×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے!
Dated: 11-Nov-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جنگ ختم ہو چکی تھی سکندر فاتح قرار پایا اور مفتوح شہنشاہ پورس کو سکندر کے دربار میں قیدی بنا کر پیش کیا گیا۔ سکندر نے پورس سے پوچھا کہ اب تمہارے ساتھ کیا سلوک کیا جائے؟پورس نے برجستہ جواب دیا ’’جو ایک بادشاہ دوسرے بادشاہ سے سلوک روا رکھتا ہے‘‘ عظیم سکندر نے یہ سن کر پورس کو تحائف دے کر رہا کرنے کا حکم صادر کر دیا۔ قارئین! انسانی تاریخ میں ’’ظرف‘‘ کی اس سے بہتر مثال تلاش کرنا شاید ممکن نہ ہو۔1999ء میں مشرف نے جب اقتدار پر قبضہ کیا تو معزول وزیراعظم میاں نوازشریف کوقید کر لیا۔ عدالتوں نے عمر قید اور سزائے موت سنائی مگر سعودی عرب جیسے دوست ممالک سمیت متعدد مشترکہ دوستوں کے کہنے پر پرویز مشرف نے دس سالہ جلاوطنی کی شرط پر نوازشریف کی سزائیں مؤخر کرکے سعودیہ کے حوالے کر دیا۔ جہاں سے موصوف اور ان کے بھائی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے باری باری پاکستان آنے کی کوششوں میں لگے رہے اور پھر قسمت نے پلٹا کھایامشرف کی حکومت ختم ہوئی۔ مشرف کو سرکاری اعزاز کے ساتھ رخصت کیا گیا مگر جب مشرف واپس وطن آیاتو وزیراعظم نوازشریف اور ان کی کچن کابینہ کے چند وزراء مشرف پر غداری کا مقدمہ چلا کر سزائے موت دلوانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس احوال پر پرویز مشرف کا خوبصورت فقرہ قابل غور ہے کہ ’’یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔‘‘ قارئین!میرے سمیت 20کروڑ پاکستانی اس حقیقت سے آشنا ہیں کہ نوازشریف اور شہباز شریف کے علاوہ پرویز مشرف اور پرویز الٰہی کے دورِ حکومت میں کسی کو بھی سیاسی اسیر نہ بنایا گیا اور نہ ہی سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔ جبکہ پیپلزپارٹی کے گذشتہ دور حکومت میں اس میں کوئی شک نہیں کہ کرپشن آسمان کی بلندیوں کو چھو رہی تھی مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ پیپلزپارٹی نے جمہوریت کا بھرم رکھنے کے لیے اپنے ایک وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ کی قربانی دی ، ایک وفاقی وزیر حامد رضا گیلانی دو سال تک اپنی ہی حکومت میں پابند سلاسل رہا جب کہ پنجاب کے اس وقت کے گورنر سلمان تاثیر اور وفاقی وزیر شہباز بھٹی کو اسلام آباد کی سڑکوں پر دن دیہاڑے شہید کر دیا گیا جبکہ اس وقت امریکہ میں تعینات پاکستانی سفیر حسین حقانی سے جبراً استعفیٰ بھی لیا گیا۔ اس کے باوجود پیپلزپارٹی کے پانچ سالہ اقتدار میں نہ سیاسی انتقام لیا گیا اور کسی کو بھی سیاسی قیدی بنانے کی کوئی ایک مثال ڈھونڈنا مشکل ہے جبکہ موجودہ حکمرانوں کے صرف اٹھارہ ماہ میں پچاس سے زائد سیاسی کارکنوں کو ریاستی جبر اور تشدد سے لقمۂ اجل بنایا گیا۔ سینکڑوں سیاسی کارکنان شدید مضروب ہوئے۔ پی ٹی آئی اور عوامی تحریک کے چالیس ہزار سیاسی ورکر جیلوں کے مصائب بھگت کر آئے، سینکڑوں ابھی تک بھگت رہے ہیں۔ اس ساری صورت حال پر میں نے گذشتہ روز ڈاکٹر طاہر القادری صاحب سے پوچھا کہ یہ سب کیا ہے تو ڈاکٹر صاحب نے مجھے ایک واقعہ سنایا کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے نپولین بوناپارٹ جو کہ فرانس کا عظیم حکمران اور بہادر سپہ سالار تھا کو ایک جنگ میں شکست ہوئی بادشاہ نے اسے قید کرکے پیرس کے قریب ایک جزیرے میں مقید کر دیا۔ کچھ عرصہ بعد فرانس کے چند نامور صحافی حکومت سے اجازت لے کر نپولین بوناپارٹ سے ملاقات کے لیے جزیرے پر پہنچے۔ بارشوں کا موسم تھا نپولین کو جس کمرے میں رکھا گیا تھا، بارش سے اس کی چھت ٹپک رہی تھی او روہ جس چارپائی پر بیٹھا ہوا تھا وہ جگہ جگہ سے ٹوٹی ہوئی تھی اور دیواریں کائی سے بھری ہوئی تھیں۔ صحافیوں نے یہ ماحول دیکھ کر نپولین سے کہا کہ جناب آپ حکومت سے درخواست کیوں نہیں کرتے کہ وہ آپ کے طعام و قیام کو آرام دہ بنائے۔ عظیم نپولین نے اس موقع پر یہ خوبصورت الفاظ کہے کہ ’’بادشاہ صرف حکم کرتے ہیں رحم کی بھیک نہیں مانگتے‘‘ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب فرمانے لگے کہ میں راہ حق کے شہیدوں کا قصاص چھینوں گا میں دیت کی بھیک نہیں مانگوں گا۔ ڈاکٹر صاحب کے قریبی معتمدین بصیر، رازی، کامران اور رندھاوا نے مجھے بتایا کہ شہدائے انقلاب کے اس واقعہ سے پہلے شیخ الاسلام کی طبیعت بڑی پرمزاح اور چھوٹی موٹی بات پر بھی بڑی خوش رہنے کی تھی مگر کارکنان کی شہادتوں کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری صاحب کے چہرے پر کبھی رسماً بھی مسکراہٹ نہیں دیکھی تو میں نے کہا کہ رازی بھائی یہ اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔ قارئین! گذشتہ روز ملک کی تقریباً تمام سیاسی جماعتوں نے سابق چیف جسٹس رانا بھگوان داس کو چیف الیکشن کمشنر نامزد کرنے پر باہمی اتفاق کیا مگر رانا بھگوان داس نے یہ کہہ کر یہ آفر ٹھکرا دی کہ جب میں اپنے منصب سے انصاف نہیں کر پائوں گا تو مجھے یہ ذمہ داری بھی نہیں لینی چاہیے۔ رانا بھگوان داس کے بعد اس منصب کے لیے دوسرے مضبوط امیداوار سابق چیف جسٹس تصدق گیلانی نے اپنی لابنگ شروع کر دی ہے یہ وہی سابق چیف جسٹس ہیں جنہوں نے اپنے منصب اقتدار کے دوران حکمران طبقے کی خواہشات پر لبیک کہا اور اس کے صلے میں موجودہ حکومت نے ان کے سگے بھائی کو امریکہ میں پاکستان کا سفیر نامزد کیا اور موصوف اسی منصب پر براجمان ہیں، بات یہاں بھی ظرف کی ہے۔ یہاں میں چند چونکا دینے والی حقیقتیں ضابطہ تحریر میں لانا چاہوں گا۔-1 گذشتہ روز سابق امریکی سفیر اور خطے میں امریکہ کی خصوصی ایلچی مادام رابن رافیل کو امریکی حکومت نے پاکستان سے دوستی کی پاداش میں نہ صرف سبکدوش کیا بلکہ ان کے دفتر اور گھر کی تلاشی لے کر رسوا بھی کیا۔-2 ابھی کچھ دن پہلے امریکی محکمہ دفاع ’’پینٹاگون‘‘ نے افواج پاکستان اور حکومت پاکستان کے خلاف ایک رپورٹ جاری کی ہے جس سے پاکستان کے وقار کو دھچکا لگا ہے۔ -3شنید ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کے گذشتہ دورئہ اقوام متحدہ و امریکہ کے موقع پر وزیراعظم نوازشریف اور ان کے وزراء و رفقاء کو جہاز سے باہر نکلنے سے پہلے پولیوویکسین کے سرٹیفکیٹ دکھانے کو کہا گیا۔ معاملہ امریکی وزیر خارجہ جان کیری تک پہنچا تو انہوں نے جواب دیا کہ آپ کی ڈپلومیٹک حیثیت اپنی جگہ مگر ہم 32کروڑ امریکیوں کی زندگی دائو پر نہیں لگا سکتے اور لاچار وزیراعظم پاکستان اور ان کی ٹیم کو نیویارک ایئرپورٹ پر طیارے کے اندر پولیوویکسین کے قطرے پلائے گئے۔(یہ خبر ایک مؤقر امریکی اخبار کی ہے) سنا ہے کہ اگلے چند دنوں میں پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف پینٹاگون یاترا کے لیے امریکہ تشریف لے جا رہے ہیں۔ ہمارے چیف کو اس دورہ پر جانے سے پہلے یہ یاد رکھنا ہوگا کہ امریکہ اور مودی سرکار کے گٹھ جوڑ نے علاقے میں طاقت کے توازن کو جھنجھوڑ کر رکھ دیاہے ان حالات میں ہمیں اپنی انا اور ظرف دونوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ ایک ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے ملک میں آزاد میڈیا کااعلان کرکے پچاس (50)ٹی وی چینل کھولنے کی اجازت دی اور پھر انہی چینلوں کے ہاتھوں خوار بھی ہوا اور ایک ٹوتھرڈ اکثریت لینے والے وزیراعظم نے اظہار رائے پر قدغن لگایا۔ مبشر لقمان سمیت بہت سوں کی زبان بند کی گئی یہ بھی تو اپنے اپنے ظرف کی بات ہے۔ 11نومبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus