×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میمو کا ماموں
Dated: 21-Mar-2017
رِمی بُٹس سوئٹزرلینڈ کے ایک ماہر قانون دان ہیں یہی وجہ تھی کہ بے نظیر بھٹو شہید اور سابق صدر آصف علی زرداری نے اپنے سوئس کیسز پر ماہرانہ رائے مسٹر رِمی بُٹس سے حاصل کی تھی چونکہ اُن سارے کیسزکا مختارِ عام راقم کو نامزد کیا گیا تھا۔ اس لیے مسٹر بُٹس سے میری تب کی جان پہچان اور ایک تعلق سا بن گیا ہے۔ قارئین! گذشتہ روز میرا ماتھا اس وقت ٹھنکا جب پاکستان کے وزیرخزانہ جناب اسحاق ڈار صاحب نے بیان دیا کہ حکومت پاکستان کا سوئٹزرلینڈ کی حکومت کے ساتھ ایک معاہدہ طے پا یا ہے جس کی رُو سے سوئس حکومت پاکستان کو خفیہ بینک اکائونٹس کے متعلق معلومات دینے کی پابند ہو گی وہ بھی پاکستان کی شرائط پر۔۔۔ چونکہ میں تیس سال سے زائد عرصہ سوئٹزرلینڈ میں گزار چکا ہوں اور وہاں کے قوانین میرے لیے کچھ اجنبی نہیں۔ میں نے اسی وقت مسٹر رِمی بُٹس کو کال ملائی اور ان سے پاکستانی وزیر خزانہ کے دیئے ہوئے بیان کی تصدیق اور وضاحت چاہی جس پر مسٹر بُٹس نے مجھے اختصار سے بتایا کہ سوئٹزرلینڈ کی حکومت کا یورپین ممالک سے ایسا ایک معاہدہ موجود ہے جبکہ پاکستان سمیت دیگر ایک سو آٹھ ممالک کے ساتھ معاہدے کیے جا رہے ہیں جن پر عمل درآمد مارچ 2018ء میں شروع ہو گا۔ پاکستان کے ساتھ ایسا ایک معاہدہ 14ستمبر2016ء کو طے پایا ہے جس کی رُو سے پاکستان کے ٹیکس ڈیپارٹمنٹ اور وزارتِ خزانہ کو صرف ان اکائونٹس تک رسائی دی جائے گی جو کوئی فنانشل کرائم کے زمرے میں آتا ہو اور اسے پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ مجرم ٹھہرا چکی ہو یا یہ کہ عدالت ثابت کر چکی ہو کہ مطلوبہ اکائونٹ ہولڈر نے یہ رقم منشیات کے کاروبار سے حاصل کی ہے۔ قارئین! مسٹر رِمی بُٹس نے میرے کُریدنے پر مزید وضاحت کی کہ سوئٹزرلینڈ میں یہ عمومی تاثر پایا جا رہا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حکمران اس معاہدے سے پاکستان میں بیوروکریٹس، اسٹیبلشمنٹ، سیاستدانوں اور عدلیہ کے ججز کو بلیک میل کرنا چاہتی ہے کہ وہ کسی بھی شخص کا خفیہ اکائونٹ کھلوا سکتے ہیں اور اس طرح وہ پانامہ کیس ،ڈان لیکس اور دوسرے کیسز پر اثرانداز ہو سکتے ہیں اور خاص طور پر گذشتہ ستمبر کا معاہدہ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے سے ذرا پہلے تشہیر کرنا اور کیا معنی رکھتا ہے؟ قارئین! دوسری طرف پنجاب کے سابق نگران وزیراعلیٰ جو ان دنوں پی ایس ایل کے چیئرمین بھی ہیں کو یہ ٹاسک دیا گیاتھا کہ وہ اپنے جگری دوست پیپلزپارٹی کے رہنما اور گذشتہ دور میں واشنگٹن میں پاکستان کے سابق سفیر حسین حقانی کو کسی طرح دام میں لے آئیں تاکہ ن لیگ کی حکومت پیپلزپارٹی کی قیادت کی طرف سے سیاسی چھیڑ خانیوں سے محفوظ رہ سکے جس پر نجم سیٹھی صاحب کا بڑا بیٹا جو حسین حقانی کے ساتھ امریکن تھنک ٹینک کا رکن ہے ، نے حسین حقانی اور نوازشریف کی خفیہ صلح کروانے میں کردار ادا کیا۔ یا د رہے کہ حسین حقانی نوازشریف کی پہلی گورنمنٹ میں سری لنکا میں پاکستان کے سفیر رہ چکے ہیں یہ وہی حسین حقانی ہیں جو 90ء کے الیکشن میں نوازشریف کی ٹیم کے میڈیا انچارج تھے اور انہوں نے بڑی جانفشانی سے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور بیگم نصرت بھٹو (مرحومہ) کی کمپیوٹر میڈ نیم عریاں تصاویر تیار کروا کر ہیلی کاپٹر کے ذریعے جلسوں میں گرانے کا اہتمام کیا تھا اور شومئی قسمت پیپلز پارٹی کو 2008ء کے الیکشن میں اسی حسین حقانی کی بیگم فرح ناز اصفہانی کو خواتین کے لیے مختص خصوصی سیٹ دینی پڑ گئی جس سے نہ صرف ان کی پولیٹیکل سیکرٹری ناہید خاں نے ناراض ہو کر اپنی سیٹ چھوڑ دی بلکہ پارٹی میں ایک بڑا بحران دیکھنے کو ملا۔ قارئین! آپ کو یاد ہوگا کہ یہی حسین حقانی فرح ناز اصفہانی سے شادی سے پہلے ناہید خان کی چھوٹی بہن سے شادی رچا چکا تھا جس سے بچے بھی ہیں اور بعدازاں اس نے اسے طلاق دے دی تھی۔ محترمہ شہید کی شہادت کے بعد پاکستان کے سیاسی افق پر تعلق داریوں اور کرپشن مافیا کے بادل چھا گئے اور اسی رو میں سیاسی میدان کے سزایافتہ اور مستند کھلاڑی سابق صدر آصف علی زرداری نے امریکی حکومت سے تعلقات پروان چڑھانے کے لیے امریکی تھینک ٹینک کے پے رول پر موجود جناب حسین حقانی کو واشنگٹن میں پاکستان کا سفیر نامزد کر دیا اور فرح ناز اصفہانی کو ایم این اے منتخب کروا کر لاتعداد مراعات اور فنڈز دیئے گئے۔ قارئین! اسی دوران سابق صدر امریکہ اوبامہ کو دوسرا پیریڈ صدارت جیتنا تھا اور اس کے لیے اسامہ بن لادن کا پکڑا جانا بہت ضروری تھا، پھر سی آئی اے اور بلیک واٹر تنظیم نے ایک سازش تیار کی جس کے ذریعے سینکڑوں کی تعداد میں امریکن سپیشل ایجنٹس کو پاکستان میں داخل کرنا مقصود تھا اور اس مقصد کے لیے واشنگٹن اور دوبئی کے پاکستانی سفارت خانوں کا انتخاب کیا گیا۔ مسٹر حسین حقانی نے سابق صدر زرداری کی خواہش اور حکم پر واشنگٹن ایمبیسی سے سینکڑوں ویزے جاری کیے جبکہ دوبئی میں تعینات پاکستانی قونصل جنرل مسٹر امجد علی شیرمہمند جوآجکل کمبوڈیا میں پاکستان کے سفیر تعینات ہیں، نے ویزے جاری کرنے سے انکار کیا تو زرداری کے منہ بولے بھائی مظفر ٹپی نے دبائو ڈال کر لاتعداد ویزوں کا اجراء کرایا،امجد علی نے اس کا بعدازاں ایک انکوائری میں اعتراف بھی کیا۔ یہ وہی حسین حقانی ہیں جن کو پاکستان کے اداروں اور اعلیٰ عدلیہ نے دورانِ ملازمت اسلام آباد طلب کیا اور ان کے خلاف میمو اسکینڈل کیس کے نام سے سپریم کورٹ میں سماعت ہوئی۔ میمو سکینڈل میں مسٹر منصور اعجاز نے پاکستانی اداروں کی مدد کی تھی۔ بعدازاں آئی ایس آئی کے اس وقت کے چیف جنرل شجاع پاشا نے حسین حقانی سے استعفیٰ لکھوا لیا تھا۔ یاد رہے کہ اس میمو گیٹ سکینڈل میں جناب نوازشریف کا لاکوٹ پہن کر زرداری حکومت کے خلاف کورٹ میں پیش ہو گئے تھے اور آج اسی حسین حقانی کے ہاتھوں پیپلزپارٹی کی رہی سہی عزت خاک میں مل گئی ہے کہ جب انہوں نے دبنگ اعلان کر دیا کہ بطورِ سفیر تعیناتی کے دوران انہوں نے صدر مملکت آصف علی زرداری او روزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی کے شدید دبائو پر امریکیوں کو غیر قانونی ویزے جاری کیے تھے۔ جس کے نتیجے میں اسامہ بن لادن کا قصہ تمام ہوا اور اس کو ایشو بنا کر صدر اوبامہ دوسری ٹرم کے لیے بھی منتخب ہو گئے۔اس سب معاملے کی فوج کو بھنک بھی نہیں پڑنے دی گئی۔ قارئین اسحاق ڈار اور حسین حقانی پہلے بھی کئی دفعہ قوم کو ماموں بنا چکے ہیں۔ اس لیے میں انہیں میموکا ماموں کہا سکتا ہے۔ 21مارچ2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus