×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی نیولے
Dated: 01-Jun-2010
ایک دفعہ نپولین نے دیکھا کہ شہر کے چوراہے پر ایک قربان گاہ پر 12چاندی کے مجسّمے پڑے ہیں۔ نپولین نے پتہ کروایا کہ یہ کون لوگ ہیں جن کے اتنے بڑے مجسّمے چاندی کے بنے ہوئے ہیں۔ پتہ چلا کہ یہ عقیدت کے طور پر بنائے گئے ان راہبوں کے مجسّمے ہیں جنہوں نے اپنی ساری عمر عوام کے لیے وقف کر دی تھی اور یہ عوام الناس کی خدمت کے لیے ہر وقت تیار رہتے تھے۔ نپولین نے حکم دیا چاندی کے ان مجسّموں کو ڈھال کر سکّے بنا دیا جائے تاکہ یہ وبارہ دو، دو ٹکے کہ ہو کر پھر اپنی عوام کے کام آ سکیں۔ ہمارے ملک کے ان راہبروں اور راہنمائوں کو تو ڈھال کر سکّے بھی نہیں بنایا جا سکتا ان کو اٹھا کر سمندر میں بھی پھینک دیں تو سمندر کی لہریں ایسی آلائش کو اٹھا کر واپس ساحل پر پھینک دیتی ہیں۔ میرے وطن عزیز کو شاید کسی دشمن کی نظر لگ گئی ہے کہ یہاں جمہوریت کسی کو راس نہیں آتی۔ ایک طویل سفر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے سنگ شروع کیا تھا جمہوریت کی واپسی کے لیے جمہوریت کی بحالی کے لیے ایک عزم تھا کہ ایک دن ہم یہ معرکہ مار لیں گے۔ سفر کے دوران صعوبتیں بہت زیادہ جھیلیں مگر ایک احساس تھا کہ ہمارے سنگ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو بھی ہیں اور یہ احساس کبھی تھکنے نہ دیتا تھا صبح ہم دبئی یا لندن ہوتے شام کو نیویارک یا واشنگٹن پہنچے ہوتے ایک دن بھارت گئے ہوئے ہیں تو دوسرے دن جنوبی افریقہ۔محترمہ کے سنگ براعظم امریکہ اور یورپ کے گھنٹوں لمبے سفر بائی روڈ بھی کیے نہ محترمہ تھکتی تھی نہ شریک کارواں۔ ایک جذبہ تھا ایک ترنگ تھی کچھ کر گزرنے کی۔ 27دسمبر کو جب محترمہ کو شہید کر دیا گیا تو سب کچھ بکھر گیا وہ سارے سفر بھی ختم ہو گئے اور منزلیں بھی دھندلا گئیں۔ فروری 2008ء کے الیکشن ایک یاس کے عالم میں ہوئے ملک کے ایک بڑے طبقے نے شہید محترمہ کی پارٹی کو پذیرائی بخشی۔40 دنوں تک محترمہ کا سوگ منانے والی پارٹی الیکشن کے بعد ٹیکنیکلی ہزہمیت کا شکار ہوئی عوام کو پارٹی میں لیڈرشپ نظر نہ آئی تو انہوں نے محترمہ شہید کے اتحادیوں کو جنہوں نے کہا کہ وہ اپنی بہن کا انتقام لیں گے کہ نعرہ پر یقین کر لیا اور الیکشن کا رزلٹ خود ان کے لیے بھی سرپرائز تھا۔ الیکشن کے بعد مفاہمت کی سیاست کا ڈھنڈوراہ پیٹا گیا مگر اس فلاپ فلم کا چند ہفتوں میں ہی عوام کی نظروں کے سامنے دھرن تختہ ہو گیا۔ بڑے بڑے دعوے ریت کی دیوار کی طرح ڈیہہ گئے اور پنجابی کی مثال کے مصداق ’’پھر لترولتری‘‘ 2002 ء میں جب عدلیہ کے چیف جسٹس کو جبراً ریٹائر کرکے گھر بھیجا گیا تو ایک تحریک وکلاء نے شروع کی یقینا اس کا آغاز جن مقاصد کے لیے تھا اس کو دیکھتے ہوئے عوام بھی اس تحریک کا حصہ بن گئے اور یہی وجہ تھی کہ کراچی سے لے کر خیبر تک سڑکوں پر کارکنان کی لاشیں گرتی رہی مگر کسی بھی مرحلہ پر جمہوریت پسند عوام پیچھے نہ ہٹے۔ لہٰذا اس تحریک کو وکلا کی تحریک کی بجائے بحالی جمہوریت کی عوامی تحریک یا گو مشرف گو تحریک کہنا زیادہ مناسب ہوگا۔ بحالی جمہوریت کی اس تحریک کے دوران خود میں نے بھی کئی روز سڑکوں پر گزارے، میرے ساتھ جہانگیربدر، افنان بٹ، اسلم، اعجاز گِل،دلاور بٹ، نوید چوہدری، میاں مصباح، منورانجم، اورنگ زیب برکی، رانا آفتاب، اصغرچوہدری، ڈاکٹر فخر،ساجدہ میر،قاسم ضیاء یہ وہ لوگ تھے جو چیف جسٹس کے انتظار میں راتیں سڑکوں پر ڈھول کی تھاپ پر رقص کرتے کارکنان کے ساتھ گزارتے تھے۔ اسی طرح مسلم لیگ ن کے جواں سال کارکنان خواجہ سعد رفیق،شائستہ و ملک پرویز،زعیم قادری سڑکوں پر کارکنان کا حوصلہ اور مورال بڑھاتے نظر آتے تھے۔ اتنی عقیدت بھائی چارہ بہت کم دیکھنے کو ملتا ہے اور یہ تب ہی ملتا ہے جب سیاسی جماعتیں آمریت کے زیر عتاب ہوں۔ آج 2سال اور تین ماہ ہوئے پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن اتحادیوں سمیت اقتدار میں ہیں اور تقریباً آمریت سے مکمل چھٹکارا پائے ہوئے بھی 2سال ہونے کو ہیں مگر ان دو سالوں میں سیاسی جماعتوں کی پراگرس رپورٹ کیا ہے؟ ابھی جمہوریت کی لگی مہندی ہاتھوں پر خشک بھی نہ ہونے پائی تھی کہ مرکز میں اتحاد توڑ دیا گیا۔ ایم کیو ایم کبھی اتحادی نظر آتی ہے کبھی اجتہادی، اس طرح اے این پی بھی امریکہ یاترا کرکے اتحاد کے گیت آلاپ رہی ہے مگر ان کا اتحاد کا گیت کالاباغ ڈیم کے مسئلہ پر نوحہ بن جاتا ہے اور اے این پی بھی جمعیت علماء اسلام (ف) کی طرح’’ڈومور‘‘ پر یقین رکھتی ہے۔ مسلم لیگ ن کی سیاست کی سمجھ اس لیے نہیں آتی کہ ان کی قیادت جب کوئی قومی ایشو ہو تو یا جدہ یا پھر لندن چلے جاتے ہیں اور بے چارے جاوید ہاشمی جو اپوزیشن میںہوں توزیر عتاب ہوتے ہیں اور اقتدارمیں ہوں تو زیر عذاب ہوتے ہیں۔ اب دوسری طرف دیکھیں تو کل کی عدلیہ بچائو تحریک جو بحالی جمہوریت کی تحریک میں ضم ہو گئی تھی کے کچھ کردار اپنی اپنی جگہوں پر موجود نہیں۔ اعتزاز احسن عدلیہ کی موجودہ روش سے ناخوش اور علی احمد کرد کی سُر اور تال میں بھی کافی فرق محسوس ہوتا ہے۔وکلااور جوڈیشری الگ الگ راستوں پر گامزن ہیں ماضی میں بھی اسی طرح ہوتا آیا ہے کچھ استعمال ہوئے کچھ نے استعمال کیا۔ آج پھر اک نئی اکھاڑ پچھاڑ کے لیے ایک نئے سٹیج کی تیاری شروع ہے اداروں کا ٹکرائو یقینا خطرناک ہوگا اور اس کے نتائج قوم کو بھگتنا ہوں گے ہمیشہ کی طرح۔ آج جو لوگ صوبوں اور مرکز میں اقتدار میں ہیں آنے والے کسی نئے سیٹ اپ میں وہ خود نہیں تو ان کے بھائی یا بھتیجے صاحب اقتدار ہوں گے چونکہ سیاسی پارٹیوں میں خون دینے والے مجنوں اور ہوتے ہیں اور چوری کھانے والے مجنوں اور ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح جیسے بھارت میں رعایا اچھوت اور حکمرانی کا حق برہمن اور کھتری کو حاصل ہے۔مجھے ایک سیاسی حکیم نے تجزیہ کیا ہے کہ اب بس چند دنوں کی بات ہے ہنڈیا تقریباً پک چکی ہے بس دم دینا باقی ہے۔ سیاسی پارٹیوں اور عدلیہ کے درمیان بداعتمادی اپنے عروج پر ہے بس کسی دن مناسب وقت پر عدلیہ اپنے فیصلوں کے Implementation کے لیے ایک دوسرے بڑے ادارے کو مدد کے لیے بلائے گی جو کہ بالکل ’’آئینی‘‘ اقدام ہوگا اور کچھ عرصہ کے لیے پھر جمہوریت کی بساط لپیٹ دی جائے گی اور آج کی حکومت اور اپوزیشن دونوںپھر بحالی جمہوریت کے لیے ان پرانے دوستوں کو جو بحالی جمہوریت کی تحریک چلانے کے فنکار سمجھے جاتے ہیں یہ ذمہ داری ان کے حوالے کر دیں گے۔ گذشتہ دنوں باغ جناح کے سبزہ زار پر ملک حفیظ اور صوفی تسنیم کی طرف سے پیپلز پارٹی لاہور اور پنجاب کے عہدیداران کو ایک غیررسمی گفتگو اور ڈنر کے لیے مدعو کیا گیا تو وہاں ایک نئی اختراع وجود میں آئی یہ ان لوگوں کے متعلق تھی جو صدر،وزیراعظم، وزیراعلیٰ، گورنرجہاں کہیں بھی ہوں ایئرپورٹ ہو،سیمینار ہو یا کوئی افتتاح یہ لوگ اپنی گردنیں اور سر پیچھے سے اونچا کرکے یوں اکڑے ہوئے نظر آتے ہیں جیسے کسی ’’نیولے‘‘ نے سر اوپر اٹھا رکھا ہو۔ایسے ’’سیاسی نیولے‘‘ ہر تصویر میں ہر تقریر میں اور ہر تقریب میں نظر آتے ہیںاور اگر حکمران یہ سمجھتے ہیں کہ وہ آئندہ تحریک ان سیاسی نیولوں کی بنا پر چلا کر جیت سکتے ہیں تو خواب خرگوش سے بیدار ہو جائیں کیونکہ یہ سیاسی نیولے ان کے خواب خرگوش کو بھی کھاجانے کے چکر میں ہیں جبکہ مخلص سیاسی کارکن کسی بھی سیاسی جماعت کے لیے ڈھونڈنا اب بہت مشکل عمل ہوگا کیونکہ ’’لارے پہ لارے ‘‘ برداشت کرکے اب سیاسی کارکنان کافی حقیقت پسند ہو چکے ہیںاور وہ دوسروں کے اقتدار کے لیے اب جیل یاترا نہیں کریں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus