×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
مٹی دے پہلوان
Dated: 16-Jun-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ضربِ عضب بڑے غضب سے اندرونی دشمنان پر مسلط ہے۔ آئی ایس پی آر کے جنرل عاصم باجوہ کی اطلاع کے مطابق اب تک وزیرستان کے محاذ پر ستائیس سو تریسٹھ دہشت گردوں کو لقمۂ اجل بنایا گیا جبکہ ملک کے چاروں صوبوں اور دو انتظامی علاقہ جات میں دس ہزار سے زائد دہشت گردوں کو پچھلے کچھ عرصے میں جہنم واصل کیا گیا۔ دہشت گردوں کے آٹھ سو سینتیس ٹھکانے تباہ کیے گئے۔ سینکڑوں ٹن کے حساب سے بارودی مواد ضبط کرکے بیکار بنا دیا گیا۔ کہتے ہیں جو اسلحہ برآمد ہوا وہ بیس سال تک چھاپہ مار جنگ کے لیے کافی تھا۔ اس دوران نو ہزار سے زائد آپریشنز کیے گئے۔ قارئین! جبکہ اس دوران تین سو انسٹھ جوان اور آفیسرز جامِ شہادت نوش کر گئے اس طرح اس اعدادوشمار کا بغور جائزہ لیا جائے تو یہ دشمن کے خلاف لڑی جانے والی جنگوں کے اعدادوشمار سے کسی طریقے سے کم نہیں ،اوسطاًہر روز ایک جوان کی شہادت ہوئی جبکہ اس آپریشن ضربِ عضب کو سپورٹ کرتے ہوئے پورے ملک میں سینکڑوں رینجرز کے جوان اور سینکڑوں پولیس کے جوان بھی شہادت کے رتبے کو پہنچے۔ صرف کراچی اور کوئٹہ میں کل نقصان کا پچاس فیصد حصہ ہے۔ اور اس دوران مکار دشمن بھارت کی شاطرانہ سول و ملٹری جنگی چالیں اور دھمکیاں اپنے عروج پر رہیں۔ سرحدوں پر چھیڑخانی بھارت کا وطیرہ بن چکا ہے پچھلے کچھ دنوں سے نریندرمودی اور ان کی ناپاک کابینہ پاکستان کے خلاف دشنان طرازیوں میں مصروف ہے۔ بھارت نے 1997کے بعد پچھلے اٹھارہ سالوں میں جو ترقی اور کامیابی کی سڑھیاں طے کی ہیں اور آج اس کا فی کس آمدنی اور معیار زندگی اور جی ڈی ریٹ بلند ہوا ہے تو وہ اس لیے کہ اسے کشمیر، خالصتان اور ناگالینڈ جیسے اندرونی خلفشار اور ایشوز سے فراغت مل گئی تھی جس پر اس نے پاکستان کا مشکور ہونے کی بجائے اب پاک چائینہ رہداری معاہدے پر بوکھلاہٹ کا اندازہ اپنایا ہے۔ ابھی تو یہ عشروںپر محیط پلان کاغذوں پر نقشوں کی صورت ابھرا ہے اس کے ثمرات یقینا عشروں دور ہیں مگر بھارت کی طرف سے جنگی جنون کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنا اور پاکستان کی سرزمین کے اندر گھس کر دراندازی کرنے کی دھمکیاں دینا موجودہ بھارتی قیادت کو زیب نہیں دیتا ۔یوں تو نریندرمودی کی پوری بیک گرائونڈ ہی ہسٹری شیٹر ہے جس طرح پولیس اسٹیشنز میں بستہ ب کے بدمعاشوں ،جیب تراشوں کا کریمنل ریکارڈ ہوتا ہے۔ اسی طرح اقوام عالم کی سیاسی قیادت کے پاس اور ان کے ریکارڈ میں نریندرمودی کی ہسٹری شیٹ موجود ہے۔ پاکستان کی عسکری قیادت خصوصاً جنرل راحیل شریف نے بھارت کی حواس باختہ قیادت کو سخت منہ توڑ جواب دیا ہے۔ اس کے بعد بھارت جنونی قیادت کے دماغ اب تک ٹھکانے آ چکے ہوں گے۔ ایک گلہ مجھے اپنے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے ہے کہ ہم اس وقت جبکہ حالت جنگ میں ہیں تو پھر ہمارے ریڈیو، چینلز جنگی ترانے بجانے میں بخل سے کام کیوں لے رہے ہیں؟ پوری عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے پھر 65ء اور 71ء کی طرح ہمارے شاعر، ہمارے گلوکار، ہمارے موسیقار بیس کروڑ عوام کی آواز بننے کو ترجیح کیوں نہیں دے رہے؟ آپ کو یاد ہوگا بھارت کے ساتھ جنگوں میں ملکۂ ترنم نورجہاں کا یہ نغمہ ’’اے وطن کے سجیلے جوانو۔ میرے نغمے تمہارے لیے ہیں‘‘اور ’’نمازیاں اُتے کرم نبیؐ دا ۔ رب دے رنگ نیارے نیں ساڈھے صرف بتالیاں شیراں پنج سو چالیس مارے نیں ‘‘ اور جذبات کو گرمانے دینے والا ہے۔ ’’آلو، پاپڑ، چھولے کھا کے ہوئے نیں جوان ویکھو ۔ جی ویکھ مٹی دے پہلوان۔‘‘ قارئین! یقینا یہ انڈین مٹی کے پہلوان ہیں ہم سے عسکری، معاشی اور جغرافیائی طور پر آٹھ گنا بڑا دشمن ہمارے قریب آنے سے اس لیے گھبراتا ہے کہ ایک تو ہمارے جوان جب نعرئہ تکبیر لگا کر جب دشمن پر جھپٹتے ہیں تو وہ ویسے ہی میدانِ جنگ سے بھاگ جاتا ہے۔ دوسرا پاکستان ایک نیوکلیئر طاقت ہونے کے ساتھ میزائل ٹیکنالوجی میں بھی بھارت سے کوسوں میل آگے ہے اور پھر آلو پاپڑ چھولے کھا کر یہ بھارتی مٹی کے پہلوان ہمارے سجیلے جوانوں کامقابلہ کرنا تو دور کی بات ان کے ہم پلہ بھی نہیں۔ قارئین! گذشتہ روز ایک خبر آئی کہ ترکش خاتونِ اول جب پچھلی حکومت کے دور میں جب سیلاب آیا تھا تو انہوں نے سیلاب زدہ علاقے کا دورہ کیا اور ایک جگہ اجتماعی شادیوں کی ایک تقریب میں شرکت کی ا ور اپنا قیمتی ہار یہ کہہ کر تحفے میں دیا کہ اس کو بیچ کر ان غریب لڑکیوں کو جہیز دے دیا جائے۔ اس پر اس وقت کے چیئرمین نادرہ نے اسے سولہ لاکھ میں خرید کر اس قیمتی ہار کو وزیراعظم کے قومی تحائف میں شامل کرا دیا اور وہ سولہ لاکھ ان غریب بچوں کو جہیز میں دے دیا گیا اور جب سابقہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق خاتون اول فوزیہ گیلانی نے وزیراعظم ہائوس کو خیر باد کہا تو وہ دیگر ہزاروں قیمتی تحائف جو قومی خزانے کا حصہ ہیں کے ساتھ اس قیمتی ہار کو بھی اپنے ساتھ لے گئے اور یہ ہار اب فوزیہ گیلانی کے گلے میں دیکھا جاتا ہے۔ گذشتہ روز جب یہ خبر ترکی کے اخبارات میں چھپی اور ان کے ٹی وی چینل نے اس خبر کو بھرپور کوریج دی تو بیس کروڑ پاکستانیوں کی جو سبکی ہوئی اور ان کے سر جو شرم سے جھک گئے اس کا مداوا ناممکن ہے۔ قارئین! گذشتہ روز کینیڈا کے شہر مسی ساگا میں مقامی مسجد او رکمیونٹی سنٹر جامعتہ المصطفیٰ میں سانحہ ماڈل ٹائون کے ایک سال مکمل ہونے پر ایک تعزیتی اور احتجاجی سیمینار منعقد ہوا ۔ زاہد سراج کے زیر انتظام ہونے والے اس تعزیتی ریفرنس میں تحریک انصاف، ایم کیو ایم، مسلم لیگ ق اور آل پاکستان مسلم لیگ کے مندوبین نے خصوصی طور پر شرکت کی۔ علامہ صادق قریشی کی تقریر اور سانحہ ماڈل ٹائون پر ایک خصوصی فیچر ویڈیو دکھائی گئی۔ ہم بھی وہاں موجود تھے ہم سے بھی یہ پوچھا کیے۔ ہم چپ رہے کچھ نہ کہا منظور تھا پردہ تیرا۔ وہاں ایک سوال پر میں نے حاضرین کو بتایا جس طرح نکاح پر نکاح جائز نہیں اس طرح ایک جے آئی ٹی پر دوسری جے آئی ٹی بھی قانوناً اور شرعاً ناجائز ہے اور جس طرح مٹی دے پہلوان بارڈر کے پار ہیں، اس طرح وطن عزیز کو کچھ مٹی کے پہلوان تباہ کرنے کے لیے بارڈر کے اس طرف بھی موجود ہیں وگرنہ سقوطِ ڈھاکہ اور سانحہ ماڈل ٹائون جیسے واقعات پیش آتے رہیں گے۔اور آج ایک غیر ملکی این جی اوزجس کے پیچھے ایک سپرپاور کا ہاتھ ہے اور ان کی طرف سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہونے پرپاکستان کی پوری حکومت ایسے بیٹھ گئی جیسے لسّی کی جھاگ۔اور جب تک یہ مٹی کے پہلوان موجود رہیں گے یہ غیرملکی این جی اوز ہمارے قانون، ہمارے آئین اور ہماری سالمیت کا یوں ہی مذاق اڑاتے رہیں گے۔ 16جون2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus