٹائون کے شہدا کا ذکر تک نہ کیا اور کراچی اور لاہور کے جلسوں میں عوامی تحریک کی قیادت کو رسماً بھی مدعو نہ کیا گیا حالانکہ ان دونوں اجتماعات میں عوامی تحریک کے ہزاروں کارکنوں نے اپنے اتحادی آزادی مارچ کے سربراہ سے اظہار یک جہتی کے لیے بھرپور شرکت کی، چونکہ کارکنان عوامی تحریک کو قیادت کی طرف سے اپنی پارٹی کے پرچم ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں تھی جبکہ عمران خان ،شاہ محمود قریشی سمیت قائدین تحریک انصاف ان جلسوں میں عوامی تحریک کا ذکر تک کرنا بھول گئے۔ محترم عمران خان کو تحریک انصاف کے اندر ’’جماعتی‘‘ لابی کو خوش کرنے کے لیے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا تو بار بار ذکر کرنا پڑا اور جیو کے ان دوست اینکر حامد میر کو خوش کرنے کے لیے ’’مسنگ پرسنز‘‘ کی گردان بھی کرتے رہے ۔کیا عمران خان نہیں جانتے کہ مسنگ پرسنز آئی ایس آئی اور پاک فوج کو بدنام کرنے کا ایک بہانہ تھا جیسے’’جیؤ‘‘ نے بڑی خوش اسلوبی سے سرانجام دیا جبکہ اس سے پہلے گذشتہ دنوں شاہ محمود قریشی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کرتے ہوئے تحریک انصاف کی صفائیاں پیش کرتے رہے اور اشاروں کنائیوں میں یہ کہہ گئے کہ پی ٹی وی پر حملہ کی ذمہ دار شاید عوامی تحریک ہے اور گذشتہ روز بھی موصوف سابق وزیر خارجہ نے عوامی تحریک کی لیڈرشپ سے مشاورت کیے بغیر یہ بڑھک مار دی کہ اب ہم کنٹینرز کو پہیے لگا کر شہر شہر جائیں گے ۔شاہ محمود قریشی کا یہ بیان دونوں پارٹیوں کے درمیان اتحاد اور یگانگت کو شک میں ڈال سکتا ہے اگر عوامی تحریک ابھی ایک پارلیمانی قوت نہیں ہے تو تحریک انصاف کی بھی 80فیصد قیادت کے ساتھ پارلیمنٹیرین کا لاحقہ اب موجود نہیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے ایک دفعہ بات ہوئی تو انہوں نے کیا خوب فرمایا کہ جب دو پارٹنر آپس میں شراکت داری کرنے لگیں تو پہلے ایک کلو نمک مل کر کھا لیں تاکہ دونوں اتنے کڑوے ہو جائیں کہ ایک دوسرے کی کوئی بات پھر کڑوی نہ لگے۔ عوامی تحریک کے قائدین اور کارکنوں نے تو اپنے حصے کا نمک کھا لیا ہے ،اب تحریک انصاف کی قیادت اور کارکنوں کو بھی اپنے حصے کا نمک کھانا ہوگا اور تب ہی انقلاب و آزادی مارچ کے نتائج اور ثمرات حاصل کیے جا سکیں گے۔ قارئین ان تلخیوں سے نکل کر ایک بات تو خوش آئندہ ہے کہ عظیم پنجابی فوک میوزک ’’ہے جمالو‘‘ کی تھاپ پر گو نواز گو کہنے کا مزہ دوبالا ہو جاتا ہے۔ 30ستمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus