×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
صدر کا یو این اسمبلی میں جاندار اور قومی و ملی امنگوں کے مطابق موقف
Dated: 29-Sep-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com صدر آصف علی زرداری کا اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب واقعی ایک محب وطن پاکستانی صدر کا خطاب تھا۔ جس میں نہ صرف عام پاکستانی کی نمائندگی کی گئی ہے بلکہ مسلم اُمہ کا موقف بھی بڑی جرأت کے ساتھ کھل کر بیان کیا گیا ہے۔ آج مسلم اُمہ کو بہت سے نامساعد حالات کا سامنا ہے لیکن جو عالم اسلام کے دلوں میں آج سب سے بڑی چبھن بلکہ زخم ہے وہ حضورِ کریمﷺ کی شانِ اقدس میں گستاخی پر گستاخی ہے۔ کبھی نبی کریمﷺ کے خاکے بنائے جاتے ہیںاور کبھی قرآنِ حکیم کو جلا کر اورزمین و ناپاک جگہ پر گرا کر بے حرمتی کی جاتی ہے اور کبھی گستاخانہ فلم کی سینمائوں اور سوشل میڈیا تک میں نمائش کی جاتی ہے۔ اوپر سے ایسی ناپاک جسارت کرنے والوں کے خلاف ایکشن لینے کے بجائے ان کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ جس پر گستاخی کرنے والوں اور ان کو تحفظ دینے والوں کے خلاف مسلمانوں کے دلوں میں نفرت پائی جاتی ہے اور بعض کا مشتعل ہو جانا بھی فطری امر ہے۔ صدر آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ میں اہل اسلام کے دل کی آواز کو پوری دنیا کے سامنے رکھ دیا۔ صدر صاحب نے گستاخانہ فلم کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالم برادری پر زور دیا کہ ’’نبی پاکﷺ کی شان میں گستاخی کو مجرمانہ فعل قرار دیا جائے۔ اس قسم کی کارروائیوں سے عالم امن خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ عالمی برادری محض خاموش تماشائی کا کردار ادا نہ کرے بلکہ اظہارِ رائے کی آزادی کے غلط عالمی امن کو خطرے میں ڈالنے والی کارروائیوں کو مجرمانہ زمرے میں شامل کیا جائے۔‘‘ اسی فورم پر خطاب کرتے ہوئے صدر اوباما نے کہا:’’گستاخانہ فلم کی مذمت پر پُرتشدد احتجاج بلاجواز ہے، امریکہ کا گستاخانہ فلم سے کوئی تعلق نہیں۔ یہ فلم امریکہ کی بے عزتی ہے۔ لیبیا میں امریکی سفارتخانے پر حملہ امریکہ پر حملہ تھا۔ مسلمانوں کے پیغمبرؐ کی توہین کرنے والوں کی مستقبل میں کوئی جگہ نہیں۔ کسی قسم کی گستاخی لوگوں کو یہ جواز ہرگز مہیا نہیں کرتی کہ لبنان میں ریستوران جلا دیں یا تیونس میں سکول تباہ کر دیں یا پھر پاکستان میں موت اور تباہی کا باعث بنیں۔ فلم پر پُرتشدد مظاہروں کا کوئی جوا زنہیں ،ہم آزادی رائے کا احترام کرتے ہیں۔ ہر عالمی رہنما کی ذمہ داری ہے کہ وہ بھرپور انداز میں تشدد اور انتہا پسندی کی مذمت کرے۔ ہمیں یہ بھی واضح کرنا ہوگا کہ تشدد اور عدم برداشت کی اقوام متحدہ میں کوئی جگہ نہیں ہے۔جوگستاخانہ فلم کی مذمت کر رہے ہیں انہیں چرچ جلانے کی مذمت کرنی چاہیے۔ یقین کیجئے جو گستاخانہ فلم کی مذمت کرتے ہیں انہیں اس نفرت کی بھی مذمت کرنی چاہیے جو ہم نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی تصاویر کی بے حرمتی کے موقع پر دیکھی یا جب گرجا گھروں کو تباہ کیا گیا یا پھر ہولوکاسٹ سے انکار پر بعض لوگ مصر رہے۔ اوباما کا خطاب کسی مدبر اور دانشور کا نہیں مسلمانوں سے نفرت اور اوباما کی بوکھلاہٹ کو ظاہر کرتا ہے۔ امریکی الیکشن میں چیوزمافیا کا ہمیشہ سے کردار رہا ہے۔ اوباما نے اپنی تقریر میں اسی کو خوش کرنے کی کوشش کی ہے۔ تاہم مٹ رومنی ان سے بھی بڑا بدبخت ہے جو اپنی پرسنل میٹنگز میں یہودیوں کو فلسطین مخالف اقدامات کی یقین دہانیاں کرا رہا ہے۔ صدر آصف علی زرداری کے خطاب سے تہذیبوں کے درمیان پائی جانے والی دیوار گرانے کی خواہش پائی جائی ہے تو اوباما اس دیوار کو مزید بلند کرنا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی مسلمان چرچ گرانے اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بے حرمتی کا سوچ بھی نہیں سکتا۔ مردان میں جلائے جانے والے چرچ پر ہر پاکستانی اسی طرح دل گرفتہ ہے جس طرح کسی مسجد کی بربادی پر ہوتا ہے۔ وہ کونسا مسلمان ہے جو ایسے سانحہ پر مذمت کرنے سے گریز کرے؟ چرچ تو بھارت کے انتہا پسند ہندوئوں نے ایک بار نہیں کئی بار جلائے ہیں۔ اوباما مسلمانوں کے شدید ردعمل کے باوجود ملعون فلم سازوں کے بہیمانہ فعل کو آزادی اظہار کا نام دیتے ہیں۔ ساتھ ہی اس گستاخانہ فلم کو امریکی کی بے عزتی بھی سمجھتے ہیں۔ یہ کوئی منافقت کی سی منافقت ہے؟ امریکہ نے مسلمانوں کے پرامن احتجاج کو احترام نہ دیا تو پھر مسلمانوں کے جذبات بے قابو بھی ہو سکتے ہیں۔ نبی کریمﷺ کا احترام ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ غلام احمد بلور جن کی سیکولر کی حیثیت سے بھی پہچان ہے۔ اس نے ملعون فلمساز کا سر قلم کرنے پر ایک لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا ہے۔ اس پر وہ ایک وزیر کے طور پر کرپٹ ہونے کی شہرت کے باوجود جذباتی مسلمانوں کے لیے ہیرو کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔ بلور کی طرح ہو سکتا ہے کہ بہت سے مسلمان ایسے اعلانات تو نہ کریں لیکن کسی بھی مسلمان کے دل میں نبی کریمﷺ کی محبت اسی طرح موجزن ہے۔ اوباما نبی کریمﷺ کی گستاخی کے اقدام کو آزادی اظہار کے پردے میں نہ لپیٹیں۔ صدر پاکستان کے مشورے کے مطابق کسی بھی مذہب اور اس کے رہبر و رہنما کے بارے میں بدزبانی کو جرم قرار دے کر اس کے لیے سزا مقرر کریں۔ دوسری صورت میں حالات بد سے بدتر ہوتے چلے جائیں گے۔ اوباما کو ہولوکاسٹ پر تنقید پر بڑی بے چینی ہے۔ ان کے ایسے ہی جذبات آفاقی پیغمبرﷺ کی شان میں گستاخی پر بھی ہونے چاہئیں۔ لیبیا میں امریکی سفیر پُر تشدد مظاہروں کے دوران تین ساتھیوں سمیت مارا گیا اس کی کسی مسلمان نے تحسین نہیں کی ۔ پاکستان میں جمعہ21ستمبر کو ہونے والے بعض پُرتشدد مظاہروں کو بھی اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا۔ حکومتی پالیسیوں سے تنگ آئے لوگ بھی یقینا تشدد پر مائل ہو سکتے تھے لیکن حکومت نے اچھی پلاننگ کی کہ جمعتہ المبارک کو یومِ عشق رسول ﷺ قرار دے دیا۔ یاد رکھیے کہ پاکستان میں اس روز کروڑوں مسلمان سڑکوں پر آئے اور پرامن مظاہرے کیے لیکن توڑ پھوڑ بڑے شہروں میں ہوئی جہاں امریکی سفارت خانہ اور قونصلیٹ ہیں۔باقی کسی بھی چھوٹے بڑے شہر اور قصبے میں معمولی سا نقصان بھی نہیں ہوا۔ یہ مغرب کے لیے وارننگ ہے اور گیند ان کی کورٹ میں ہے۔ عالمی امن کو خراب ہونے سے بچانے کے لیے وہ مسلمانوں کے جذبات کا احترام کرے۔ گستاخانہ فلم بنانے والوں کو نکیل ڈالے اور ایسا کرنے کو جرم قرار دیتے ہوئے ان کے لیے کڑی سزا مقرر کرے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus