×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
زلزلے، سیلاب،آفات۔۔۔ اور کِن نشانیوں کی ضرورت ہے
Dated: 17-Sep-2010
اُس کے چہرے پر عجب طمانیت تھی چھوٹی سی خوبصورت داڑھی نے اس کے چہرے پر نوربکھیر رکھا تھا وہ بتا رہا تھا کہ وہ ایک کرسچن فیملی سے تعلق ر کھتا تھا۔ چند ماہ قبل ایک مسلمان دوست کے آفس جانے کا اتفاق ہوا۔ دوست کسی کام سے اٹھ کر باہر گیا تو میز پر پڑی ہوئی ایک ضخیم کتاب پر اس کی نظر پڑی، وقت گزاری کے لیے اس نے وہ کتاب اٹھا لی انگریزی میں لکھی ہوئی اس کتاب کو الٹ پلٹ کر جب اس نے دیکھا اور چند اوراق پڑھے تو اسے احساس ہوا کہ یہ کوئی غیرمعمولی تحریر ہے اور یہ کتاب بھی کوئی عام کتابوں جیسی نہیں ہے اسے تجسس ہوا حسب عادت اس نے کتاب کا سرورق دیکھا اور مصنف کا نام ڈھونڈنے کی کوشش کی کہ ہر کتاب کے فرنٹ ٹائٹل پر مصنف کا نام ہوتا ہے۔ ٹائٹل پر صرف لفظ ’’قرآن‘‘ انگلش میں کندہ تھا مصنف کا نام نہیں تھا اسی دوران اس کا دوست واپس اپنی سیٹ پر آ گیا۔ اس نے اپنے اس مسلمان دوست سے پوچھا کیا یہ کتاب میں کچھ دنوں کے لیے مستعار لے سکتا ہوں۔دوست نے خوش دلی سے اسے یہ کتاب گفٹ کر دی۔ اس نے چند ہی دنوں میں کتاب کا بڑی باریک بینی اور لگن سے مطالعہ کیا تو اس کے ذہن کے بند دریچے وا ہوتے چلے گئے پھر اسے کتاب کے مصنف کا نام بھی پتہ چل گیا کہ یہ اللہ ذوالجلال کی کتاب قرآن مجید ہے جو اس نے اپنے محبوب پیغمبر اور فخر انسانیت حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے بھیجی تھی تاکہ انسان صراطِ مستقیم اپنا لیں۔ قرآن پاک کے مطالعے کے بعد اس کے دل میں مسلمان ہونے کی خواہش پیدا ہوئی اور اس نے اسلام پر مزید کتابوں کا مطالعہ کیا اور اب وہ ذہنی طور پر مسلمان ہونے رب کا دین قبول کرنے کے لیے تیار تھا۔ پھر اس نے سوچا کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی پاک کتاب ہے اور اسلام دین انسانیت و فلاح ہے تو کوئی معجزہ ضرور ہوگا جو اسے اسلام کی سچائی و حقیقت اس پر آشکار کرے گا ایک رات کو وہ قرآن سامنے رکھ کر بیٹھ گیا کمرے کی لائٹیں بجھا دیں ایک موم بتی روشن کی اور آنکھیں بند کرکے معجزے کا انتظار کرنے لگا۔چند منٹوں کے بعد آنکھیں کھولیں تو دیکھا موم بتی جل رہی تھی کتاب اللہ اسی طرح اس کے سامنے پڑی تھی اس نے یہ عمل بار بار کیا مگر ہردفعہ نتیجہ وہی رہا۔موم بتی جلتی رہی اور کتاب سامنے پڑی رہی پھر بھی دل مطمئن نہ ہوا اسے یقین تھا کہ کوئی معجزہ ہوگا اور وہ اسلام قبول کر لے گا مگر چند بار جب کچھ نہ ہوا تو اس نے کتاب اللہ کو اٹھایا اسے کھولا توسامنے کچھ یوں لکھا تھا۔ (چودھواں پارہ آیت نمبر14اور15)میرے نبی یہ آپ سے نشانیاں مانگیں گے کہ آسمانوں کے دروازے ان کے لیے کھول دوں یہ آسمانوں پر چڑھ بھی جائیں تو کہیں گے کہ ہماری آنکھوں کو باندھ دیا گیا ہے ہم پر جادو کر دیا گیا اسی طرح قرآن کریم کے اوراق پلٹے وہ پڑھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں فرعون نے اپنے وزیر ہمان سے کہا کہ میرے لیے ایک مینارہ تعمیر کروادومیں اس پر چڑ ھ کے جھانکوں گا کہ موسیٰ کا خدا ہے کہ نہیں میرا خیال ہے کہ موسیٰ کا خدا جھوٹا ہے پھر اس نے پڑھا کہ ابوجہل نے حضرت محمد صلی اللہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ آپ شہر کے چوک پر آ کر چاند کے ٹکڑے کر دیں۔ اللہ تعالیٰ نے معجزہ دکھایا چاند کا ایک ٹکڑا صفا اور دوسرا مروا کی پہاڑیوں پر گرا۔ پھر اس نے پڑھا(پارہ نمبر15آیت نمبر89،90،91،92) مشرکین مکہ نے حضور نبی اکرم سے نشانیاں مانگیں -1کہ تو ہمارے لیے زمین سے چشمہ نکال۔-2 تیرے پاس کھجوروں اور انگوروں کا باغ ہو-3 باغات کے درمیان سے نہریں نکلتی ہوں-4 تو آسمان سے ہمارے لیے ٹکڑا گرا دے -5 یا تو اپنے اللہ کو لے آ-6تو اللہ سے کہہ کہ فرشتے تیرے پاس زمین پر بھیج دے-7تیرا سونے کا ایک گھر ہو-8یا ہمارے سامنے تو آسمان پر چڑھ کر دکھا۔اور آسمان سے لکھی کتاب ہم کو لا کر دکھا جس کو ہم پڑھ سکیں۔اللہ تعالیٰ نے کافرین کے جواب میں بس اتنا کہا کہ اے میر ے پیارے نبی اگر میں یہ سب کچھ کر بھی دوں تو یہ تجھ پر اعتبار نہیں کریں گے؟ ہمارے اس نومسلم دوست نے یہ پڑ ھ کر اللہ تعالیٰ کی حقیقتوں کا اعتراف کیا۔ اللہ رب العزت سے مزید نشانیاں مانگنے سے توبہ کی،سیدھا امام کے پاس پہنچے اسلام کو صدق دل سے قبول کیا آج وہ مبلغ اسلام بن کر اللہ تعالیٰ کی سچائی کو دنیا بھر میں پھیلانا چاہتا ہے۔ جب سے یہ دنیا ظہور پذیر ہوئی ہے جب سے اللہ رب العزت نے اسلام کو دنیا میں فلاح کے لیے مذہب کے طور پر چنا ہے اور جب ہی سے اللہ تعالیٰ نے قوموں کو بھٹکنے سے بچانے کی کوششیں کیں جب قوم لوط علیہ السلام نے بے راہ راوی اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے آسمان سے فرشتے بھیجے مگر قوم لوط علیہ السلام نے ان کو بھی اپنی ہوس کا شکار بنایا جس پر اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو دو پہاڑوں کے درمیان رکھ کر کچل دیا۔ قوم نوح علیہ السلام نے جب اللہ کے احکامات کے برعکس روش اختیار کی تو اللہ تعالیٰ نے وارننگ بھیجی جس پر جس نے عمل کیا وہ بچ گیا جو ایمان نہ لایا وہ تباہ ہوا۔ حضرت نوح علیہ السلام کے وقت کے سیلاب اور آج ہمارے ہاں آنے والے سیلاب کا جائزہ لیا جائے تو یہ سیلاب سے تباہ ہونے والا رقبہ بلجیم،آسٹریا اور سوئٹزرلینڈ کے کل رقب کے مساوی ہے۔ ہمارے ہاں 2005ء میں زلزلہ آیا 80ہزار سے زائد جانیں گئی، کھربوں ڈالر کا انفراسٹکچر تباہ ہوا مگر آمر وقت کو احساس نہ ہوا، نہ اس کے حواریوں کو، خیبرپختونخواہ میں ایک عرصہ سے بزرگوں کو مزاروں سے نکال کر ان کے جسد خاکی کو پھانسی دینے کے گھنائونے جرائم کئے گئے،حضرت داتاگنج بخشؒ کے مزار کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا گیا،انسانیت کو بے تحاشا قتل کیا گیا۔اللہ تعالیٰ کے پیدا کردہ اس کو انسانوں کو بمبوں سے اڑایا،معصومین کو قتل کیا، عورتوں کی بے حرمتی کی گئی۔ میرے ایک دوست جو کہ بنوں کے رہائشی ہیں چند روز پہلے بتا رہے تھے کہ پچھلے سال بالکل انہیں دنوں میں سوات، وانا، وزیرستان، مینگورہ میں رات کے وقت اولے پڑے جس سے اس علاقے کی تمام فصلیں تباہ ہو گئیں۔ یہی وجہ ہے کہ خیبرپختونخواہ کا یہ حصہ پچھلا پورا سال اجناس کی کمی کا شکار رہا۔ اس دوست نے مجھے مزید بتایا کہ آسمان سے گرنے والے یہ اولے بڑے سائز کے تھے اور نوک دار تھے اگر دن کے وقت پڑتے تو لاکھوں لوگ اس آسمانی آفت کا شکار ہو جاتے۔خیبرپختونخواہ کے عوام شاہد ہیں کہ پورا ایک سال پہلے اللہ رب العزت نے وارننگ بھیجی مگر ہمارے حکمرانوں ہماری قوم اور اسلام کے ٹھیکے دار طالبان نے اللہ کی اس وارننگ کو درخوراعتناء نہ سمجھا اور آج یہ علاقے صفہ ہستی سے تقریباً مٹ چکے ہیں۔ پچھلے سال ہزاروں لوگؤں کے روزے افطار کروانے والے مخیر حضرات آج آسمانی قدرتی آفات کا شکار ہو کر خود فلڈ ریلف کیمپوں میں قطاروں میں کھڑے روٹی تقسیم کیے جانے کا انتظار کر رہے ہیں۔ اللہ رب العزت جسے چاہتا ہے عزت دے دیتا ہے، جسے چاہے رزق دیتا ہے، جسے چاہے زندگی دیتا ہے، جسے چاہے صحت دیتا ہے،جسے چاہے شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیتا ہے اور جس سے چاہے وہ یہ سب چھین بھی لیتا ہے کہ وہ ہی قدرت رکھتا ہے۔ آج اس ملک کے لوگ آپس میں دست و گریبان تھے آپس میں پانی کے لیے لڑ رہے تھے۔ کالاباغ ڈیم اور دوسرے بے شمار ڈیمز بن جانے چاہئیں تھے۔ بھارت نے دریائے جہلم پر چالیس چھوٹے بڑے ڈیم بنا کر وسطیٰ پنجاب کو بنجر بنا دینے کی مذموم کوشش کی ہے۔ اسی طرح بہگیاڑڈیم اور سینکڑوں زمین دوز سرنگیں بنا کر پانی چوری کرنے کا جو دھندا شروع کیا ہے اور آج ہمارے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف 50لاکھ ڈالر کی امداد دینے کا اعلان کر رہا ہے۔ جبکہ امریکہ کی طرف سے کافی دبائو پر حکومت پاکستان نے ٹالرنس کا ثبوت دیتے ہوئے اس انڈین امداد کی پیشکش کو قبول کیا ہے۔ یہی تو وہ لوگ چاہتے ہیں کہ پاکستان ایشیا کا مرد بیمار بن جائے اور یہود و ہنود کا طفیلی بن کر رہ جائے۔ بلکہ ہمارے کچھ مسلمان بھائی اور دوست ممالک بھی پاکستان کو پھلتا پھولتا نہیں دیکھ سکتے اور چاہتے ہیں کہ عالم اسلام کا یہ ہیرو، زیرو بن جائے۔اگر ہم نے اپنے اعمال کو ٹھیک نہ کیا اگر ہم نے اپنی سمتیں درست نہ کیں، اگر ہم نے کعبہ اللہ کی بجائے واشنگٹن،دلی اور لندن و یروشلم کو اپنا قبلہ بنا لیا تو پھر میرا رب اس قوم کو کبھی بھی آزمائش سے نہیںنکالے گا۔جو قوم اپنے راہبروں کو پھانسیاں دینے لگے، جو قوم اپنے لیڈروں کو سرعام سڑکوں پر بارود کی آگ سے بھسم کر دے، جو قوم آپس کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر دست و گریبان ہو کر اغیا رکی آغوش تلاش کرے، جو قوم نظم و ضبط کی بجائے ہتھیار اٹھا کر اپنے ملک کی اساس کو کمزور کرے، جو قوم کام اورمحنت کرنے کی بجائے دوسروں کی محنت اور املاک پر نظر رکھے، جو قوم اپنا بُرا بھلا نہ سوچے، جو قوم اپنے بانیوں اور راہبروں کے ساتھ راہزنی کرے،جو قوم اس بدترین سیلاب اور زلزلے کے دوران جب کچھ دوست لاشیں اکٹھی کر رہے تھے تو کچھ دوست لاشوں کی جیبوں کی تلاشی میں مصروف تھے اور حالیہ سیلاب سے آنی والی آفات کے دوران لوٹ مار کا عمل جاری کیے ہوئے ہیں۔ ایسی قوموں کو اللہ تعالیٰ وارننگ بھی بھیجتے ہیں اور پھر بھی وہ قومیں راہ راست پر نہ آئیں تو زلزلے اور سیلاب جیسی آفات سے بھی گزارتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں وارننگ پہ وارننگ دے رہا ہے، اپنی واحدانیت کی نشانیاں دکھا رہا ہے،لیکن ہمارے صاحبانِ اقتدار و سیاست ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہے اور اک بے سمت ہجوم بھی ان کا حامی ہے۔ اگر ہم نے آج بھی خدا کی حقیقت کو پہچاننے اوراپنے اعمال درست کرنے کی کوشش نہ کی تو زلزلوں سے آگے کی آزمائش خدا کے پاس موجود ہے۔ سیلاب سے بڑے عذاب بھی اس کی قدرت میں ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus