×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بارہواں کھلاڑی
Dated: 28-Mar-2017
سابق صدر آصف علی زرداری ان دنوں للکار اور پھنکار رہے ہیںاور مقصد ان کا صاف ظاہر ہے آئندہ الیکشن کے لیے جیالوں کو گرمانا اور ’’موٹیویٹ‘‘ کرنا ہے۔ میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کے خلاف بنائے گئے مقدمات کی پیروی کی پاداش میں زرداری صاحب کے ساتھ اڈیالہ جیل بھی بھگت چکا ہوں، اس لیے میں ان کے مزاج کو دوسروں سے کہیں بہتر سمجھتا ہوں۔دراصل محترمہ کی شہادت کے بعد ملنے والا اقتدار اور اس درمیان ہونے والے واقعات کئی اور داستانیں رقم کرنے کے قابل ہیں۔ سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور سابق وزیر خارجہ حنا ربانی کھر بھی سابق صدر کے ساتھ تال سے تال ملا کر سیاسی سُرسنگیت پیش کرنے کی کاوش کر رہے ہیں لیکن جو راگ حسین حقانی کسی نادیدہ موسیقار کے کہنے پر الاپ چکے ہیں، اس نے پاکستان کے سیاسی ماحول میں حرارت پیدا کر دی ہے۔ قارئین! پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں بڑی سیاسی جماعتوں میں طے تو یہ پایا تھا کہ اقتدار کی باری لیتے ہوئے دونوں پارٹیاں ایک دوسرے کو تنگ نہیں کریں گی۔ یہی وجہ تھی کہ پیپلزپارٹی کے گذشتہ دورِ اقتدار میں ن لیگ وفاق میں کچھ عرصہ وزارتوں سے انجوائے کرتی رہی جبکہ پیپلزپارٹی اس دوران پنجاب کی صوبائی کابینہ میں کئی سال اپنا جزیہ وصول کرتی رہی اور ان کے درمیان ہونے والی سیاسی علیحدگی میں کچھ اس طرح سے بخیریت انجام پائی اور ’’ٹٹ گئی تڑک کرکے‘‘ اور کسی کو خبر نہ ہوئی۔پھر 2013ء کے الیکشن آئے وہ آراوز کی زیرِ نگرانی ہوئے یا سیاسی فرشتوں کے یہ اب کوئی ڈھکی چھپی بات رہ نہیں گئی لیکن قارئین! کیا جس وقت 2013ء کے الیکشن ہونے جا رہے تھے تو کیا پیپلزپارٹی وفاق کے علاوہ سندھ، بلوچستان، کشمیر گلگت بلتستان اور خیبرپختونخواہ کے مسندِ اقتدار میں شریک نہیں تھی؟ جبکہ پنجاب میں بھی سیاسی علیحدگی کے باوجود وزیراعلیٰ پنجاب وفاق کے ساتھ کچھ لو اور کچھ دو کے فارمولے پر عمل پیرا تھے اور جب الیکشن کا وقت قریب آیا تو ملک کے چاروں صوبوں میں عبوری وزیراعلیٰ پیپلزپارٹی اور ن لیگ کی باہمی مشاورت سے نامزد کیے گئے حتیٰ کہ چیف الیکشن کمشنر بھی دونوں کی مرضی سے نامزد ہوا تو پھر یہ زرداری صاحب کا اب یہ ایشو اچھالنا اور ہنگامہ کھڑا کرنا کیا معنی رکھتا ہے کہ ہمارے تو گذشتہ الیکشن میں ہاتھ بندھے ہوئے تھے جبکہ اس سارے عمل کے دوران زرداری صاحب بطورِ صدرِ مملکت مسند افروز تھے اور اب جب کہ گذشتہ الیکشن میں پی پی پی کو پنجاب کی ایک سو اڑتالیس قومی اسمبلی کی نشستوں میں سے صرف دو اور وہ بھی رحیم یار خاں سے سابق گورنر احمد محمود کے بیٹوں والی سیٹیں تھیں جبکہ سندھ کے علاوہ باقی تینوں صوبوں کشمیر اور گلگت بلتستان سے پی پی پی کو ایک بھی سیٹ نہ ملی ۔پھر اب وہ کونسی جادو کی چھڑی زرداری صاحب کے ہاتھ آ گئی ہے جس کے بَل بوتے پر وہ پنجاب فتح کرنے کی بڑھکیں لگا رہے ہیں؟ قارئین! اگر گذشتہ بلدیاتی انتخابات کے نتائج کو ہی مدِنظر رکھا جائے تو لاہور کی ساڑھے چارسو یونین کونسلز میں سے شہید بابر بٹ لکھو ڈیر والے کے بھائی نے ایک سیٹ جیتی اس سے پیپلزپارٹی کی سیاسی مقبولیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ دراصل پاک فوج، اسٹیبلشمنٹ کے خلاف کوئی نشہ آور دوا لے کر جب یہ بڑھک لگائی گئی کہ ہم اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور یہ کہ تم توتین سال رہو گے اور ہم ہمیشہ کے لیے ہیں اور پھر انہی گلے ہوئے الفاظ کی پاداش میں موصوف سابق صدر کو نہ صرف عجلت میں ملک سے بھاگنا پڑا بلکہ شرجیل میمن اور دوسرے بے شمار لوگ راتوں رات فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے مگر جب حادثانی طور پر میاں نوازشریف اور ان کا خاندان پانامہ کیس میں پھنسے اور ان کو یہ توقع نہیں تھی کہ ایک سال بعد وہ نہ صرف انصاف کے کٹہرے میں کھڑے ہوں گے بلکہ باعزت جان بخشی کے طریقے بھی ڈھونڈ رہے ہوں گے اور انہیں ملک سے بھاگے ہوئے آصف علی زرداری کی ایک دم یاد ستانے لگی۔قارئین! ایان علی کا ڈالر سمگلنگ اور کسٹم انسپکٹر کے قتل سے بچ کر بھاگ نکلنا اور پانچ ارب کرپشن میں فرار ہونے والے شرجیل میمن کا راتوں رات وطن واپس پہنچنا اور پھر اسی دن سابق وفاقی وزیرمذہبی امور حامد رضا کاظمی کا جیل سے رہا ہونا کسی سیاسی ڈیل اور این آر او کا نتیجہ نہیں ہے؟ دراصل پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن درپیش خطرات سے گھبرا کر آپس میں مصالحت کر چکے ہیں جبکہ گذشتہ دوسالوں کے دوران پیپلزپارٹی ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت کبھی بلاول بھٹو زرداری کو فرنٹ لائن پر سپہ سالار کے طور پر کھلاتی ہے اور کبھی یکدم اسے گم گشتہ سٹوری بنا دیا جاتا ہے اور جب آصف علی زرداری نے یہ محسوس کیا کہ ان کا سپہ سالار اور سینٹر فارورڈ بلاول بھٹو زرداری اس کو دیئے گئے میچ میں ان کی مرضی کے مطابق پرفارم نہیں کر سکا تو اسے ’’بارہواں کھلاڑی‘‘ بنا کر گرائونڈ کے باہر ریزرو بینچوں پر بٹھانے کا فیصلہ کر لیا گیا اور اس بارہویں کھلاڑی کو ایک ایسی پیپلزپارٹی کا چیئرمین بنا دیا گیا جو عملاً پاکستان میں کہیں اپنا وجود ہی نہیں رکھتی۔ مجھے ایک سیاسی دوست کہہ رہے تھے کہ بلاول کو ’’کھانگڑ بھینس‘‘ دے دی گئی ہے جبکہ خود زرداری صاحب ’’لویری بھینس‘‘ پر سوار ہو چکے ہیں۔ قارئین! مجھے اپنے ان دوستوں، ساتھیوں، جیالے ،جیالیوں کی حالت زار پر ترس آتا ہے جو آج بھی یہ آس اور امید لگائے بیٹھے ہیں کہ بلاول بھٹو کو بارہویں نمبر سے اٹھا کر سینٹر فارورڈ کھلایا جائے گا چونکہ اگلا الیکشن ن لیگ پانامہ لیکس اور ڈان لیکس جبکہ پیپلزپارٹی بے شمار کرپشن سکینڈل اور حقانی لیکس کے دبائو کے زیرِ اثر لڑیں گی۔ جس کا فائدہ یقیناکوئی تیسری قوت اٹھائے گی۔یہ تیسری قوت سامنے نظر آرہی ہے اور کوئی غیر مرئی بھی ہوسکتی ہے۔اب ن لیگ اور پیپلز پارٹی کو اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ خطرہ نہیں ہے اپنی دانست میں مسلم لیگ ن نے اسٹیبلشمنٹ کے دانت نکال دیئے ہیں۔ اب ان ’’باری‘‘ پارٹیوں کودراصل عدلیہ سے خوف محسوس ہوتا ہے جس نے چند دن میں پانامہ پر فیصلہ دینا ہے۔ 28مارچ2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus