×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی مسافر۔فیئر پلے
Dated: 04-Jun-2010
پاکستان کی 62سالہ تاریخ میں ہم نے بے شمار نشیب و فراز دیکھے۔ اس دوران دوتہائی عرصہ آمریت مسلط رہی۔ صرف ایک تہائی عرصہ کے لیے سیاستدانوں کو ملک چلانے کا موقع ملا جس میں بھی جمہوری حکومتوں کو آزادانہ کام نہ کرنے دیا گیا۔ سیاسی حکومتیں اس عرصہ میں وہ کچھ نہ کر سکیں جس کی عوام کو توقع تھی۔ اسٹیبلشمنٹ نے ہمیشہ اپنے اقتدار کو دوام بخشنے کے لیے سیاستدانوں کی ٹانگیں ہی نہیں کھینچیں ان کا پورا جسم ہی گھسیٹتی رہی۔ ایک آمر نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ آئین کیا کیا حیثیت ہے اسے میں پھاڑ کر پھینک سکتا ہوں اور ایک دوسرے آمر نے ایبڈو جیسا کالا قانون نافذ کرکے سیاستدانوں پر پابندیاں لگائیں جبکہ جنرل مشرف کی آمریت نے ذاتی مفاد اور اقتدار کو طول دینے کے لیے جہاں مختلف تجربات کیے اور پارلیمانی سیاست میں بی اے کی شرط لگا کر ملکی سیاست کی ایک بڑی کھیپ کو کنارہ کشی پر مجبور کر دیا۔ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ محبت خانم نامی حسینہ امیر تیمور لنگ کے دربار میں آئی تو امیر تیمور نے اسے کہا، سنا ہے محبت اندھی ہوتی ہے۔ تو محبت خانم نے برجستہ جواب دیا کہ اگر محبت اندھی نہ ہوتی تو لنگڑے کے پاس کیوں آتی؟یہی کچھ حال ہمارے اکثر سیاستدانوں کا بھی ہے جو اپنی ہر بات اورحرکات و سکنات سے آمریت کو دعوت دیتے ہیں اور پھر اس آمریت سے چھٹکارا پانے کے لیے میرے جیسے کارکنوں کو قیدوبند، کوڑوںاور پھانسیوں کی سزائیں دلاتے ہیں۔ گورنر پنجاب سلمان تاثیر کو جب سے گونر تعینات کیا گیا ہے مسلم لیگ ن کے من میں وہ ایک لمحہ کے لیے بھی سمائے ہیں نہ ان کو ایک آنکھ کو بھائے ہیں۔ جبکہ مسلم لیگ ن اور پیپلز پارٹی نے 8سالہ آمریت کے دوران بڑے مصائب و آلام کا سامنا کیا آج بھی اٹک کے قلعہ کی دیواریں اس بات کی گواہ ہیں جہاں مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف کو ذہنی و جسمانی طور پر ٹارچر کیا جاتا رہا۔ انہیںہتھ کڑیوں میں جکڑ اور جہاز کی سیٹوں سے باندھ کر لا ہور اور کراچی کا سفر کرایا جاتا تھا۔ ان کے گھروں کا قیمتی سامان اٹھا لیا گیا۔ باتھ روموں کی ٹوٹیاں تک اتار لی گئیں۔ اور ذاتی رہائش گاہیں ٹرسٹوں کے حوالے کر دی گئیں۔ حتیٰ کہ ان کے مرحوم والد کے جسدِ خاکی کو پاکستان لایا گیا تو نہ صرف شریف خاندان کو جنازے میں شریک ہونے سے روکا گیابلکہ آخری رسومات بھی آزادی سے ادا کرنے کی اجازت نہ دی گئی۔ جس کا ثبوت جنازے میں سو کے قریب حاضری تھی۔ ایک مرتبہ جب سابق خاتون اوّل احتجاج کے لیے گھر سے باہر نکلیں تو ان کی گاڑی کو لفٹرسے اٹھا لیا گیا۔ محترمہ کلثوم نواز نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو جو 9افراد ان کے ساتھ آئے تھے وہ بھی غائب تھے۔ پھر تاریخ نے یہ بھی دیکھا کہ جب شریف برادران مختلف اوقات میں پاکستان آئے تو آمریت کی پروردہ حکومت نے ان کو جبری ڈی پورٹ کر دیا اسی طرح موجودہ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کوعدالتوں کے چکر لگوا کر ذہنی اذیت پہنچائی جاتی اور خوار کیا جاتا رہا۔ ایک دفعہ تو شاہ سے زیادہ شاہ کے وفاداروں نے سینیٹر آصف علی زرداری کی زبان کاٹ کر انہیں مارنے کی کوشش بھی کی جس کی بروقت اطلاع مل جانے پر جیالوں نے لانڈھی جیل کا گھیرائو کر لیا جس کے باعث یہ طاقتیں اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے میںکامیاب نہ ہو سکیں۔ میثاقِ جمہوریت پر دستخط ہو جانے کے بعد جب شہید محترمہ18اکتوبر2007ء کو کراچی تشریف لائیں تو یہی سازشی قوتیں انہیں مارنے کے لیے ایک بار پھر سرگرم عمل ہو گئیں۔ اس سانحہ میں 200 سے زائد جیالوں کی شہادت تو ہوئی تاہم محترمہ غیرمتوقع طور پر موت کے منہ سے بچ نکلیں مگر چند دنوں بعد انہیںایک دوسرے حملے میںدو درجن ساتھیوں سمیت شہید کردیا گیا۔ اس دوران میرے سمیت سینکڑوں جیالے جیل یاترہ کرتے رہے۔ آج میرے سمیت پاکستان کے لیے درددل رکھنے والے 18کروڑ عوام یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ جمہوریت بچانے کی اتنی قیمت ادا کرنے کے بعد جمہوریت کے بہی خواہوں میں جمہوریت کو اس کی پٹڑی پر رواں رکھنے کا وہ شعور پیدا نہیں ہو سکا جس کی اشد ضرورت تھی۔ میرے لیے رانا ثناء اللہ کے بیانات باعث حیرت ہیں۔ ان کو مشرف دور میں انتہائی تشدد اور تضحیک کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کو مونچھ سے بے مونچھ کر دیا گیا اور ان کے ساتھ انسانیت سے گری ہوئی حرکات کا ارتکاب کیا گیا۔ آج جمہوریت کی بحالی میں ان کا بھی کردار ہے لیکن افسوس کہ وہ جمہوریت کے درخت کی اس شاخ کو بے دردی سے کاٹ رہے ہیں جس پر وہ خود بیٹھے ہیں۔آج کے گورنر پنجاب سلمان تاثیر نے بھی بڑے مصائب کا سامنا کیا آمریت دور میں ان کو پولیس کے عقوبت خانوں میں الٹا لٹکا کر تشدد کا نشانہ بنایا گیا وہ بھی جمہوریت کی قدروقیمت کو سمجھتے ہیں۔ میری دونوں پارٹیوں کے زعماء سے یہ اپیل ہے کہ وہ اکبر کے دربار کے بیربل کے کردار کے بجائے حضرت قائداعظم محمد علی جناح اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کے سپاہی بننے کو ترجیح دیں اور آمریت کا دروازہ کھٹکھٹانے کے بجائے 18کروڑ پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن بنیں۔ اقتدار آنی جانی چیز ہے تاریخ سے ہم نے یہ سیکھا ہے کہ یہ ایک خاندان کے ساتھ وفا نہیں کرتی۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور میاں نوازشریف نے مفاہمت کا جو دروازہ آنے والی نسلوں کے لیے کھولا تھا ذاتی مفادات کی خاطر یہ دروازہ نفرت کی چنائی سے بند نہ کریں۔ فیئر پلے کی پالیسی پہ گامزن ہو کر میرے جیسے ہزاروں سیاسی کارکنان کا مستقبل تاریک کرنے سے اجتناب کریں۔ جس دن ہمارے سیاسی زعما کو اس بات کی سمجھ آ گئی اس دن آمریت اور اسٹیبلشمنٹ کے پروردہ سیاسی مسافر منہ لیپٹ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غائب ہو جائیں گے۔ وہ لوگ جو آج ایئرپورٹس اور سیمینارز میں اہل اقتدار کے پیچھے گردن نکال کر تصاویر بنوانے اور ٹی وی سکرین پر اپنا چہرہ دکھانے کی خاطر کھڑے ہوتے ہیں۔ اچھے وقتوں میں یہ سیاسی ’’مچھندر‘‘ چوری کھانے والے مجنوں کی طرح تو ساتھ ہوتے ہیں مگر خون دینے کے وقت یہ تلاشِ بسیار کے باوجود بھی نظر نہیں آتے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus