×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
دوہری شہریت، قومی مفاد کا کیا تقاضا ہے؟
Dated: 07-Jul-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج کل ارکان پارلیمنٹ کی رکنیت اسی طریقے سے معطل ہو رہی ہے جس طرح کچھ عرصہ قبل جعلی ڈگریاں دکھا کر الیکشن لڑنے والے ارکان کی نااہلیت ہو رہی تھی۔ جعلی ڈگریوں والے ہر پارٹی میں پائے گئے تھے کسی میں کم اور کسی میں زیادہ۔ اسی طرح دوہری شہریت والے ارکان پارلیمنٹ بھی ہر قابلِ ذکر اور بڑی پارٹی میں موجود ہیں۔ فی الحال کوئی بھی پارٹی اپنے ان ارکان کو کھونا نہیں چاہتی۔ کسی بھی پاکستان کے اپنے ذاتی مفادات میں کسی دوسرے ملک کی شہریت رکھنے میں کسی کو اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ اس شہریت سے اس کو کافی مراعات حاصل ہوتی ہیں۔لیکن مسئلہ صرف پارلیمنٹیرین کے حوالے سے اٹھا ہے۔ یہ مسئلہ تو پرانا ہے لیکن منظر عام پر اب آیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے قانون کے مطابق دوہری شہریت والا انتخابات میں حصہ نہیں لے سکتا۔ یہ انتخابات بلدیاتی ہوں، قومی و صوبائی اسمبلیوں کے یا سینیٹ کے۔ الیکشن کمیشن نے گذشتہ انتخابات میں اپنے ہی قانون پر عمل درآمد یقینی نہیں بنایا جس کے باعث نہ جانے کتنے دوہری شہریت والے پارلیمنٹ میں پہنچ گئے۔ جس کو اب نااہلی کا سامنا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ آفت محترمہ فرح ناز اصفہانی پر ٹوٹی۔ سپریم کورٹ نے ان کی قومی اسمبلی کی رکنیت معطل کی، اس کے بعد سے وہ امریکہ میں اپنے خاوند حسین حقانی کے پاس چلی گئیں۔ فرح ناز کے بعد چل سو چل ہے۔ اب تک تین بڑی پارٹیوں پی پی پی، مسلم لیگ ن اور ایم کیو ایم کے ارکان معطلی کی زد میں آ چکے ہیں۔ معطلی کے بعد اگلہ مرحلہ نااہلی کا ہے۔ جو ان پارٹیوں کے لیے صدمے کا باعث بن رہاہے۔ رحمن ملک صاحب کا اپنے وعدے کے مطابق برطانوی شہریت چھوڑنے کا سرٹیفیکیٹ پیش نہ کرنے پر رکنیت معطل ہے۔ ان کو حکومت نے وزیر داخلہ سے مشیر داخلہ بنا کر کام چلا لیا۔ اسی طرح مزید کئی اہم شخصیات بھی دہریت شہریت کی حامل ہیں۔ان سب کے سروں پر نااہلی کی تلوار لٹک رہی ہے۔ ایک معاصر کی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بہت سے ترقی یافتہ ممالک میں دوہری شہریت کے حوالے سے قانون ان ممالک کے وسیع تر مفاد میں تشکیل دیا گیا اگر ان ممالک کا شہری دوسرے ملک کی شہریت حاصل کرتا ہے تو اس کی اپنے مادرِ وطن کی شہریت ختم ہو جاتی ہے۔ ان ممالک میں امریکہ ،جاپان، جرمنی، چین، آسٹریا، نیدرلینڈ، سنگارپوری، سعودی عرب، جنوبی افریقہ اور بھارت تک شامل ہیں۔میرا بطور پاکستانی ایمان ہے کہ دوسرے ممالک کی شہریت بطور عام پاکستانی کوئی قباحت نہیں لیکن جب آپ کو پاکستان میں حساس عہدے پر تعینات کیا جاتا ہے تو آپ کو صرف اور صرف پاکستان کی شہریت ہی اپنے پاس رکھنی چاہیے۔ یہی عظیم تر حب الوطنی کا تقاضا اور مادرِ وطن کا حق ہے۔ آپ محبت وطن پاکستانی ہوتے ہوئے کسی دوسرے ملک کی وفاداری کے متحمل نہیں ہو سکتے۔ آپ پاکستان کی پارلیمنٹ کے رکن ہونے کی حیثیت سے کسی بھی اعلیٰ اور حساس سیاسی منصب پر تعینات ہو سکتے ہیں۔اب میں وضاحت کے لیے کہ دوہری شہریت دو کشتیوں میں سواری کے مترادف ہے امریکی شہریت کا حلف نامہ آپ کے سامنے رکھتا ہوں۔ امریکی شہریت کا حلف : ’’میں حلف اٹھاتا ہوں کہ میں امریکی شہریت اختیار کرنے کے بعد امریکہ کے علاوہ کسی بھی ملک، حکومت یا ریاست کے ساتھ کسی قسم کی وابستگی نہیں رکھوں گا اور یہ کہ میں کسی بھی دوسرے ملک کی شہریت سے دستبردار ہو جاؤں گا۔ میں امریکی ریاست، آئین اور قانون کا اندرونی اور بیرونی دشمنوں سے تحفظ کروں گا اور ان کا ہر قیمت پر دفاع کروں گا۔ میں امریکی ریاست، آئین اور قانون کا ہمیشہ وفادار رہوں گا۔ میں قانون کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکہ کے دفاع اور تحفظ کے لئے ہتھیار اٹھاؤں گا۔ میں قانون کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے امریکی افواج میں غیر فوجی خدمات کی ادائیگی کے لئے ہمہ وقت دستیاب ہوں گا۔ میں سول حکومت کی ہدایت پر ہر قسم کا قومی فریضہ سرانجام دینے کے لئے دستیاب ہوں گا۔ میں بقائمی ہوش و حواس اپنی آزادانہ مرضی سے یہ حلف اٹھا رہا ہوں اور اس حلف کے مندرجات سے پہلو تہی کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ خدا میرا حامی و ناصر ہو‘‘۔ ایک نظر برطانوی شہریت کے حلف نامے پر بھی ڈال لیں : ’’میں پوری سنجیدگی اور خلوص نیت سے حلف اٹھاتا ہوں کہ برطانوی شہریت اختیار کر کے میں برطانوی قوانین کی پاسداری میں ملکہ برطانیہ الزبتھ دوئم اور شاہی خاندان کا وفادار رہوں گا۔ میں برطانوی ریاست کا وفادار رہوں گا اور اس کے حقوق و فرائض اور آزادی کی عزت، حفاظت اور احترام کروں گا۔ میں برطانیہ کی جمہوری روایات کو مقدم اور سربلند رکھوں گا۔ برطانوی شہری کی حیثیت سے میں برطانوی قوانین پر مکمل عملدرآمد کروں گا اور اپنے فرائض غفلت کا مرتکب نہیں ہوں گا۔‘‘ دیگر ممالک کی شہریت کے حلف نامے بھی اوپر دیئے گئے حلف ناموں سے ملتے جلتے ہیں۔ ایسے حلف اٹھانے والے کیا پاکستان کی پارلیمنٹ کے رکن ہونے کے ناطے موقع ملنے پر اعلیٰ عہدوں پر تعینات ہوں گے تو کیا پاکستان کے ساتھ ان کی کمٹمنٹ ایسی ہو گی جو صرف پاکستان کی واحد شہریت رکھنے والے کی ہو سکتی ہے؟ سپریم کورٹ کے پیش نظر بھی یہی ایک نکتہ تھا اور ہے ۔ وفاقی کابینہ میں بل لا کر منظور کر لیا گیا ہے۔ دوسری پارٹیوں کے تعاون سے آسانی سے پارلیمنٹیرین کے لیے دوہری شہریت رکھنے کی قانون سازی بھی ہو سکتی ہے۔معاملہ پھر عدلیہ میں جا سکتا ہے۔ معاملہ عدالت لے جانے والوں کا موقف ہو گا کہ چونکہ سپریم کورٹ میں آئین و قانون کی تشریح کا اختیار حاصل ہے اس لیے وہ اس قانون کی بھی انٹرپری ٹیشن کرے۔ معاملہ اس سطح پر گیا تو بدمزدگی ہو گی۔ حکومت اور عدلیہ کے درمیان محاذ آرائی کا مزید تاثر پیدا ہوگا۔ بہتر یہی ہے کہ سیاسی پارٹیاں دوہری شہریت رکھنے والوں کو دوسرے ملک کی شہریت چھوڑنے کو کہیں، جو نہیں مانتے ان کی قربانی دے دیں۔ یہی ملک و قوم کے مفاد ، حب الوطنی کا تقاضا اور عدلیہ کے ساتھ تصادم سے بچنے کا راستہ ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus