×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مغلِ اعظم!
Dated: 04-Oct-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شہنشاہوں ،بادشاہوں، سلاطین اور امراء کے مزاج کا یہ خاصا رہا ہے کہ وہ اپنے جاہ و جلال حشمت کے عادی اور دلدادہ ہوتے ہیں۔ مابدولت کو انکار اور ناں سننے کی عادت نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ اپنی انا کی خاطر وقت کی انارکلی کو دیوار میں بھی چنوا دیتے ہیں۔ بھائی بھائی کو تخت کے لیے قتل کروا دیتا ہے، بیٹا باپ کی آنکھیں نکلوا دیتا ہے اور پھر ایک شاہی خاندان جب دوسرے خاندان کو زیر کر لیتا ہے تو اپنے مخالفین کی قبروں کو اکھاڑ کر ہڈیوں کو بھی پھانسی گھاٹ پر لٹکا دیتے ہیں۔بادشاہ سلامت کی مرضی ہو اور نوازنے پہ آ جائیں تو ایک ماچھی نظام سقہ کو ایک دن کے لیے بادشاہت تفویض کر دیں۔ ایک عرب بادشاہ سلامت سے پوچھا گیا کہ آپ عورتوں کی بہتری اور غربت مٹانے کے لیے کیا اقدامات کر رہے ہیں تو اس نے کمال شانِ بے نیازی سے جواب دیا کہ میرے حرم میں چار ہزار عورتیں اسی مقصد کے لیے جمع کی گئی ہیں کہ ملک میں غربت ختم کی جا سکے۔ آخری مغل تاجدارِ ہند بہادرشاہ ظفر رنگون میں قید کر دیئے گئے مگر ان حالات میں بھی گردن سے بَل نہ نکلا اور اسی بہادر شاہ ظفر کے پیشرو محمد شاہ رنگیلا کو سپہ سالار ہند نے دربار میں اطلاع پہنچائی کہ بادشاہ سلامت دشمن کی فوجیں دلی کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہیں تو اس نے جواب دیا ’’ہنوز دلی دوراست‘‘ ۔سپہ سالار نے پھر پیغام بھجوایا کہ حضور دشمن شہر کو جلاتا ہوا محل اور قلعہ کے دروازے تک پہنچ گیا ہے تو رقص و سرود میں مشغول نشے میں دھت تاجدارِ ہند نے جواب دیا کہ آنے دو دشمن کی فوجوں کو ہم طبلے اور سرنگیاں مار کر ان کے سر پھاڑ دیں گے۔ قارئین! جس وقت یورپ نے بیداری کی لہر پکڑی اور آکسفورڈ، کیمبرج یونیورسٹیوں کی بنیاد رکھی جا رہی تھی، ٹھیک انہی ایام میں مسلمانوں کے شہنشاہ اور سلاطین جن کے آبائواجداد نے دنیا کو تسخیر کیا تھا وہ فرنگیوں کے آگے سرنگوں ہو کر تخت طائوس چھوڑ کر بھاگ رہے تھے اور ٹھیک انہی دنوں برصغیر ہند کے عظیم مغلیہ شہنشاہ قطب مینار، لال قلعہ اور تاج محل تعمیر کرنے میں مصروف تھے۔ یعنی اپنی سلطنت عظیم کی پوری صلاحیتیں اپنی ایک مرحومہ ملکہ کی یادگار تعمیر کرنے میں صرف کر دیں۔ شاید ایسے ہی کسی موقع کے لیے شاعر نے کہا تھا: اک شہنشاہ نے بنوا کے حسین تاج محل ہم غریبوں کی محبت کا اڑایا ہے مذاق تو قارئین آج بھی ہمیں ایک ایسے ہی خودساختہ مغل اعظم سے واسطہ پڑ گیا ہے جس کو اس کی انہی خوبیوں کی بناپر دو دفعہ پہلے بھی تاخت و تاراج کیا جا چکا ہے اور بوقت مداخلت ان کے حرم سرائوں سے بھی کافی مواد برآمد ہوا اور جس طرح مغل اعظم کے دربار میں مُلاّ دو پیادہ اور بیربل جیسے مصاحبین تھے، موجودہ بادشاہوں کے دربار سے بھی بھانڈ اور میراثی برآمد ہوئے اور تو اور ان کے عادات و اطوار بھی بادشاہوں سے مماثلت رکھتے ہیں۔ اپنے برادرِ نسبتیوں، بھانجے ،بھتیجوں، بیٹے بیٹیوں کو نوازنے کے بعد جو کچھ بچا ہے اسے شاہی برادری میں بانٹ دیا گیا ہے۔ عوام بھوک و افلاس اور بنیادی ضروریات سے محروم ہے۔ تعلیم، صحت اور روزگار جیسی سہولتیں مفقود ہیں مگر بادشاہ سلامت کا اقبال بلند ہو۔ کمیشنیں کھانے والے اور واہ واہ کے شور سے عوامی حمایت کا ڈھنڈورا پیٹنے والے بادشاہوں نے دارالسلطنت میں میٹروبس اوورہیڈ بریجز اور باغات کا جال بچھا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ ایک تخت لاہور کی شان و شوکت پورے پاکستان کی پہچان ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج وطن عزیز کے طول و عرض میں نئے صوبے بنانے کی بات چل پڑی ہے اور اگر کبھی ایسا ہوا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان میرے دیس اور سوہنی دھرتی پنجاب کو ہوگا۔یقینا تقسیم پنجاب کے وقت ان کشمیری بادشاہوں کو کوئی رنج و غم نہ ہوگا ۔اس بادشاہ خصلت طبقے نے کئی سو ارب ڈالرز کے اثاثے اکٹھے کر لیے ہیں۔ نصیب دشمناں اگر پاکستان کی سالمیت کو کوئی زک پہنچنے کا خدشہ ہوا تو یہ ان اثاثوں کے ساتھ افریقہ یا سائوتھ امریکہ یا پھر کوئی چھوٹی موٹی کیریبین سٹیٹ خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ ان کے بادشاہ کہلوانے کے شوق کا یہ عالم ہے کہ گذشتہ دنوں وزیراعظم کے دورہ نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے سٹیج پر بلایا گیا تو سپیکر نے ’’ہزہائی نس‘‘ نوازشریف کہہ کر پکارا ۔ بعد میں امریکہ میں پاکستانی ایمبیسی اور دفترخارجہ نے اس غلطی پر بے شمار صفائیاں پیش کیں اور اسے اقوام متحدہ کے کمپوزر کی ٹائپنگ مسٹیک قرار دیا۔ میاں برادران کی شاہی عادات دیکھتے ہوئے آج سے برسوں پہلے آصف علی زرداری نے انہیں بادشاہ سلامت کا لقب دیا تھا۔ جس کے جواب میں شریف برادران نے آصف زرداری کو علی بابا چالیس چور کا خطاب دیا تھا۔ قدرت خدا کی عجب کرشمہ ہے کہ آج بادشاہ سلامت اور علی بابا چالیس چور گلے مل کے بھائی بھائی بن کر قوم کی ہڈیوں سے ماس کی آخری بوٹی تک نوچ لینے میں مصروف ہیں اور ایک شاہی حکم کے تحت 17جون کے دن سانحہ ماڈل ٹائون برپا کرکے درجنوں لاشیں گرائی گئیں اور رعایا چونکہ بادشاہ کی غلام ہوتی ہے، اس کے احتجاج کو بھی گوارہ نہ کیا گیا اور پھر 10اگست اور 30اگست کو خون آشام ہولی کھیلی گئی۔ اسی لیے ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے فرمایا ہے کہ اب قربانیوں کے اس موسم میں ہمیں اپنے حصے کی قربانیاں دینا ہوں گی کیونکہ چہرے نہیں نظام بدلنے سے عوام کے نصیب بدلیں گے اور اب کی بار تخت و تاج اچھالے جائیں گے تو ایک عوامی انقلاب طلوع ہوگا اور یہ قیصروکسریٰ اور بادشاہی نظام کا خاتمہ ہوگا۔ 4اکتوبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus