×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پی پی پی،ن لیگ کی نوراکشتی…کارکنوں کا استحصال
Dated: 24-Sep-2010
عید کے روز وہ پھٹے ہوئے گریبان کے ساتھ جب مجھ سے ملنے آیا تو اس کی آنکھوں میں آنسوئوں کی جھڑی لگی ہوئی تھی۔میں نے پریشانی کے عالم میں پوچھا’’کیا بات ہے،یہ تم نے کیسا حلیہ بنایا ہوا ہے؟‘‘ تو وہ جیسے پھٹ پڑا اس کے ضبط کے تمام بندھن ٹوٹ گئے۔ اس نے بتایا ’’آج نمازِعید کے بعد پارٹی کارکنوں نے مجھے گھیر لیا، زبان سے بات شروع ہوئی تو گریبان پر ہاتھ تک جا پہنچی۔ وہ مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ تم پچھلے ڈیڑھ سال سے ہمیں چھوڑ کر کہاں اور کیوں غائب ہو گئے تھے ہم نے آپ لوگوں کی خاطر اور آپ کی ہر آواز پر لبیک کہتے ہوئے سالہا سال ہر کال پر اپنا سب کچھ دائو پر لگا دیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کی لاڑکانہ میںبرسی ہو یا یکم مئی کا یومِ مزدوراں، شہید محترمہ کی سالگرہ کا دن ہو یا پارٹی کا یوم تاسیس یا پیپلزپارٹی اور اے آرڈی کا کوئی جلسہ یا فنکشن ہم لوگ گاڑیاں بھر کر کارکنوں کو پارٹی کی عزت بڑھانے کے لیے ساتھ لے جاتے رہے۔ صرف روٹی، کپڑا، مکان اور جمہوریت کی خاطر نہیں بلکہ سہانے سپنوں کے بَرآنے اور اچھے دنوں کی امید میں سب کچھ کرتے رہے۔ سوچا کہ پیپلزپارٹی 12سال بعد اقتدار میں آئی ہے تو پارٹی کو کارکنوں کے دیرینہ خواب پورے کرنے سے اب کوئی نہیں روک سکے گا۔‘‘ سید عدنان جعفری میرے آبائی حلقے میں ٹیچر تھا اور اکیڈیمی چلاتا تھا وہ پارٹی سے نظریاتی وابستگی کے باعث میرے قریب تھا اور حلقے میں میرے پرسنل سیکرٹری فاروق شفیع مغل کی شہادت کے بعد وہ میرے سیاسی فرائض انجام دے رہا تھا۔ 2008ء میں انتخابات کے بعد پارٹی نے مجھ سے لاتعلقی برتی تو عدندن جعفری بھی اپنے مستقبل سے مایوس ہو کر سعودی عرب ملازمت کے لیے چلا گیا۔ آج وہ پھٹے گریبان اور بکھرے بالوں کے ساتھ میرے سامنے بیٹھا تھا میں اسے دیکھ کر سوچ رہا تھا کہ کارکنوں کے یہ ہاتھ عدنان کے نہیں میرے گریبان تک پہنچے ہیں۔ اسے اس حال میں دیکھ کر مجھے محسوس ہو رہا تھا کہ میں آئینے میں خود کو دیکھ رہاہوں۔خود میری کیفیت بھی اس سے مختلف نہ تھی۔میں عید کی نماز پڑھ کے گھر آیا تو میں نے بوجھل دل کے ساتھ گھر کی دہلیز پر قدم رکھا۔ وہاں نہ تو میری اہلیہ بدرالنساء سویاں لے کر میرے استقبال کے لیے موجود تھیں نہ میری بیٹی ماہ نور اور نہ ہی بیٹے محمد عبداللہ،جلال احمد،امراء احمد عیدی کے لیے میرے آگے پیچھے کھوم رہے تھے۔ وہ میری پارٹی کی حکومت کے دوران بھی میری پارٹی کے لیے خدمات کے ’’صلے‘‘ میں ہزاروں میل دور کئی سمندر پار جلاوطنی کی زندگی گزارنے پر مجبور کر دیئے گئے ہیں۔ عید سے چند روز قبل امتیاز فاروقی کی والدہ کے چہلم پر افطاری کے وقت دعا کا اہتمام تھا وہاں سینکڑوں جیالے اور قائدین بھی موجود تھے۔ افطاری کے دوران ہی لاہور کے سینئر جیالے مرزا کامران بیگ جو ججوں کی بحالی کی تحریک کے دوران اپنی الگ حیثیت اور شخصیت کے باعث ہمیشہ اونٹ پر بیٹھ کر مظاہروں میں شریک ہوا کرتا تھا۔ اس نے الفاظ کے نشتر سے میرے سمیت پارٹی قیادت کی دھجیاں بکھیر کر رکھ دیں۔ اس نے نہ تھمنے والے احتجاج اور غصیلے لب و لہجہ میں مجھ سے پوچھا، بتائو آج کہاں ہے وہ قیادت اور پارٹی جو ہمیں استعمال کرکے خود اقتدار کے ایوانوں میںبیٹھی ہے اور ہمیں ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا ہے۔ وہ کہہ رہا تھا کہ بھٹو کی پھانسی پر مٹھائی بانٹنے اور خوشیاں منانے والے آج وفاقی وزراء بن کر ہمارے سینے پر مونگ دل رہے ہیں مگر کہاں ہیں وہ لوگ جو بھٹوازم اور سوشلزم کے نام پر ہمیں سال ہا سال سے بے وقوف بناتے چلے آ رہے ہیں۔ وہ چیخ چیخ کر اورنام لے کر پکا ررہا تھا۔مخدوم امین فہیم، رضاربانی، یوسف تالپور، نثار کھوڑو، شیری رحمن، صفدر عباسی، ناہید خان،عبدالقادر شاہین، آفتاب شعبان میرانی اور اعتزاز احسن جیسے لیڈر مجرمانہ خاموشی کیوں اختیار کیے بیٹھے ہیں؟کہاں ہے پارٹی کی فیڈرل کونسل اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی؟ وہ پارٹی کے ایک ٹاپ سینئر لیڈر سے پوچھا رہا تھا کہ آج ٹی وی پر نظر آنے والے کیا یہ لوگ پیپلز پارٹی کا مستقبل بنیں گے؟پنجاب پیپلز پارٹی کے ضلعی صدور اور ڈویژنل کوارڈینیٹر عوام سے الگ تھلگ ہیں۔ پیپلز پارٹی پنجاب کے صدر کا عہدہ کئی ماہ سے خالی پڑا ہے۔ پارٹی کی فیڈرل اور سنٹرل ممبران کی کوئی شنید نہیں ہے۔ وہ پوچھ رہا تھا کہ کیا پیپلز پارٹی نے اگلے الیکشن میں مسلم لیگ ن کو واک اوور دینے کا فیصلہ تو نہیں کر لیا؟ وہ کہہ رہا تھا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن دونوں کی قیادت نوراکشتی میں مصروف ہے عوام اور کارکنوں کو بیوقوف بنانے کا عمل جاری ہے۔ اس میں استحصال غریب کارکنوں کا ہو رہا ہے۔ دراصل یہ میڈیا وار چل رہی ہے جس کا مقصد دو بڑی سیاسی قوتوں کے اقتدار کو اپنے گھر کی لونڈی بنائے رکھنا ہے۔دونوں پارٹیوں کے کارکنوں کو کبھی بجلی کی لوڈشیڈنگ، کبھی آٹے، چاول،گھی، چینی،کھاد اور زرعی ادویات اور پٹرول کی قلت کا سامنا ہوتا ہے اور کبھی سیلاب کی تباہ کاریوں سے ڈرایا جاتا ہے۔ پھر اچانک یہ بیانات آ جاتے ہیں کہ ہمارے پاس وافر گندم کا ذخیرہ موجود ہے پھر یہ دو روپے کی روٹی کے نام پر پنجاب کے خزانے کو کیوں خالی کیا جاتا ہے اور آٹے کے ٹرکوں سے امیر بننے والی پنجاب کی صوبائی اسمبلی کے ممبران کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔ پنجاب بھر کے تمام سیکرٹری سطح کے افسران اور اعلیٰ انتظامی عہدوں پر فائز لوگوں کو نان بائی بنا کر صوبے کی انتظامی مشینری کو اپاہج کر دیا جاتا ہے۔ صوبائی محکموں کی ٹرانسپورٹ ٹاسک فورس کے چیئرمینوں کو نواز نے کے لیے دے دی جاتی ہے۔ ان کا شاہی خزانے سے مشاہرہ بھی چار چار پانچ پانچ لاکھ ماہانہ مقرر ہے دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔طرفہ تماشا یہ کہ عوام کو بے وقوف بنانے اور ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے لیے ایک طرف رانا ثناء اللہ الزامات کی تلوار لے کر نکلتے ہیں اور یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ جس شاخ پر بیٹھے ہیں اسی پر تلوار آزما رہے ہیں اورآج سے چند سال قبل وہ پیپلز پارٹی کے جیالے رہ چکے ہیں۔ سیاسی رواداری تو ان کے قریب سے ہو کر بھی نہیں گزری۔ دوسری طرف پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر کے ناعاقبت اندیش اور سیاسی نابالغ دوست اورنگ زیب برکی ترکی بہ ترکی جواب دے کر اخلاقی حدوں کی بھی پروا نہیں کرتے۔ سلمان تاثیر جب نئے نئے گورنر ہائوس پہنچے تھے تو کارکنوں کی صوبے بھر میں خوشی دیدنی تھی۔ ایسا لگا تھا کہ ایک بار پھر عوامی دربار سج گیا ہے۔ مگر شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار گورنر کے ان سیاسی ناپختہ ذہن ساتھیوں نے رفتہ رفتہ گورنر جو صوبے میں عوام کا نمائندہ ہے کو عوام سے دور کرنا شروع کر دیا اور یہ لوگ گورنر ہائوس کے بیربل اور ملادوپیادے بن گئے۔ پیپلز پارٹی لاہور کے ایک سابق صدر کچھ روز قبل ایک مجلس میں یہ بتاتے ہوئے تقریباً رو پڑے کہ گورنر ہائوس میں اورنگ زیب برکی نے ان کی جو تضحیک کی اس کو وہ کبھی نہیں بھلا سکتے۔اس طرح اورنگ زیب برکی جیسے لوگ گورنر کو عوام اور جیالے کارکنان سے دور رکھ کر نجانے کس کے اشارے پر کون سے مذموم مقاصد کی تکمیل چاہتے ہیں۔ایک دوست کی حیثیت سے میںگورنر پنجاب سلمان تاثیر کی عادات سے کافی حد تک واقف ہوں وہ شریف النفس انسان ہیں اور خود گورنر نے سیاسی کیرئیر میں قیدوبند کی صعوبتیں کاٹی اور ریاستی تشدد کا نشانہ بنے رہے اسی لیے آج گورنر سلمان تاثیر ایک منجھے ہوئے سیاستدان کی طرح پہچانے جاتے ہیں۔تاہم کان بھرنے والے ایسے دوست نما دشمنوں نے ان کو یرغمال بنا لیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گورنر ہائوس جو آج سے چند ماہ قبل تک عوامی دربارکا نقشہ پیش کرتا تھا آج ویران اور سنسان پڑا نظر آتا ہے۔صرف حفیظ الرحمن ملک جو کہ ایک پرانا سیاسی کارکن ہے جھٹلائے ہوئے کارکنوں کی دلجوئی کرتے ہوئے نظر آتا ہے۔ چند روز قبل شکرگڑھ سے ایک جیالا میرے پاس آیا جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے موقع پر ان دس افراد کے ساتھ خودسوزی کی تھی یہ ان میں سے واحد بچ جانے والا ہے جس کا پورا جسم تقریباً جلس چکا ہے۔ اس نے کہا کہ پیپلز پارٹی پرانے کارکنوں کے زخموں پر تو مرہم نہ رکھ سکی چند روز قبل وزیر آبپاشی راجہ ریاض کے اقدامات کے خلاف سرگودھا کے نواح میں 2جیالوں نے احتجاجاً خودکو آگ لگا لی آج وہ ہسپتال میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اسی طرح چند روز قبل وزیراعظم کے گھر کے باہر ایک جیالے نے خودسوزی کی اور وہ جان کی بازی ’’ایوانِ جمہوریت‘‘ کی دہلیز پر ہار گیا۔ اس موقع پر وہاں موجود ایک پی پی کارکن نے لقمہ دیا کہ اگر صدر زرداری عید کے موقع پر خودسوزی پیکیج کا اعلان کرتے تو جیالوں میں اسے یقینا پذیرائی ملتی۔ وہ کہہ رہا تھا کہ پیپلز پارٹی کی قیادت نے جیالوں کی کھالوں کی فروخت کا دھندہ کب سے شروع کر دیا ہے؟ آج صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کو ماضی میں گالیاں دینے اور بھری محفلوں میں غلیظ جملے کسنے والے ایوانِ صدر کی کورکمیٹی اور پیپلز پارٹی کے اعلیٰ پارٹی عہدوں پر براجمان ہیں۔ سالہاسال کی اپوزیشن کی سیاست کرنے والے کارکن یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ کیا پیپلز پارٹی کے اندر نوازے جانے کے لیے گندی زبان کا حامل ہونا اور قیادت کو سرعام گالیاں دینے کا سبق سیکھنا ضروری ہے؟کیا نئی پیپلز پارٹی صرف ملتان اور سندھ کے باسیوں پر مشتمل ہو گی۔سیلاب سے جنوبی پنجاب، سندھ، خیبر پی کے اور بلوچستان کے علاقے متاثر ہوئے اور پیپلز پارٹی ہی کے زیادہ تر ووٹر آسمانی آفت کا شکار ہوئے مگر پیپلز پارٹی میں شامل وڈیروں نے اپنی زمینوں کو بچانے کے لیے بند توڑ کر پانی کا رخ شہروں کی طرف کر دیا۔ پیپلز پارٹی تو وفاق میں پڑے شگاف بند کرنے والی پارٹی تھی لیکن پانی کے بند توڑنے والے پتہ نہیں کہاں سے پارٹی میں آ گھسے ہیں۔ ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین نے اپنے ایک حالیہ بیان میں اعتراف کیا ہے کہ وہ حصولِ روزگار کے لیے ٹھیلہ بھی لگاتے رہے ہیں۔ ٹھیلہ لگانے والا یہ شخص آج قومی اسمبلی، سینٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں ایک موثر طاقت رکھتا ہے جبکہ غریبوں کی پارٹی پیپلز پارٹی میں آج بھی پارٹی کے ایک سینئر رہنما کو یہ برسرعام طعنے دیئے جاتے ہیں کہ وہ ایک پکوڑے بیچنے والے کا بیٹا ہے اس طرح یہ واضح ہو جاتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے اندر مفاہمت کی سیاست جو شہید بھٹو کے دور سے ہی دم توڑ رہی ہے اب اپنی آخری ہچکیوں پر ہے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے پارٹی کے اندر مخدوموں، جاگیرداروں اور غریب کارکنوں کے درمیان مفاہمت کا پل بنانے کا عزم کیا تھا۔ اسی طرح شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پارٹی کے اندر مفاہمت کے عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے بے شمار جاگیرداروں کی لگامیں کھینچی تھیں لیکن پارٹی کے اندر موجود دونوں دھڑوں نے باپ بیٹی کا خون لے کر بھی پارٹی کے اندر مفاہمت کی منزل کو قریب نہیں آنے دیا۔ جیالے قدم قدم پر ہم سے سوال کرتے ہیں کہ صدر صاحب یورپ کے دورے سے واپسی پر صرف سندھ ہی کیوں گئے؟ کیا پنجاب، خیبر پی کے اور بلوچستان سیلاب سے متاثر نہیں ہوئے؟یہ پاکستان کے حصے نہیں ہیں؟ کیا پنجاب کو صرف سیاسی برتری کے لیے ہی استعمال کیا جاتا ہے۔پیپلز پارٹی کے کارکنان کو ایک کے بعد دوسرے ایشوز کا غلام بنا کر وزراء اپنی جیبیں گرم کرنے اور اکائونٹ بھرنے میں مصروف ہیں۔ ایک طرف تو ججوں کے ساتھ مفاہمت کا اعلان کیا جاتا ہے پھر یہ کیا وجہ ہے کہ اعلیٰ عدالتوں کو اپنے ہی فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے دوبارہ سوموٹوایکشن بھی لینے پڑتے ہیں۔کیا اس ملک کی عدالتیں، سیاسی پارٹیاں،فوج اور بیوروکریسی مل کر کوئی ایسالائحہ عمل طے کیوں نہیں کر لیتے جس سے اس ملک کے 18کروڑ عوام کو دودھ اور شہد کی نہریں عملا بہتی ہوئی نظر آئیں۔ ہر روز سیکڑوں کارکن میرے پاس فائلیں لے کر روزگار کی تلاش میں آتے ہیں ایک دن میں نے جھنجھلا کر کچھ لوگوں کے سامنے ہاتھ جوڑ دیئے تو میرے پاس بیٹھے ہوئے ایک سیاسی گُرو نے یہ گُر بتایا کہ تم فائلیں رکھ لیا کرو اور وزراء کی طرح ڈنگ ٹپائو مہم کا حصہ بن جائو مگر مجھے ڈر لگتا ہے کہ ان فائلوں کے بوجھ تلے میں دم گھنٹے سے موت کی لکیر پار نہ کر جائوں۔ گذشتہ روز وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی صاحب نے پاکستان کے عوام کو یہ خوشخبری سنا دی ہے کہ وہ وزیراعظم نہ بھی رہیں تو حضرت غوث الاعظمؒ کی اولاد تو رہیں گے۔یعنی برتری کا احساس وہ کسی بھی صورت ختم ہوتا ہوا پسند نہیں کرتے۔ پاکستان کے عوام بحیثیت انسان سمجھتے ہیں کہ وہ حضرت آدمؑ کی اولاد ہونے کے ناطے سب ایک جیسے ہیں اور خود نبی اکرمؐ نے فرمایا کسی گورے کو کالے پر، عربی کو عجمی پر،امیر کو غریب پر کوئی فوقیت نہیں اوربحیثیت مسلمان ہم حضرت محمد مصطفی ؐ کی امت ہیںاس لیے یہاں کوئی افضل و اعلیٰ نہیں ہے۔ جس دن تبدیلی آئے گی تو حکمران طبقے کے بیشتر لوگ ملک چھوڑ کربھاگ جائیں گے باقی ماندہ اپنی سیاسی رشتہ داریوں کو کیش کرا کر ایک دفعہ پھر یا تو پٹریاٹ بن جائیں گے یا حلیے بدل کر مسجدوں اور درباروں کا رخ کر لیں گے۔ مگر مجھ جیسے چند سرپھروں کے گریبان کارکنوں کی دسترس میں ہوں گے۔اور ہمیں ان وزیروں مشیروں کی سیاہ کاریوں کی پاداش میں ایک مرتبہ پھر قلعوں اور کوٹھڑیوں کی سکونت اختیار کرنا پڑے گی اور ایک مرتبہ پھر نام نہاد جمہوریت کی بحالی کے لیے مال روڈ جیسی شاہراہیں ہمارے خون سے رنگی جائیں گی اور ہم جئے بھٹو کے نعرے لگاتے کبھی نہ ختم ہونے والے سیراب کے پیچھے بھاگتے رہیں گے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus