×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیمی مارشل لاء یا جمہوری مارشل لاء
Dated: 06-Jan-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جمہوریت کی اصطلاح کو اس قدر پچیدہ بنا دیا گیا ہے کہ اب ہر شخص نے اس کا ترجمہ اور مفہوم اپنی منشاء کے مطابق نکالنا شروع کر دیا ہے۔ دراصل جب قیادت نااہل ہو تو کنفیوڑ ہو جاتی ہے۔ ایک جمہوریت پر ہی کیا موقوف‘ ہم ابھی تک یہ طے نہیں کر سکے کہ شہید اور جہنمی میں کیا فرق ہے اور پچھلے تیرہ سال سے ستر ہزار سویلین‘ قریباً دس ہزار عسکری جوان و آفیسر شہید کروا کر اور اسی ارب ڈالر کا انفراسٹرکچر اور معاشی نقصان کرکے ہمیں پتہ نہیں چلا کہ یہ جو ہماری اموات ہوئی ہیں‘ یہ جائز تھیں یا ناجائز۔ ایک مخصوص مائند سیٹ یہ سمجھتا ہے کہ اس میں سارا نقصان امریکہ کا ہوا ہے۔ گزشتہ روز طالبان کی سابقہ مذاکراتی ٹیم کے ایک رکن پروفیسر جاوید ابراہیم نجی چینل پر اب بھی اس بات پر بضد تھے کہ بیت اللہ محسود چونکہ امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا‘ اس لئے وہ شہید تھا۔ میرا یہ سوال ہے کہ بیت اللہ محسود کے ہاتھوں ہزاروں پاکستانی مسلمان بچے‘ بوڑھے‘ جوان‘ عورتیں جو قتل ہوئے‘ ان کے قاتل کو آپ شہید پکاریں گے یا جہنمی۔ قارئین! تیرہ سال پہلے امریکہ میں نائن الیون کا سانحہ رونما ہوا تھا جسکے بعد امریکہ نے انسانی‘ اخلاقی‘ قانونی اور آئینی مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کر نہ صرف اپنے ملک میں ہوم لینڈ سکیورٹی کے نام سے ایک نیا ایکٹ نافذ کیا بلکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون میں تین ہزار جانوں کے ضیاع پر نہ صرف قاتلوں کا بیرون ممالک پیچھا کیا اور قصوروار مملکتوں کو پتھر کے دور میں واپس بھیج دیا۔ دراصل ہماری سابقہ اعلیٰ عدلیہ اور سابقہ اعلیٰ فوجی قیادت اور سابقہ سیاسی حکمران یا تو اس قدر ڈرے اور سہمے ہوئے تھے یا پھران میں اتنا دم ہی نہیں تھا کہ وہ اس بیماری کا ابتدائی دنوں میں ہی تدراک کرتے خاص طورپر ’’کیانی ٹائیلز فیم‘‘ سابق ملٹری سربراہ ’’اب کے مار سالے‘‘ کے مقولے پر عمل پیرا رہے جبکہ موجود حکومت بھی اپنی مسلکی وابستگیوں اور ڈنگ ٹپا? پالیسی کی وجہ سے گومگو کا شکار رہی۔ مجھے آج بھی یہ خیال آتے ہی گھبراہٹ ہوتی ہے کہ دنیا کی چھٹی بڑی عالمی طاقت قاتلوں کو سزا دینے کے بجائے انکے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے کو ترجیح دیتی ہے۔ 16 دسمبر کے بعد ملک کی سیاسی قیادت نے تین دفعہ بیٹھ کر کبھی ہاں کبھی ناں کی دوغلی حکمت عملی اختیار کی۔ یہ کیسی سیاسی قیادت ہے جو قاتلوں کو سزا دینے کے معاملے پر اکٹھی اور متفقہ سوچ نہیں رکھتی۔ قارئین! جنرل راحیل شریف نے جب عوامی غیض و غضب اور نبض کو محسوس کرکے خصوصی ٹرائل فوجی عدالتیں بنانے کی استدعا کی تو ہماری سیاسی قیادت ’’اگر مگر‘ لیکن‘‘ کے چکر میں پڑ گئی جس پر ایک اطلاع کے مطابق ملک کی عسکری قیادت شدید برہم ہوئی اور کہا کہ ہمارا کردارصرف خود جانیں قربان کرنا اور اپنے بچوں کو مروانا ہی رہ گیا ہے؟ اور سول سیاسی قیادت سے کہا گیا کہ وہ دو گھنٹوں کے اندر کوئی فیصلہ کر لیں تو اس اجلاس میں موجود مخصوص مائینڈ سیٹ رکھنے والوں کے بھی ماتھے تھنکے جبکہ کچھ نیم مذہبی‘ نیم سیاسی جماعتوں کی قیادت نے اسے صرف اپنے خلاف گھیرا تنگ ہونے سے تشبیہ دی‘ مگر ملٹری قیادت اور حکمران جماعت سمیت بیشتر سیاسی جماعتوں نے اس بات کا ادراک کر لیا ہے کہ قاتلوں کے گرد گھیرا اب تنگ کیا جانا وقت کی اہم ضرورت اور ملکی سلامتی کیلئے ناگزیر ہے افغان صدر اشرف غنی کی پاکستان آمد اور جنرل راحیل شریف کے دورہ¿ امریکہ اور طویل بھارتی جھنجھلاہٹ اور پاکستانی سرحدوں پر اشتعال انگیزی اور خصوصی فوجی عدالتوں کے قیام نے یہ چیز ثابت کر دی ہے کہ اس وقت وطن عزیز میں ’’سیمی مارشل لاء یا جمہوری مارشل لاء‘‘ عملاً نافذ ہے۔ جمہوریت کے ٹھیکیدار اور چیمپئن اس کو جو بھی اصطلاح دینا پسند کریں‘ یہ ان کی مرضی ہے مگر ہمیں ایسی جمہوریت نہیں چاہئے جس میں ہم اور ہمارے معصوم بچے بھی محفوظ نہیں۔ میری مرحومہ والدہ صاحبہ ایسے ہی مواقع پر کہتی تھیں ’’بھٹی میں پڑے وہ سونا جو کان توڑے‘‘ قارئین!´ گزشتہ روز کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں عید میلادالنبی کے حوالے سے ایک روح پرور تقریب کا انعقاد کیاگیا۔ ایک مقامی اور بڑی مسجد میں ہونیوالی اس تقریب میں خواتین و حضرات نے شرکت کی۔ کئی نامور نعت خوانوں نے نعت سنائی۔ اس تقریب میں عربی‘ مصری‘ سومالین کے شیواخ ِاسلام نے اسوہ حسنہ پر خطاب کیا جبکہ شیخ الاسلام علامہ طاہرالقادری کے صاحبزادے حسن محی الدین نے سیرت النبی اور میلادالنبی پر ایسی پْراثر اور آنکھیں نم کر دینے والی تقریر کی‘ میرے سامنے صاحبزادہ حسن محی الدین کی پہلی تقریر تھی اور میں یہ سوچنے پر مجبو ہو گیا کہ علم و فضل اور حسن خطابت میں باپ اور بیٹے میں کیا فرق ہے۔ میں انہی سوچوں میں گم تھا کہ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب کے پوتے حمادالمصطفی المدنی کے آگے مائیک رکھا گیا۔ اس نوجوان نے قرآن پاک کی دل موہ لینے والی قرا¿ت کی۔ میں نے قرآن پاک کی ایسی خوبصورت تلاوت اس سے پہلے نہیں سْنی تھی۔ ڈاکٹر طاہرالقادری صاحب نے اختتامیہ دعا کچھ ایسے فرط جذبات سے کروائی کہ وہاں موجود ہر آنکھ پْرنم ہو گئی خصوصاً پاکستان کی سالمیت کیلئے دعا کے وقت رقت آمیز مناظر دیکھنے کو ملے۔ 6،جنوری2015
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus