×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بعداز کربلا۔کچھ بھی تو نہیں بدلا!
Dated: 08-Nov-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سانحۂ عظیم کو روح پذیر ہوئے ابھی کچھ گھنٹے ہی گزرے تھے کہ یزیدی لشکر نے شہدائے کربلا کے سروں کو کاٹ کر نیزوں پہ چڑھا کر اٹھا رکھا تھا اور سادات کی خواتین کو قیدی بنا کر ساتھ لے جا رہے تھے۔ اس لائو لشکر کے آگے کچھ نقارہ بجاتے اور ڈھول پیٹتے ہوئے فتح و خوشی کے نغمے گا رہے تھے اور استفسار کرنے پر بتایا جا رہا تھا کہ شاہی فوج نے باغیوں کو کچل کر رکھ دیا ہے اور ان لوگوں کو قیدی بنا کر لے جایا جا رہا ہے۔ یہ قافلہ بڑھتے بڑھتے دمشق کے بازاروں تک پہنچ گیا۔ یزید کا دربار کچھ ہی فاصلے پر تھا جہاں ان قیدیوں اور نیزوں پر لٹکتے سروں کو پیش کیا جانا تھا اس شور اور ڈھول کی تھاپوں کی آواز جب ’’ہند بنتِ عبداللہ‘‘ کے کانوں تک پہنچی تو انہوں نے اپنی کنیز کو بھیجا کہ جا کر پتہ کرو کہ یہ کیا ماجرہ ہے۔ کنیز نے لشکر کے قریب رک کر اونٹنی پر سوار حضرت زینبؓ سے پوچھا آپ لوگ کون ہیں؟ بی بی زینبؓ نے فرمایا کہ ہمیں کچھ چادریں دے سکتی ہو تو دے دو تاکہ میرے ساتھ قیدی خواتین اپنے سر ڈھانپ سکیں۔ کنیز یہ سن کر اپنی مالکہ کے پاس گئی ا ور ساری داستان اسے بیان کر دی۔ ہند بنت عبداللہ نے کچھ چادریں، کھجوریں اور پانی کا انتظام کیا اور اپنے ملازموں کو لے کر قافلے کے پاس پہنچ گئیں اور قیدیوں میں سامان تقسیم کیا۔ بی بی زینبؓ نے اس خاتون کا ایثار دیکھا تو پوچھا خاتون آپ کون ہیں؟ اور ہم پر یہ احسان کیوں؟ ہند بنت عبداللہ نے جواب دیا جب میری کنیز نے بتایا کہ قیدی خواتین کا تعلق مدینہ سے ہے تو میں خود چل کر یہ دیکھنے آ گئی کہ یہ کون لوگ ہیں اور اب میں آپ سے پوچھتی ہوں کہ آپ مدینہ کے کس قبیلے سے ہیں۔ بی بی زینبؓ نے فرمایا کہ ہم سادات ہیں۔ ہند بنت عبداللہ نے پوچھا کہ تمہارے ماں باپ اور آبائواجداد کا کیا نام ہے۔ جب بی بی زینبؓ نے کہا کہ میرے باپ خلیفتہ المسلمین حضرت علیؓ اور میری ماں سیدۂ کائنات بی بی فاطمہ الزہرہؓ ہیں تو ہند بنت عبداللہ نے پوچھا کہ حسینؓ اور عباسؓ کہاں ہے تو بی بی زینب ؓ نے بلند نیزوں کی طرف اشارہ کیا۔ یہ دیکھ کر ہند بنت عبداللہ غش کھا کر گر پڑیں۔ جب انہیں ہوش میں لایا گیا تو بی بی زینبؓ اور دیگر قیدی خواتین نے پوچھا کہ یہ آپ کو کیا ہوا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ میں آپ کے عظیم ماں باپ کی پرانی کنیز تھی اور حضرت علی ؓ کی وفات کے بعد جب میںان کے گھر سے رخصت ہونے لگی تو میں نے تمہاری ماں سیدۂ کائنات سے پوچھا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے تو سیدہ کائنات بی بی فاطمۃ الزہرہؓ نے مجھے کہا تھا کہ کبھی تم قیدیوں کو دیکھو تو ان کی خدمت کر دینا اور آج مجھے احساس ہوا ہے کہ بی بی فاطمۃ الزہرہؓ کو یہ کیسے خبر تھی۔ میں بیاہ کر دمشق پہنچوں گی اور ان کی اولاد قیدی بن کر اس شہر کے گلی کوچوں سے گزر کر جائیں گے ۔یہ واقعات بیان کرنے کے بعد ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب سمیت تمام حاضرین پہ رقت طاری تھی اور عرب ممالک سے آیا ہوا ایک وفد زاروقطار رو رہا تھا۔ آج نویں محرم کی شام تھی اور ہمیں ڈاکٹرصاحب نے کھانے پر مدعو کیا ہوا تھا۔ پھر میرے اور عرب دوستوں کے اصرار پر ڈاکٹر صاحب نے یہ واقعہ تاریخ کے حوالہ جات دے کر بہت خوبصورتی سے بیان کیا۔ قارئین! آج سانحہ کربلا کو گزرے چودہ سو سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے مگر لگتا یوں ہے کہ کچھ بھی تو نہیں بدلا، حق و باطل کے درمیان ا ب بھی معرکہ جاری ہے۔ ابھی کچھ مہینے پہلے سانحہ ماڈل ٹائون میں درجنوں شہید کر دیئے گئے اور پھر ہزاروں قیدی بنا لیے گئے اس لیے کہ وہ لوگ حسینی انقلاب چاہتے تھے۔ آج سے چودہ سوسال پہلے حضرت امام حسینؓ کے ساتھ محض چند لوگ تھے اور جب ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے 10اگست کو 14اگست کے دن مارچ کا اعلان کیا تو انہوں نے حاضرین سے جو الفاظ کہے کہ میں آنکھیں بند کرتا ہوں جو میرے ساتھ جانا چاہے وہ بیٹھا رہے اور جو مجھے چھوڑ کر جانا چاہتا ہے وہ چلا جائے یاد کیجئے یہی الفاظ امام حسینؓ نے اپنے ساتھیوں سے کہے تھے آج بھی 20کروڑ عوام میں صرف چند لاکھ کارکنان ہی متحرک ہوئے اور سینکڑوں نے صعوبتیں برداشت کیں مگر ساڑھے انیس کروڑ لوگ بے حس ہو کر ظالم کو ظلم کرتے ہوئے دیکھتے رہے اور آج ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کی حکمت عملی بدلنے پر یہ بے حس لوگ انہیں دھرنہ ختم کرنے کا طعنہ دے رہے ہیں جو سمجھ سے بالاتر ہے۔ قارئین! جس معاشرے میں آج سے پندرہ سو سال پہلے کے جاہل عربوں کی طرح اور مولانا حالی کے اس شعر کے مصداق: کبھی پانی پینے پلانے پہ جھگڑا کبھی گھوڑا آگے بڑھانے پہ جھگڑا مرید کے میں گذشتہ روز عاشورہ محرم کے دن قبرستان میں قبروں پر مٹی ڈالنے کے لیے گئے ہوئے دو گروپوں نے اندھا دھند فائرنگ کرکے ایک د وسرے کے پانچ افراد کو ہلاک کر دیا اور اسی سے ایک دن پہلے اسلام کی ٹھیکے داری کا دعوی کرنے والے ایک د ہشت گرد گروہ نے دھماکہ کرکے فوجیوں سمیت تریسٹھ افراد کو شہید کر دیا اور سینکڑوں زخمی ہو گئے اور اسی دوران ذاتی عناد اور دشمنی کو قرآن پاک کی بے حرمتی کا نام دے کر ایک شادی شدہ جوڑے کو زندہ ہی اینٹوں کے بھٹے میں بھون دیا گیا۔ اس لیے کہ وہ اقلیت سے تعلق رکھتے تھے لیکن کیا وہ پاکستانی شہری نہیں تھے، کیا ان کے پاس ’’نادرہ‘‘ کا شناختی کارڈ نہیں تھا۔ کراچی کے ساحل پر آج سے سینکڑوں سال پہلے ایک مسلمان عورت کی چیخیں اور فریاد سن کر اگر محمد بن قاسم سندھ پر حملہ کر سکتا ہے تو پھر ہمارے مذہبی جنونیوں کے ان لرزہ خیز واقعات پر عالمی برادری اگر پاکستان کی مذمت کرے تو کیا اس کی بھی اجازت نہیں۔ یاد رکھئے اس جھنڈے میں سفید رنگ یہ ظاہر کرتا ہے کہ اتنے حصے کے مالک ہماری اقلیت ہیں مگر اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والے اس مملکت عزیز میں جب مسلمان اکثریت کو ہی آزادی حاصل نہیں تو اقلیتوں کے حقوق ’’چہ معنی است‘‘ قارئین! جب تک ہماری قوم 1947ء والے جذبے کے ساتھ پھر سے بیدار نہیں ہو گی تب تک کوئی علامہ اقبالؒ ، کوئی محمد علی جناحؒ، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو، عمران خان اور طاہر القادری کوئی کچھ بھی نہیں کر سکتا۔ آج احتساب اور مجرموں کو سزا دینے کی بات ہوئی تو نہ صرف تمام چور آپس میں اکٹھے ہو گئے بلکہ ان کے سامراجی آبائواجداد امریکہ، برطانیہ، یورپ کی بھی جان پر بنی ہوئی ہے اور تو اور ہمارے برادر اسلامی ممالک، بھارت اور اسرائیل نے بھی ہماری انقلابی قیادت کے رستے میں کانٹے بچھانے شروع کر دیئے ہیں ۔مگر یاد رکھئے یہ کانٹے ہمیں خود صاف کرنے ہوں گے اور یہ کام گھروں میں ٹی وی چینلز لگا کر نہیں ہوں گے۔ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے کیا خوب کہا کہ معرکہ کربلا ابھی جاری ہے کچھ بھی تو نہیں بدلا! 8نومبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus