×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بنتِ حوا، عوامی شعور اور عالمی منظرنامہ
Dated: 06-Jun-2017
چند برس قبل میں نے نوائے وقت کے صفحات پر اپنے ایک کالم میں برطانیہ سے آئے ہوئے ایک وفد کے ساتھ ہونے والے مکالمے کا ذکر کیا کہ کس طرح انہوں نے صبح ناشتے میں آملیٹ یا انڈے سے بنی ہوئی کسی بھی ڈش کو کھانے سے انکار کر دیا جب اُن سے اس بارے میں استفسار کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ گذشتہ دنوں سے برطانیہ میں انڈوں کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگی ہیں جس پر پوری برطانوی قوم نے انڈے کھانے کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ہم چونکہ اس وقت پاکستان میں ہیں پھر بھی ایک قوم ہوتے ہوئے ہم اپنا یہ عہد نبھائیں گے۔ کچھ دن بعد میرِ صحافت مجید نظامی مرحوم صاحب سے ملاقات تھی تو جس میں انہوں نے کہا کہ وڑائچ صاحب آپ نے قوم کو اچھا پیغام دیا ہے کسی نہ کسی دن آپ اس کے ثمرات ضرور دیکھیں گے۔ آج میرے اتالیق نظامی صاحب زندہ ہوتے تو میں انہیں کتنے فخر سے جا کر بتاتا کہ وہ پودا جو ہم نے لگایا تھا اب پھل دینے لگا ہے۔لیکن جہاں پھل فروش ریڑھی اورچھابڑی والے کی روزی پرلات مارنے سے زیادہ توجہ مڈل مین مافیا کیخلاف آہنی ہاتھ استعمال کرنے کی ہے۔اس معاملے میں غریب پھل فروش بھی یقینا صارفین کے ساتھ کھڑے ہونگے۔ قارئین! کراچی اور ملک کے دیگر حصوں میں جمعہ، ہفتہ اور اتوار پھل کھانے کا بائیکاٹ کیا گیا۔ دراصل یہ پھلوں کی قیمتوں میں ہوشربااضافے کا ردعمل تھا اگر قوم کو آنے والا یہ شعور برقرار رہا تو وہ دن دور نہیں کہ جب ناجائز منافع خور اور ذخیرہ اندوز اپنی سمتیں تبدیل کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ قارئین!سعودی عرب کے ایک شہزادے پرنس ماجد بن عبداللہ بن عبدالعزیز آلِ سعود جن کی کہ عمر صرف انتیس سال ہے نے گذشتہ روز مصر کے ایک تفریحی مقام شرم الشیخ کے ایک جوأ خانے گرینڈ کسینو میں 1350ملین سعودی ریال یعنی تین سو انسٹھ ملین ڈالر جو کہ پاکستان روپوں میں اڑتیس ارب چون کروڑ کی خطیر رقم جوئے میں صرف کچھ گھنٹوں کے دوران ہار دی جبکہ مزید جوأ کھیلنے کے لیے اس نے جوأ خانہ سے قرض مانگا اور پچیس ملین ڈالر کے عوض اپنے ساتھ قیام پذیر پانچ بیویاں جوئے خانے کے پاس رہن رکھ دیں۔ یاد رہے پرنس کی نو بیویاں ہیں۔مصر کے مروجہ قانون کے تحت اگر پرنس نے پچیس ملین ڈالر کی رقم اگلے چھ مہینوں میں واپس نہ کی تو رہن رکھی پانچ بیویوں کو قطر یا یمن کی غلاموں کی مارکیٹ میں نیلام کرکے رقم وصول کی جائے گی۔یادرہے کہ مذکورہ ریاستوں میں آج بھی غلاموں کی خریدوفروخت ہوتی ہے۔ مصر کے وزیر خارجہ مسٹر سمیع شو کرے نے کہا ہے کہ وہ سعودی خواتین کو جلد ہی سعودی حکومت کے حوالے کریںگے۔ جوأخانہ کے ڈائریکٹر مسٹر علی شمعون نے اس ساری روداد کی تصدیق کی ہے۔ یاد رہے مصر کے بازاروں میں انسانی خریدوفروخت تو ہزاروں سالوں سے جاری ہے۔ خود حضرت یوسفؑ کو مصر کے بازار میں نیلام کیا گیا تھا۔ قارئین! صحرائے عرب سے ہی ایک دوسری خبر یہ ہے کہ اردن کے واحد انگلش اخبار ’’جارڈن ٹائمز‘‘ نے 13فروری 2017ء کو ایک خبر اور آرٹیکل کشمیر کی صورتِ حال پر ایک ہندو سٹاف رائٹر کی معلومات کے مطابق لکھا جس میں خبر یہ تھی کہ کچھ کشمیری دہشت گردوں نے بھارت کی فوجی چوکی پر حملہ کرکے درجن بھر بھارتی فوجیوں کو شہید کر دیا ہے۔ خبر جب پاکستانی ایمبیسی اردن کو ملی تو ہمارے پاکستانی سفیر صاحب اخبار کے ایڈیٹر سے جا کر ملے اور شکایت کی کہ اردن ہمارا مسلمان برادر اسلامی ملک ہے ہم ان سے یہ توقع نہیں رکھتے کہ وہ ایسی خبر جس میں کشمیریوں کو دہشت گرد اور بھارتیوں کو شہید لکھا گیا ہو چھاپیں گے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا کہ جب اردن حالتِ خانہ جنگی میں تھا اور فلسطین آباد کاروں کے ساتھ ان کی لڑائی چل رہی تھی تو سابق صدر پاکستان جنرل ضیا الحق مرحوم جو کہ اس وقت برگیڈیئر تھے انہوں نے اردن کی حکومت کو فلسطینی شورش سے نجات دلوائی۔ سفیرِ محترم بتاتے ہیں کہ اس کے اگلے روز ’’جارڈن ٹائمز‘‘ کے ایڈیٹر ایمبیسی میں آئے اور میرے سامنے میز پر ایک اخبار کی کٹنگ اور لنک رکھ دیا تو قارئین! یہ خبر ایک پاکستان انگلش نیوز پیپر ’’ڈان‘‘ میں ایک دن پہلے 12فروری کو چھپ چکی تھی اور جارڈن ٹائمز کے ایڈیٹر نے پاکستانی سفیر سے کہا کہ ہم نے یہ خبر ’’ڈان نیوز‘‘ سے پِک کی ہے۔ آپ سب سے پہلے اپنے گھر کو موجود میر جعفروں ،میر صادقوں سے پاک کریں۔اس ایک خبر سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ پاکستان اس وقت ایک چومکھی لڑائی لڑ رہاہے جسے سب سے زیادہ مزاحمت اپنے ہی گھر کے اندرونی حالات سے ہے۔ قارئین! مشہور دانشور، مفکر اور عالم مولانا طارق جمیل صاحب گذشتہ روز کینیڈا تشریف لائے تھے جہاں انہوں نے کچھ اسلامی درس گاہوں میں دینی موضوعات پر لیکچر بھی دیئے اور جب انہیں پتہ چلا کہ ان دنوں اوورسیز پاکستانیزکی اپنے ہی سفارت خانے اور قونصلیٹ سے ٹینشن چل رہی تھی جس پر مولانا طارق جمیل صاحب نے ایمبیسی اور قونصلیٹ کے سٹاف سے گفتگو کرتے ہوئے ان سے درخواست کی کہ وہ اپنے پاکستانی تارکینِ وطن بھائیوں سے اپنے رویے میں بہتری اور شائستگی پیدا کرے کہ اگر تارکینِ وطن کا پاکستان کے اندرونی اور بیرونی اداروں پر سے اعتماد اٹھ گیا تو یہ اپنا سرمایہ کیونکر پاکستان بھیجیں گے؟ قارئین ! آپ کو یاد ہوگا کہ گذشتہ ماہ ٹورنٹو کینیڈا میں پاکستانی قونصلیٹ کے قونصل جنرل عمران قریشی صاحب جو اس سے پہلے سعودی عرب اور عرب ممالک میں سفارتی فرائض سرانجام دے چکے ہیںاور اسی وجہ سے وہ خود کو پاکستان کا ملازم قونصل جنرل سمجھنے کی بجائے خود کو ’’کفیل‘‘ سمجھتے ہیں اور ان کی موجودگی میں ٹورنٹو قونصلیٹ کا پورا سٹاف آنے والے وزیٹر خواتین و حضرات کی تضحیک کرتا ہے اور ایسے ہی ایک واقعے کے خلاف مشہور سماجی شخصیت غوث ننھا بٹ نے ایک تاریخی احتجاج قونصلیٹ کے سامنے منعقد کیا اور اس مظاہرے میں کینیڈا بھر سے خواتین و حضرات نے شرکت کی تھی۔ یاد رہے کینیڈا میں پاکستانی سفارت کاری کے 65سالہ دور میں یہ پہلا واقعہ ہے کہ پاکستانیوں نے اپنی ہی ایمبیسی اور قونصل خانے کے خلاف مظاہرہ کیا ہے۔ غوث ننھا بٹ کی درخواست پر پاکستان کے وفاقی محتسب اس واقعے پر سوموٹوایکشن شروع کر چکے ہیں جبکہ رمضان المبارک کی آمد کی وجہ سے پاکستانی کمیونٹی نے مزید مظاہروں اور احتجاج کا پروگرام عید ملن پارٹی تک مؤخر کر دیا ہے۔ قارئین! دیارِ غیر ہی سے ایک اطلاع کے مطابق گذشتہ دنوں کا بل میں بم دھماکہ ہوا جس میں سو سے زائد افراد شہید ہوئے اور سینکڑوں زخمی بھی، اس میں جو ٹرک استعمال ہوا وہ رات بھر کابل کی ایرانی ایمبیسی کی پارکنگ میں کھڑا تھا۔ دھماکے کے بعد افغانی صدر اشرف غنی نے ایرانی سفیر کو بلوا کر اس پر احتجاج کیا مگر ایرانی اور بھارتی سفارت کار بضد تھے کہ یہ دھماکے خدانخواستہ آئی ایس آئی نے کروائے ہیں جبکہ کابل میں ہزاروں لوگوں نے ان دھماکوں اور اشرف غنی کی حکومت کے خلاف احتجاج کیا جس پر کابل حکومت نے فائرنگ کرکے سات احتجاجیوں کو ہلاک کر دیا جن میں سے ایک اسپیکر کا بیٹا تھا جس کے جنازے میں پھر دھماکہ ہوا جس میں دو درجن افراد شہید اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ کابل حکومت پاکستان پر الزام تراشی کی بجائے خود اپنے ملکی معاملات پر توجہ دے تو بہتر ہے۔ دراصل ایران، بھارت اور افغانستان ہماری عظیم آئی ایس آئی کی کامیابیوں سے خوفزدہ ہیں۔ 6جون2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus