×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بے نظیر بھٹو جنم دن۔ قتل سازش بے نقاب
Dated: 21-Jun-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com محترمہ بے نظیر بھٹو شہید جب حیات تھیں اور ان کی شہادت کے بعد بھی باقاعدگی سے ان کے جنم دن کو میں مناتا رہا ہوں۔ شہید بی بی کے ساتھ آٹھ سال جو مجھے اکٹھے کام کرنے کا خوشگوار تجربہ ہوا، ان سے متعلق ہزاروں ایسی باتیں اور یادیں میرے ساتھ وابستہ ہیں جن کو میں روزانہ کی بنیاد پر یاد کرکے انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہوں اور یہ یادیں میرا سرمایہ حیات ہیں۔ گذشتہ سال شاید انہی دنوں میں نے قارئین اورجیالوں کو یہ خبر دی تھی کہ امثال 27دسمبر کو میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش بے نقاب کروں گا ۔پھر ملکی سلامتی اور زمینی حالات کچھ ا س طرح سے بدلے کے سانحۂ ماڈل ٹائون اور سانحۂ پشاور رونما ہو گئے، جس کی وجہ سے پوری پاکستانی قوم حالتِ غم میں تھی۔ پھر اس کے ساتھ ہی آپریشن ضربِ عضب شروع ہو گیا۔ پوری قوم یک جان اور متحد ہو کر پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی۔ دھرنے ختم کر دیئے گئے، ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے بھی مشن ضربِ عضب کو سپورٹ کرتے ہوئے اور خرابی صحت کی بنا پر ایک عارضی بریک لینا مناسب سمجھا۔ پاکستان کی چاروں صوبائی اسمبلیاں، قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ضربِ عضب کو کامیاب بنانے کے لیے پوری قوم کی آواز پر لبیک کہا اور ظالموں کا گھیرا تنگ کرنے کے لیے نئے مروجہ قوانین منظور کیے۔ ان سب حالات میں 27دسمبر کا دن آیا اور خاموشی سے گزر گیا۔ میرے نوائے وقت کے لاکھوں قارئین مجھے میرا وعدہ یاد دلاتے رہے۔ ہزاروں ای میلز، ٹویٹر اور فیس بک میسجز اور ٹیلی فون کالز پر طنز کے نشتر برساتے رہے۔ میں کارکنان پاکستان پیپلزپارٹی اور پاکستان کے عوام کی شہید محترمہ کے ساتھ دلی عقیدت کو سمجھ سکتا ہوں مگر اپنے ساتھیوں اور وکلاء سے مشورہ کے بعد میں نے سازش بے نقاب کرنے کا اعلان عارضی طور پر اس لیے موخر کر دیا کہ میرے نزدیک ملکی سلامتی اور بقائے پاکستان پہلی ترجیح ہیں۔ اس سارے عرصہ کے دوران بے شمار واقعات رونما ہوئے، بہت سا پانی پُلوں کے نیچے سے بہہ گیا۔ پاک فوج نے دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی، ہزاروں مار دیئے گئے، بے شمار گرفتار کر لئے گئے۔ منوں اور ٹنوں کے حساب سے اسلحہ اور بارود برآمد کیا گیا۔ یقینا ہمارے سینکڑوں شیردل افسر اور جوان بھی جامِ شہادت نوش کر گئے۔ میرا یہ ایمان ہے کہ قانون رب العزت سے بہتر کوئی قانون زمین اور آسمانوں پر نہیں ہے اور خدا کی گرفت سے کوئی فرعون بھی آج تک نہیں بچ سکا۔ اسی لیے خدا نے جس طرح فرعون کے گھر موسیٰ کو پروان چڑھایا تھا اسی طرح زرداری کی گود میں پروان چڑھنے والے ذوالفقار مرزا نے آصف علی زرداری کی وہ سیاسی، سماجی درگت بنا دی کہ آج تمام گنہگار منہ چھپاتے ہوئے بھاگ رہے ہیں مگر شرمندگی اور احساسِ جرم کی وجہ سے ان پر یہ زمین تنگ پڑ رہی ہے۔ ذوالفقار مرزا کے علاوہ نبیل گبول اور فیصل رضا عابدی کے انکشافات نے بھی گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے مصداق کام کیا ہے۔ انسان کئی دوسرے انسانوں کو دھوکا دے سکتا ہے مگر قانونِ فطرت سے بچ کر بھاگ نکلنا اس کے بس کی بات نہیں۔ ذوالفقار مرزا جو باتیں آج کہہ رہے ہیں اس جیسی ملتی جلتی بات میں نے 20فروری2008ء کے دن زرداری ہائوس اسلام آباد میں ہونے والے نومنتخب اراکین قومی اسمبلی، اراکین فیڈرل کونسل و سینٹر ایگزیکٹو کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے اپنی افتتاحی تقریر میں کہی کہ ہمیں اقتدار کے پیچھے بھاگنے کی بجائے شہید محترمہ کے قتل کی سازش کو بے نقاب کرنا ہوگا او رمیں نے وہاں دیوانگی کی حد تک جاتے ہوئے یہ بھی کہہ دیا کہ شہید محترمہ کے قتل کے خون کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر بخوبی دیکھے جا سکتے ہیںجس پر پیپلزپارٹی کی انتہائی اعلیٰ قیادت نے یہ فیصلہ کر لیا کہ مطلوب وڑائچ کو پارٹی سے نکالا تو نہ جائے مگر مجھے سیاسی شودر اور اچھوت بنا کر سیاست سے آئوٹ کر دیا جائے اور بعد میں پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے کئی ظاہری اور خفیہ ایسے اقدامات کیے گئے کہ جن کے اثرات سے مجھے اپنی فیملی اور بچے بیرونِ ملک منتقل کرنا پڑے اور اس دوران مجھ پر متعدد قاتلانہ حملے کیے گئے۔ میرا منہ بند رکھنے کے لیے مجھے مجبور کیا گیا اور معاشی طور پر مجھے کمزور کرنے کے لیے جوہر ٹائون لاہور میں میرے گھر پر جبراً قبضہ کروا دیا گیا۔ مجھ پر حملوں اور دیگر واقعات کی ایف آئی آرز لاہور کے کم از کم چار مختلف پولیس تھانوں میں درج ہیں اور اسی دوران برین سٹروک کی وجہ سے بغرضِ علاج ملک چھوڑنا پڑا، جس سے زرداری اینڈ ٹولہ کو وقتی طور پر کچھ افاقہ ہوا۔ مگر آج میں پاکستان کے سب سے مؤقر روزنامہ نوائے وقت کے توسط سے قارئین نوائے وقت، پاکستان کی عوام اور جیالوں کو یہ خوشخبری دے رہا ہوں کہ میں اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ سے درخواست کرتا ہوں کہ سوموٹو ایکشن لیتے ہوئے اس قتل کیس میں مرکزی گواہ کی حیثیت سے مجھے بلوائیں۔ اگر مجھے پاکستان میں تحفظ کی ضمانت دی جائے تو محترمہ بے نظیر بھٹو کے قتل کی سازش کا میں عینی شاہد ہونے کے ناطے اس سازش کو پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کے سامنے بے نقاب کروں گا اور اس سلسلے میں کچھ انتہائی اہم راز جو پاکستانی قوم کی ملکیت ہیں، انہیں افشا کرکے قاتلوں کو انجام تک پہنچانے میں اپنا کردار ادا کروں گا۔ میں آج یہ قوم کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ اگر اس دوران میری حادثانی یا طبعی موت واقع ہو جائے تو یورپ اور کینیڈا میں میرے وکلاء کو مکمل اجازت ہے کہ وہ اس کو پاکستانی عوام کے سامنے پیش کر دیں۔ قارئین شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے خاندان نے اپنی جانوں کے نذرانے دے کر پاکستان کی ڈوبتی نائو کو بچایا۔ جب شہید ذوالفقار علی بھٹو کو ہنری کسنجر نے دھمکی آمیز خط لکھا اور انہیں فون کرکے نیوکلیئر پاکستان بنانے سے منع کیا توشہید قائد عوام وزیراعظم ہائوس سے ایک عام گاڑی پر سوار ہو کر راجہ بازار راولپنڈی جا پہنچے اور اپنے عوام کو اعتماد میں لیا۔ اسی طرح شہید رانی کو بھی 18اکتوبر2007ء کو اڑھائی سو لاشوں کا تحفہ بھیج کر پیغام دیا گیا مگر وہ پھر بھی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے مقتل گاہ پہنچ گئیں ۔اور آج ان کے جنم دن کے موقع پر میں بھی یہ عہد کرتا ہوں کہ پاکستان کی بقاء، سالمیت اور تحفظ کے لیے اپنی جان بھی دینی پڑی تو یہ سودا میرے لیے کچھ مہنگا نہیں۔ اس کالم کے ذریعے اعلیٰ عدالت کو میں نے جو پیغام بھجوایا ہے اگر اس پر مستقبل قریب میں ایکشن نہ ہوا تو میں واقعات و اسباب پر مشتمل بہت جلد ایک کتاب شائع کروں گا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کا ہم پر قرض ہے کہ ہم ان کے قاتلوں کا پیچھا کرتے ہوئے ان کو انجام تک پہنچائیں۔ یہی محترمہ سے محبت ہے اور یہی ان کی وراثت ہے کہ ان کے قاتلوں کو تختہ ٔ دار تک پہنچایا جائے۔ آصف علی زرداری نے سی ای سی کے ایک اجلاس میں اراکین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ کسی اور کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں میں اور بلاول محترمہ بی بی کے وارث ہیں مگر میں اس بات کو تسلیم اس لیے نہیں کرتا کیونکہ انہی لوگوں نے محترمہ کے خون کے سودے کیے اور اس خون سے مفادات حاصل کیے۔ ہیپی برتھ ڈے تو یو مائی ڈیئر لیڈر 21،جون2015
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus